یہ رسم وہاں جمہوری تھی

Democracy

Democracy

تحریر : نسیم الحق زاہدی

آج کاکالم کی شروعات اللہ تعالیٰ کے بابرکت نام کے بعد اردوزبان کے معروف اوربینائی سے محروم محقق،ادیب ،شارح،شاعر مرحوم اقبال عظیم کے اس مشہور کلام سے کررہا ہوں ۔
منصب تو ہمیں بھی مل سکتے تھے لیکن شرط حضوری تھی
یہ شرط ہمیں منظور نہ تھی ، بس اتنی سی مجبوری تھی
جس نگری میں ہم رہتے تھے ،سلطان وہاں کا جابرتھا
اور جبر کا اذِن عام تھا ، یہ رسم وہاں جمہوری تھی
کچھ درد ساہے تو پہلو میں،پہلے سے لیکن ہلکا ہے
یادست جفا کچھ نازک تھا یا شاید ضرب ادھوری تھی
نظریں بھی ملیں ،کچھ لب بھی ہلے ،ماتھے پہ شکن بھی اک ابھری
گو منہ سے اس نے بات نہیں کی ،بات تو لیکن پوری تھی
یہ بات ہے برسوں پہلے کی جب ہم بھی عینی شاہد تھے
اک دوربہاراں آیا تھا لیکن وہ بہار ادھوری تھی
ہم ٹھوکر کھا کر جب بھی گرے ،رہ گیروں کو آواز نہ دی
وہ آنکھوں کی معذوری تھی ،یہ غیرت کی مجبوری تھی
لہجے میںانا ،ماتھے پہ شکن ،اس وقت کا عین تقاضا ہے
اب ہر وہ بات ضروری ہے جو پہلے غیر ضروری تھی
ہم اہل سخن کی قیمت ہے اقبال زبانی دادودہش
کل محفل میں جو ہم کو ملی ،وہ داد نہ تھی مزدوری تھی

مرحوم اقبال عظیم یوں تو بینائی سے محروم تھے مگر اس غلام سسٹم (نظام) کی جو انہوں نے تصویر کشی کی ہے خداکی قسم وہ کرورڑوں آنکھوں والے غلام ابن غلام بھی کرنے سے قاصر ہیں ۔کیا کروں میں ان فرسودہ روایات کا منکر اور اس بوسیدہ نظام کا باغی ہوں ،سچ لکھنے اور بولنے کی سزائوں سے واقف ہونے کے باوجود اس کی لذت سے آشنا ہوں کہ جومزہ سولی پر جھول کر اور خود اپنے ہاتھوں سے زہر کا پینے کا ہے وہ غلامی کی زنجیروں میںجھکڑے اہل منصب کیا جانیں ؟اس لیے میں سچ کو نہیں چھوڑ سکتا ۔صرف اتنا جانتا ہوں کہ وطن عزیز میں گذشتہ 73 سالوں سے مذہب اور عوام کی خدمت کے نام پر بھولے بھالے لوگوں کو بیوقوف بنایا جارہا ہے۔

یہاں نہ تو مذہب رائج ہے اور نہ ہی جمہوریت ہے صرف استحصال کے سوا کچھ نہیں وہ غریبوں ،بے بسوں،لاچاروںکا صدیوں ہوتا چلا آرہا ہے کبھی مذہب کا لبادہ اوڑھ کر تو کبھی جمہوریت کے نعرے لگا کر میں چاہتا ہوں کہ میرے سوالات حکومتی معاملات میں مداخلت سمجھے جائیںاور میری موت کو ہی جمہوریت کی بقا ء سمجھا جائے اور مجھے اپنے ہاتھوں سے زہر کا پیالہ پینا پڑے ۔مگر کم از کم میں اپنی زبان کو بند نہیں کرسکتا اور میں توپوچھوں گا حاکم وقت سے پوچھوں گا کہ کہاں ہیں آپ کے بلند وبانگ دعوے ٰآپ تو اس بوسیدہ ناکارہ سسٹم کو تبدیل کرنے آئے تھے آپ بھی اسی سسٹم کا حصہ بن گئے ہیں کہاں ہیں وہ ایک کروڑ گھر وہ نوکریاں کہاں ہے وہ” انصاف “اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں ۔2013سے لیکر 2018کے الیکشن ہونے تک موجودہ حاکم وقت نے جہاں ایک جانب ماضی کے حکمرانوں پر تنقید کے تیر برسائے تھے تو وہاں پر عمران خان نے اپنی جماعت کو اس حیثیت میں پیش کیا تھا جو برسراقتدار آتے ہی صرف 90دن میں ملک کے حالات کو تبدیل کردے گی۔

