عالمی امن خطرے سے دوچار ہے: پیرس اجتماع میں عالمی لیڈروں کا اظہارِ تشویش

Paris Peace Forum

Paris Peace Forum

پیرس (جیوڈیسک) دنیا بھر سے آئے ہوئے عالمی لیڈروں نے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اتوار کو منعقدہ پہلی عالمی جنگ کے خاتمے کی صدی تقریبات میں شرکت کی ہے۔ جنگ بندی کو ایک سو سال پورا ہونے پر ’ پیرس امن فورم ‘کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس میں شریک عالمی لیڈروں نے خبردار کیا ہے کہ اس وقت دنیا کا امن خطرے سے دوچار ہے۔

اس تین روزہ فورم کا مقصد امن کے لیے ٹھوس اقدامات کا فروغ اور کثیرالجہت پالیسیوں کی حوصلہ افزائی ہے۔ میزبان فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے فورم کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ’’ دنیا کا استحکام قومیت پرستی ، نسل پرستی ، انتہا پسندی ،اقتصادی ، ماحولیاتی اور تارکین ِ وطن کے مسائل کی وجہ سے خطرے سے دوچار ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’جنگ بندی کی یاد میں پیرس میں منعقدہ تقریب میں دنیا کے چوراسی لیڈروں کی شرکت ایک تاریخی موقع ہے۔مستقبل کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ اس امیج کی کس طریقے سے تشریح کی جاتی ہے۔اس کو اقوام کے درمیان ایک پائیدار امن کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے یا اس کو دنیا میں ایک نئی اکھاڑ پچھاڑ سے قبل اتحاد کے ایک آخری لمحے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔یہ سب اب ہم پر منحصر ہے‘‘۔

صدر ماکروں نے کہا کہ پیرس امن فورم کا مقصد دنیا میں قیام امن کے لیے ٹھوس اقدامات کا فروغ ہے اور اس کا ہر سال اعادہ کیا جانا چاہیے۔

پہلی عالمی جنگ میں جرمنی کی اتحادیوں کے ہاتھوں شکست کے ایک سو سال پورے ہونے پر منعقدہ امن فورم میں جرمن چانسلر اینجیلا میرکل نے اپنی تقریر میں کہا کہ’’ ہمیں صرف کھڑے ہوکر ہی دنیا بھر میں رونما ہونے والے تنازعات کو دیکھتے نہیں رہنا چاہیے‘‘۔

انھوں نے قومی تفاخر اور فوجی رعونت کی مذمت کی جس کے نتیجے میں دو عالمی جنگیں شروع ہوئیں اور ان میں ناحق لاکھوں لوگوں کا خون بہا۔ان کاکہنا تھا کہ ہمیں امن کے لیے کام کرنا ہوگا۔

انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’امریکا سب سے پہلے‘ پالیسی اور کثیرالجہت تعاون کے حوالے سے پس وپیش سے کام لینے پر دبے لفظوں میں تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ’’ابلاغ میں کمی اور سمجھوتے پر عدم رضامندی کے مہلک مضمرات ہوسکتے ہیں‘‘۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے اپنی تقریر میں خبردار کیا کہ دنیا میں اس وقت بہت سی ایسی وجوہ موجود ہیں جن کی بنا پر آج کی دنیا کا امن تہ وبالا ہوسکتا ہے۔انھوں نے اس ضمن میں تجارتی تنازعات ، بڑھتی ہوئی انتشاری سیاست اور 2008ء میں رونما ہونے والے مالیاتی بحران کا سبب ناہمواریوں اور عدم مساوات کو حل نہ کرنے کا حوالہ دیا ۔

انھوں نے بالخصوص یورپی یونین میں’’اعتماد کے بحران‘‘ کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس بلاک نے دوسری عالمی جنگ کی راکھ سے جعلی طور پر جنم لیا تھا اور یہ منصوبہ ناکامی سے دوچار ہوا چاہتا ہے۔

انھوں نے اقوام متحدہ میں درپیش مسائل کو تسلیم کیا لیکن اس عالمی ادارے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے ہی گذشتہ تہتر سال سے جنگ رُکی ہوئی ہے۔انھوں نے’ سمجھوتے کی روح‘ کم زور پڑنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کو جمہوریتوں میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امن فورم میں شرکت نہیں کی ہے۔وہ کثیر قومی تنظیموں کو تنقید کا نشانہ بناتے اور سب سے پہلے امریکا کا نعرہ بلند کرتے رہتے ہیں۔انھیں ان پالیسیوں کی وجہ سے ہی اس فورم میں دبے اور کھلے لفظوں میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