حضرت عثمان اور حضرت حسین کی شہادتوں میں کیا مناسبت تھی؟

Hazrat Imam Hussain

Hazrat Imam Hussain

تحریر : محمد سہیل
حضرت عثمان اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی شہادتوں میں بہت سے پہلو مشترک ہیں۔ سب سے پہلے یہ تقابل حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کیا تھا جس وقت انہوں نے حضرت حسین کو عراق جانے سے روکا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا: “اگر جانا ہی ٹھہرا تو خواتن اور بچوں کو ساتھ نہ لے جائےح واللہ! مجھے ڈر ہے کہ کہںھ حضرت عثمان کی طرح آپ بھی اپنی خواتنل اور بچوں کے سامنے قتل نہ کر دیے جائںس۔” حضرت ابن عباس کی یہ پیش گوئی پوری ہوئی اور حضرت حسین کو بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کی طرح ان کے اہل و عیال کے سامنے شہید کیا گیا۔ حضرت عثمان کی شہادت سے کچھ ہی دیر پہلے جس آخری شخص نے آپ سے ملاقات کی تھی، وہ حضرت حسین ہی تھے۔ ان دونوں بزرگوں کی شہادتوں میں یہ پہلو بھی مشترک ہے کہ دونوں ہی کو نہایت مظلومیت کے ساتھ شہید کیا گیا۔ جیسے حضرت عثمان کے ساتھ حسن و حسین سمیت چند ہی ساتھی تھے جبکہ ان کے مخالفین ہزاروں کی تعداد میں تھے، ویسے ہی حضرت حسین کے ساتھ بھی چند ہی ساتھی تھے اور ان کے مخالفین بھی ہزاروں کی تعداد میں تھے۔ حضرت عثمان اور حسین رضی اللہ عنہما کی شہادتوں میں دوسری مناسبت یہ ہے کہ دونوں ہی باغی تحریک کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ تیسری مناسبت یہ ہے کہ جیسے قاتلین عثمان اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے ، ویسے ہی قاتلین حسین بھی خائب و خاسر رہے۔ حضرت عثمان کے قاتلوں کا مقصد یہ تھا کہ وہ اقتدار پر قابض ہو جائیں اور کسی کٹھ پتلی خلیفہ کے پردے میں اپنا اقتدار قائم کر سکیں۔ حضرت علی، حسن اور معاویہ رضی اللہ عنہم نے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہونے دی۔ بالکل اسی طرح قاتلین حسین کا مقصد یہ تھا کہ آپ کو شہید کر کے وہ یزید سے کچھ انعام و اکرام حاصل کریں۔ یزید نے ان کی یہ خواہش پوری نہ کی۔ جیسے قاتلین عثمان کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما نے چن چن کر گرفتار کیا اور پھر مقدمہ چلا کر انہیں موت کی سزا دی، بالکل اسی طرح قاتلین حسین کو بھی مختار ثقفی کے دور میں چن چن کر قتل کیا گیا۔ حضرت عثمان اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی شہادتوں میں ایک مناسبت یہ بھی ہے کہ دونوں کے نام کو جنگ و جدال کے لیے استعمال کیا گیا۔ ناصبی فرقے نے حضرت عثمان کا نام لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہما کے خلاف پراپیگنڈا کیا، بالکل ویسے ہی باغی تحریک نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا نام لے کر بنو امیہ کی حکومتوں کے خلاف پراپیگنڈا کیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے ادوار میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نام پرکیا جانے والا پراپیگنڈا ختم ہو گیا جبکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر کیا جانے والا پراپیگنڈا اب بھی جاری ہے۔ اس معاملے میں کسی مخصوص فرقے کی اجارہ داری نہیں ہے بلکہ جب بھی جس باغی تحریک کو ضرورت پڑتی ہے، تو وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا نام استعمال کرتی ہے۔ یہاں پر تاریخ کے طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ حضرت حسین کے نام کے ساتھ ہی کیوں کیا جاتا ہے اور حضرت عثمان کو بالکل ہی نظر انداز کیوں کر دیا گیا ہے؟ اس کی وجہ اصل میں یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے اور آپ کے خلاف اٹھنے والے باغی تھے۔ اس وجہ سے باغی تحریکوں کو آپ کا نام لینے میں کوئی فائدہ محسوس نہیں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو معاذ اللہ ایک ایسے باغی سے تشبیہ دی جاتی ہے جو ظالم حکمران کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے بعد خون کو گرمانے والے اشعار پڑھے جاتے ہیں اور تحریکی کارکنوں کو بغاوت کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ تفصیل بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے دور کے سیاسی لیڈروں کے ہتھکنڈوں کو سمجھیں جو ان بزرگوں کے مقدس نام استعمال کر کے سادہ لوح نوجوانوں کو اپنے اقتدار کی راہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ لیڈر خود کم ہی جان دیتے ہیں اور اپنے سادہ لوح کارکنوں کو جان دینے کی زیادہ ترغیب دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کوئی بغاوت نہیں کی اور نہ ہی فتنہ و فساد برپا کیا۔ آپ عراق میں انارکی کو ختم کرنے کے لیے تشریف لے گئے تھے اور جب آپ کو یہ علم ہوا کہ وہاں حکومت قائم ہو چکی ہے تو مسلمانوں کی اجتماعیت کو برقرار رکھنے کے لیے آپ یزید کے پاس جا کر براہ راست معاملہ طے کرنے کے لیے بھی تیار ہو گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس کے باوجود بھی آپ کو شہید کیا گیا تو پورے عالم اسلام میں آپ کے قتل کو مظلومانہ قتل ہی قرار دیا گیا۔ سانحہ کربلا کی داستانیں کس حد تک قابل اعتماد ہیں سانحہ کربلا چونکہ ایک بڑا سانحہ تھا اور اس نے عالم اسلام پر بڑے نفسیاتی اثرات مرتب کیے، اس وجہ سے یہ مورخین کے زمرے سے نکل کر عام قصہ گو حضرات، شاعروں اور خطیبوں کی محفلوں کا موضوع بن گیا۔ ان کے ساتھ ساتھ باغی تحریک سے تعلق رکھنے والے قصہ گو خطیبوں اور شاعروں نے جلتی آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کیا۔ ایک عام خطیب یا شاعر کو اس بات سے دلچسپی نہیں ہوتی ہے کہ واقعے کو ٹھیک ٹھیک بیان کیا جائے بلکہ اس کی دلچسپی اس بات سے ہوتی ہے کہ ایسی کیا بات کی جائے جس سے سامعین کے جذبات بھڑکیں، وہ روئیں اور چلائیں، اپنے گریبان چاک کر دیں اور خطیب یا شاعر کو اٹھ کر داد دیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان حضرات نے سانحہ کربلا کی ایسی ایسی مبالغہ آمیز داستانیں وضع کیں جن کا تصور بھی شاید ابو مخنف نے بھی نہ کیا ہو گا۔ ان داستانوں کی کوئی سند نہیں ہے اور نہ یہ تاریخ کی کسی کتاب میں موجود ہیں۔ بس جاہل قسم کے واعظ اور شاعر انہیں بیان کر دیتے ہیں۔ یہاں ہم ان مبالغہ آمیز داستانوں کی چند مثالیں پیش کر رہے ہیں جو عام مشہور ہیں۔