مجھے وزیراعظم عمران کی نیت پر کوئی شک نہیں مگر انکی اب تک کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے منصوبہ بندی کا شدید فقدان نظر آتا ہے ۔جس کی زندہ مثال وفاقی وزیر فواد چوہدری کا یہ اعتراف جو انہوں نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کیا کہ انکی جماعت کی سب سے زیادہ مقبولیت پاکستان کے مڈل کلاس یعنی متوسط طبقے میں ہے انہی کی حمایت کی مدد سے پی ٹی آئی اقتدار میں آئی مگر وہ معاشی صورتحال کے پیش نظر ان کے لیے کوئی سہولت نہ دے سکی۔تبدیلی کہاں آئی ہے ؟۔ہمیں وزیر اعظم کی سادگی مہم سے کیا لینا دینا یہ حکمرانوں کی پرانی ریت رہی ہے کہ الیکشن سے پہلے عوام عوام کا ورد کرنا اور اس کے بعد عوام کا قتل عام کرنا، سب کچھ تو پہلے جیسا ہے وہی پروٹوکول ناز ونخرے ڈالر کی اڑان ،اخلاقیات کا فقدان ،مہنگائی کا طوفان اور حسب روایت صرف تبدیلی کے کھوکھلے بیان ۔ہسپتالوں میں ادویات میسر نہیں ،تھانوں وڈیروں ،جاگیرداروں کی ذاتی عدالتیں ہیں جہاں پر بیٹھ کر وہ اپنی مرضی کے فیصلے صادر کرتے ہیں۔

پٹرولیم مصنوعات سے لیکر سونا،گیس ،پانی ،بجلی حتیٰ کہ سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ،مسلمانوں کا مذہبی فریضہ حج اس قدر مہنگا کردیا جاچکا ہے کہ وزیر مذہبی امور فرماتے ہیں حج غریبوں پر فرض نہیں دلیل تو مناسب اور بجا ہے ۔نئے سال کاتحفہ غریب عوام پر مہنگائی کے میزائلوں کو مار کردیا گیا ہے ۔کوئی شک کی گنجائش ہی نہیں کہ وزیراعظم کی معاشی ٹیم مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف نے بغیر کسی منصوبہ بندی کے حکومت شروع کی جس کی سزا ملک کو بھگتنی پڑرہی ہے ۔ملک مسلسل خسارے میں جارہا ہے ۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان پاکستان کو مدینہ طیبہ ۖ کی طرز کی ایک فلاحی ریاست بنانے کا دعویٰ کرتے تھے مگر افسوس موجودہ صورتحال میں غریب کا زندہ رہنا محال ہوچکا ہے ۔یہاںسانسوں پہ تعزیریں ہیں ۔مثالیں ریاست مدینہ ۖ اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی اور طرز زیست اغیار کا ۔لوگو !میں تم پر حاکم بنایا گیا ہوں حالانکہ میں تمہاری جماعت میںسے بہتر نہیں ہوں ۔اگر میں اچھا کام کروں تو میری اطاعت کرواگر کج روی اختیار کروں تو سیدھا کردو۔

سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت ۔تمہارا ضعیف فرد بھی میرے نزدیک قومی ہے یہاں تک کہ دوسروں سے اس کا حق اس کو نہ دلا دوںاور تمہارا قومی شخص میرے نزدیک ضعیف ہے یہاں تک کہ میں اس سے دوسروں کا حق نہ حاصل کرلوں ۔یاد رکھو!جو قوم جہاد فی سبیل اللہ چھوڑ دیتی ہے خدا اس قوم کو ذلیل وخوار کردیتا ہے اور جس قوم میں بدکاری پھیل جاتی ہے خدا اس کو مصیبت میں مبتلا کردیتا ہے ۔اگر میں خدا اور اس کے رسول ۖ کی اطاعت کروںتو میری اطاعت کرو اور نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت لازم نہیں ۔(طبقات ابن سعد ) یہ حضرت ابوبکرۖکا پہلا خطاب تھا خلیفہ بننے کے بعد ۔ حضرت ابوبکر صدیق جب خلیفہ بنے ۔تو آپکی تنخواہ کا سوال آیا ۔آپ نے فرمایا :مدینہ میں ایک مزدور کو جو یومیہ اجرت دی جاتی ہے۔

اتنی ہی میرے لیے مقرر کرو ایک صحابی بولے اس میں آپکا گزاراہ کیسے ہوگا ؟؟؟آپ نے فرمایا میرا گزارہ اسی طرح ہوگا جس طرح ایک مزدور کا ہوتا ہے ۔ہاں اگر میرا گزارہ نہ ہو اتو میں مزدورکی اجرت بڑھا دونگا۔یہ تھے امیرالمومینن حضرت ابوبکرصدیق کا دور خلافت اور یا امیرالپاکستان یہ ہے آپ کا دور حکومت کہ “انصاف “کے نام پر انصاف کا قتل عام ہورہا ہے ۔وزیراعظم عمران خان اگر آپ وطن عزیز میں تبدیلی چاہتے ہیں تو آپ ریاست میں “انصاف”رائج کردیں یقین مانیے ایسا انقلاب برپا ہوگا کہ قومیں ہماری مثالیں دیا کریگی ۔کیونکہ فرمان مصطفیۖ ہے کہ وہ معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے جس میں قانون امیر کے لیے کچھ اور ہوتا ہو اور غریب کے لیے کچھ اورہوتا ہو ۔وزیر اعظم پاکستان آپ صرف نبی رحمت ۖکے ایک فرمان کریم پر عمل درآمد شروع کردیں یقین جانیے ریاست مدینہۖکی طرز کی فلاحی ریاست کی بنیادکا قیام عمل میں آجائے گا۔۔۔۔۔۔۔

Naseem Ul Haq Zahidi

Naseem Ul Haq Zahidi

تحریر : نسیم الحق زاہدی