1۔ یہ بات عام طور پر مشہور کر دی گئی ہے کہ کربلا میں تین دن تک حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل بیت کا پانی بند کر دیا گیا تھا اور وہ پیاسے شہید ہوئے تھے۔ خود ابو مخنف کی روایت سے اس کی تردید ہوتی ہے جو کہ طبری میں موجود ہے قال أبو مخنف: حدثنا عبد الله بن عاصم الفائشي- بطن من همدان- عن الضحاك بن عبد الله المشرقي:۔۔۔ (سانحہ کربلا کی رات سیدہ زینب رضی اللہ عنہا شدت غم سے بے ہوش ہو گئیں۔) بہن کا حال دیکھ کر حضرت حسین کھڑے ہو گئے ۔ ان کے پاس آ کر چہرہ پر پانی چھڑکا اور فرمایا: “پیاری بہن! اللہ کا خوف کرو اور اللہ کے لیے صبر کرو۔ اس بات کو سمجھو کہ روئے زمین پر سب مرنے والے ہیں۔ اہل آسمان بھی باقی نہ رہیں گے۔ بس اللہ کی ذات کے سوا جس نے اپنی قدرت سے اس زمین کو پیدا کیا ہے اور جو مخلوق کو زندہ کر کے واپس لائے گا، وہی اکیلا اور تنہا ہے۔ سب چیزیں مٹ جانے والی ہیں۔ میرے والد مجھ سے بہتر تھے، میری والدہ تم سے بہتر تھیں، میرے بھائی مجھ سے بہتر تھے۔ مجھے اور ان سب کو اور ہر مسلمان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو دیکھ کر اطمینان ہو جانا چاہیے۔ ” اسی طرح کی باتیں کر کے آپ نے انہیں سمجھایا اور پھر فرمایا: “پیاری بہن! میں تمہیں قسم دیتا ہوں اور میری اس قسم کو پورا کرنا۔ میں مر جاؤں تو میرے غم میں گریبان چاک مت کرنا، منہ کو نہ پیٹنا، ہلاکت و موت کو نہ پکارنا۔ ” اس روایت میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی ہمشیرہ کو جو نصیحت فرمائی، اسے ہماری خواتین کو بھی پلے باندھ لینا چاہیے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سانحہ کی آخری رات بھی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس پانی موجود تھا جو آپ نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے چہرے پر چھڑکا۔ ویسے بھی کربلا دریائے فرات کے کنارے پر واقع ہے۔ دریا کے پانی کا پھیلاؤ اتنا ہے کہ اس کی وجہ سے اس علاقے میں ایک بڑی جھیل موجود ہے جو کہ ’’بحیرہ رزازہ‘‘ کہلاتی ہے اور کربلا شہر سے محض 18 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ آج بھی گوگل ارتھ کی مدد سے اس پورے علاقے کو دیکھا جا سکتا ہے ۔ فرات ایک دریا ہے، کوئی چھوٹا موٹا چشمہ نہیں ہے جس کا پانی روک لیا جائے۔اگر ایک جگہ دشمن نے پہرہ لگا دیا تھا تو دوسری جگہ سے پانی حاصل کیا جا سکتا تھا۔ اس روایت کے کچھ بعد طبری نے ایک اور روایت نقل کی ہے جس کے مطابق حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ایک بڑے ٹب میں مشک کو پانی میں حل کرنے کا حکم دیا تاکہ اسے جسم پر ملا جا سکے۔ اگر پینے کے لیے پانی نہ تھا تو پھر پہلوانوں کی طرح نورہ لگانے کے لیے ٹب جتنا پانی کہاں سے آ گیا؟
قال أبو مخنف: حدثني فضيل بن خديج الكندي، عن محمد بن بشر، عن عمرو الحضرمي، قال: جب یہ لوگ (سرکاری فوج) آپ (حضرت حسین) سے جنگ کے لیے آگے بڑھے، تو آپ نے حکم دیا کہ بڑا خیمہ نصب کیا جائے۔ چنانچہ اسے نصب کر دیا گیا۔ آپ نے حکم دیا کہ ایک بڑے برتن میں مشک کو پانی میں حل کیا جائے۔ جب اسے حل کر لیا گیا تو اب آپ خیمہ کے اندر نورہ لگانے کے لیے گئے۔

2۔ ایک اور مبالغہ آمیز بیان یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے دشمن فوج کے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا اور کشتوں کے پشتے لگا دیے۔ بعض روایتوں میں یہ تعداد دو ہزار اور بعض میں تین لاکھ تک آئی ہے۔ اس روایت کے مبالغے کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ہر آدمی کے ساتھ مقابلہ کرنے اور اسے پچھاڑ کر قتل کرنے کے لیے ایک منٹ بھی درکار ہو تو 2000 افراد کو قتل کرنے کے لیے 2000 منٹ تو چاہیے ہوں گے، یہ تقریبا 33 گھنٹے بنتے ہیں۔ ابو مخنف کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سانحہ ایک آدھ گھنٹے میں ہو کر ختم ہو گیا تھا۔
3۔ ایک اور مبالغہ آمیز بیان یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر شہداء کے سروں کو نیزوں پر لگا کر انہیں آپ کے اہل خانہ کے ساتھ شہر بہ شہر جلوس کی صورت میں پھرایا گیا اور اس حالت میں بھی حضرت حسین کے مبارک لبوں سے تلاوت قرآن مجید کی آواز سنی گئی۔ اگر کوئی آج بھی یہ کام کرے تو اسے سیاسی خود کشی ہی کہا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو جہاں جہاں سے یہ جلوس گزرتا جاتا، بغاوت کھڑی ہوتی چلی جاتی۔ پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسی کوئی حرکت کی جاتی تو اسے دیکھنے والے ہزاروں ہوتے۔ کیا ان میں سے کسی کی غیرت نے جوش نہیں مارا؟ اس وقت موجود درجنوں صحابہ اور ہزاروں تابعین میں سے کیا دو چار سو لوگ بھی ایسے نہ تھے جنہوں نے اس جلوس کو دیکھ کر یزید کے سامنے کلمہ حق ہی کہا ہو؟ اس قسم کی درجنوں مبالغہ آمیز داستانیں ہمارے ہاں خطیب اور شاعر عام بیان کرتے نظر آتے ہیں لیکن ہم انہی پر اکتفا کرتے ہیں۔
سانحہ کربلا کی روایات کس حد تک مستند ہیں؟ سانحہ کربلا کے موضوع پر بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں۔ محرم الحرام میں بہت سے واعظ اور ذاکرین رو رو کر سانحہ کربلا کی داستان کچھ اس طریقے سے سناتے ہیں جیسے وہ اس واقعے کے چشم دید گواہ ہوں اور انہوں نے اس سانحے کو باقاعدہ ریکارڈ کیا ہو۔ تاریخ میں اس واقعے سے متعلق جیسا جھوٹ گھڑا گیا ہے، شاید ہی کسی اور واقعے سے متعلق گھڑا گیا ہو۔ عجیب بات یہ ہے کہ اولین کتب تاریخ میں اس واقعے کو صرف ایک شخص نے پوری تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اور اس کا نام ہے ابو مخنف لوط بن یحیی۔ ان سے بالعموم جو صاحب روایت کرتے ہیں، ان کا نام ہشام کلبی ہے۔ ان دونوں راویوں سے ہمارا اس کتاب میں پرانا تعلق ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ دونوں نہایت ہی متعصب مورخ ہیں اور مخصوص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں سخت بغض رکھتے ہیں۔ تاریخ طبری میں سوائے چند ایک کے، سانحہ کربلا کی تقریباً سبھی روایات انہی دونوں سے مروی ہیں۔ ان دونوں راویوں کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ سے بغض اتنا نمایاں ہے کہ انہوں نے ان روایات میں بھی جگہ جگہ اس بغض کو داخل کر دیا ہے۔
تاریخ کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ کسی شخص یا واقعے کے بارے میں اس سے متعصب راوی کی روایت کو قبول نہ کیا جائے۔ اس وجہ سے مناسب یہی رہے گا کہ ہم ابو مخنف اور ہشام کلبی کی روایات سے اجتناب کریں۔ ان دونوں کے علاوہ ایک اور ناقابل اعتماد مورخ محمد بن عمر الواقدی کی بعض روایتیں سانحہ کربلا سے متعلق ہیں، جن کے بارے میں بھی ہمیں معلوم ہے کہ وہ ہر جھوٹی سچی بات کو ملا کر ایک کہانی بناتے ہیں اور پھر بغیر کسی سند کے بیان کر دیتے ہیں۔ کبھی وہ سند بھی بیان کر دیتے ہیں جو بالعموم مکمل نہیں ہوتی ہے۔

Tabari

Tabari

تاریخ طبری کے بارے میں 129 روایات کا بڑا حصہ ابو مخنف، ہشام کلبی اور واقدی سے مروی ہے۔ طبری سے پہلے کے مورخین میں ابن سعد (d. 230/845) ہیں جو کہ ہیں تو واقدی کے شاگرد ، لیکن بذات خود ایک قابل اعتماد مورخ ہیں۔ ان کے بارے میں محدثین کا یہ اصول ہم بیان کر چکے ہیں کہ ان کی وہ روایات، جو وہ واقدی کےعلاوہ کسی اور سے روایت کرتے ہیں، پر اعتماد کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ ان کے راوی قابل اعتماد ہوں۔ ابن سعد نے سانحہ کربلا کے واقعات سے متعلق 23 روایات اپنی کتاب میں درج کی ہیں،لیکن ان میں سے ایک روایت وہ ہے جو انہوں نے مختلف اسناد کو ملا کر پورے واقعہ کو ایک طویل کہانی کی صورت میں بیان کی ہے۔ بقیہ 22 چھوٹی چھوٹی روایتیں ہیں جن میں ابن سعد نے واقعے کی کچھ جزوی تفصیلات کو نقل کیا ہے اور ان میں کوئی خاص بات نہیں ہے۔ ان میں سے ہر روایت کو نقل کرنے کے بعد وہ رجع الحديث إلى الأول (اب ہم پہلے بیان کی طرف واپس پلٹتے ہیں) کے الفاظ لکھ کر اسی طویل روایت کو بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ روایت 25-26 صفحات پر پھیلی ہوئی ہے جبکہ بقیہ 5-6 صفحات پر بقیہ 22 روایتیں ہیں۔ طویل روایت کی اسناد کو انہوں نے کچھ اس طرح نقل کیا ہے، أخبرنا محمد بن عمر (الواقدي)، قال: حدثنا ابن أبي ذئب، قال: حدثني عبدالله بن عمير مولى أم الفضل، أخبرنا عبدالله بن محمد بن عمر بن علي، عن أبيه، أخبرنا يحيي بن سعيد بن دينار السعدي، عن أبيه، وحدثني عبدالرحمن بن أبي الزناد، عن أبي وجزة السعدي، عن علي بن حسين.، قال: وغير هؤلاء أيضا قد حدثني. قال محمد بن سعد: وأخبرنا علي بن محمد، عن يحيي بن إسماعيل بن أبي مهاجر، عن أبيه، وعن (أبو مخنف) لوط بن يحيي الغامدي، عن محمد بن نشر الهمداني، وغيره، وعن محمد بن الحجاج، عن عبدالملك بن عمير، وعن هارون بن عيسى، عن يونس بن أبي إسحاق، عن أبيه، وعن يحيي بن زكريا بن أبي زائدة، عن مجالد، عن الشعبي، قال ابن سعد: وغير هؤلاء أيضا قد حدثني في هذا الحديث بطائفة فكتبف جوامع حديثهم في مقتم الحسين رحمة الله عليه ورضوانه وصلوته وبركاته. قالوا:
ابن سعد نے کہا: ان اسناد کے علاوہ بھی اس روایت کو (راویوں کے) ایک گروہ نے مجھ سے بیان کیا۔ میں نے حضرت حسین رحمۃ اللہ علیہ ورضوانہ و صلوتہ وبرکاتہ کی شہادت سے متعلق ان سب کی روایتوں کو اکٹھا کر کے لکھ لیا ہے۔ ان لوگوں نے بیان کیا:۔۔۔۔( ابن سعد۔ طبقات الکبری۔ 6/421-422)۔ ابن سعد نے اس طویل روایت میں یہ نہیں بتایا کہ روایت کا کون سا حصہ کس راوی نے بیان کیا ہے بلکہ انہوں نے اسے ایک مسلسل قصے کی صورت میں بیان کر دیا ہے۔ اب ہمیں یہ معلوم نہیں ہو سکتا ہے کہ تقریباً 25-26 صفحات پر پھیلی ہوئی اس روایت کا کون سا حصہ قابل اعتماد راویوں نے بیان کیا ہے اور کون سا حصہ ناقابل اعتماد راویوں نے۔ اس وجہ سے ان کی پوری روایت کی حیثیت مشکوک ہو جاتی ہے۔ ابن سعد کی بیان کردہ تفصیلات کا موازنہ اگر طبری میں بیان کردہ ابو مخنف ، ہشام کلبی اور واقدی کی روایتوں سے کیا جائے تو ان میں مماثلت پائی جاتی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابن سعد نے بھی زیادہ تر تفصیلات انہی تین راویوں سے اخذ کی ہیں۔
اب آئیے تیسرے مورخ احمد بن یحیی بلاذری (d. 279/893)کی طرف۔ انہوں نے سانحہ کربلا کے ضمن میں 39 روایتیں بیان کی ہیں جو کہ مکتبہ دار الفکر والے ورژن کی جلد 3 میں صفحہ 363-426 پر پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں سے 14ایسی روایتیں ہیں جو نہایت ہی ناقابل اعتماد راویوں سے مروی ہیں۔ ان میں ابو مخنف لوط بن یحیی (4654)، عباد بن عوام (2651)، عوانہ بن حکم (4372)، حصین بن عبد الرحمن (1795) اور ہیثم بن عدی (6546)شامل ہیں۔ یہ سب کے سب راوی ضعیف اور ناقابل اعتماد ہیں۔( ذہبی۔ سیر الاعلام النبلا۔ راویوں کے نمبر کے مطابق دیکھا جا سکتا ہے۔)

ان میں لوط بن یحیی اور عباد بن عوام اسی باغی پارٹی سے تعلق رکھتے تھے جو مسلسل بغاوتیں اٹھاتی رہی۔ عوانہ بن حکم، ہشام کلبی کے استاذ تھے۔ ہیثم بن عدی کو محدثین نے کذاب قرار دیا ہے۔ حصین بن عبد الرحمن اگرچہ قابل اعتماد تھے مگر ان کا حافظہ کمزور تھا اور وہ روایات کو خلط ملط کر دیا کرتے تھے۔ آپ ذہبی کے مشہور انسائیکلو پیڈیا ’’سیر الاعلام النبلاء‘‘ میں متعلقہ نمبر پر ان سب کے حالات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اگر ان راویوں کی بیان کردہ روایتوں کو چھوڑ دیا جائے تو اس طرح سے بقیہ 25روایتیں بچتی ہیں جن سے ہم واقعے کی حقیقت کا کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ آٹھویں صدی کے مشہور مورخ ابن کثیر نے بھی ابو مخنف وغیرہ کی ان روایتوں کو اپنی کتاب البدایہ و النہایہ میں درج کیا ہے اور اس کے بعد لکھا ہے، اہل تشیع اور روافض نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں بہت سا جھوٹ اور جھوٹی خبریں گھڑی ہیں۔ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے، اس کا بعض حصہ محل نظر ہے۔ اگر ابن جریر (طبری) وغیرہ حفاظ اور ائمہ نے اس کا ذکر نہ کیا ہوتا تو میں اسے بیان نہ کرتا۔ اس کا اکثر حصہ ابو مخنف لوط بن یحیی کی روایت سے ہے جو کہ شیعہ تھا اور ائمہ کے نزدیک واقعات بیان کرنے میں ضعیف (ناقابل اعتماد) ہے۔ لیکن چونکہ وہ اخباری اور (خبروں کا) محفوظ کرنے والا ہے اور اس کے پاس ایسی چیزیں ہیں جو اس کے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں ہیں، اس وجہ سے اس کے بعد کے کثیر مصنفین نے اس پر کڑی تنقید کی ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔ ) ابن کثیر 11/577، اردو ترجمہ: 8/259)، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان ناقابل اعتماد مورخین کی روایتوں کو چھوڑ دیا جائے تو سانحہ کربلا سے متعلق ہمیں کچھ زیادہ معلوم نہ ہو سکے گا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کا کوئی حل نہیں ہے تاہم دو صورتیں ایسی ہیں جن پر احتیاط سے عمل کیا جائے تو ہم کسی حد تک درست معلومات تک پہنچ سکتے ہیں۔

Hazrat Hussain

Hazrat Hussain

ایک صورت تو یہ ہے کہ ان دونوں کی روایتوں کو چھوڑ کر دیگر روایات پر غور کیا جائے۔ اس سے جتنی معلومات حاصل ہوں، ان پر اکتفا کر کے بقیہ معاملات کو حسن ظن پر چھوڑ دیا جائے۔ ہمارے نزدیک یہی صحیح طرز عمل ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ان ناقابل اعتماد مورخین کی روایات میں جہاں جہاں صحابہ کرام سے بغض ظاہر ہوتا ہو، اسے چھوڑ کر بقیہ معاملات میں ان کی باتوں کو پوری احتیاط سے قبول کیا جائے اور ان کی کسی ایسی بات کو قبول نہ کیا جائے جس میں ان کا تعصب جھلکتا ہو اور انہوں نے واقعات کو جذباتی انداز میں ایسے بیان کیا ہو کہ اس دور کے مسلمانوں کی نہایت ہی بھیانک تصویر سامنے آئے۔ سانحہ کربلا کے بارے میں بعد کی صدیوں میں کیا رواج پیدا ہوئے؟ سانحہ کربلا کے بارے میں چوتھی صدی ہجری کے بعد تین موقف رواج پا گئے ہیں۔ ایک گروہ نے اس سانحہ کے دن یوم عاشورہ 10 محرم کو ماتم اور غم کا دن بنا لیا۔ دوسرے گروہ نے اسے عید اور خوشی کا دن بنایا اور امت کی اکثریت نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو ایک سانحہ کے طور پر دیکھا۔ انہوں نے اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو دیگر انبیاء و صلحاء کی شہادت کے ساتھ کرتے ہیں۔ ابن کثیر (701-774/1301-1372)نے انہیں اس طرح بیان کیا ہے، روافض نے سن 400 ہجری کے آپس پاس بنو بویہ کی حکومت میں حد سے تجاوز کیا۔ یوم عاشورہ کو بغداد وغیرہ شہروں میں ڈھول بجائے جاتے، راستوں اور بازاروں میں راکھ اور بھوسہ بکھیرا جاتا، دکانوں پر ٹاٹ لٹکائے جاتے اور لوگ غم اور گریہ کا اظہار کرتے۔ اس رات بہت سے لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی موافقت میں پانی نہ پیتے کیونکہ آپ کو پیاسا ہونے کی حالت میں قتل کیا گیا تھا۔ خواتین ننگے منہ نوحہ کرتیں اور اپنے سینوں اور چہروں پر طمانچے مارتے ہوئے برہنہ پا بازاروں میں نکلتیں۔ اس قسم کی دیگر بدعات شنیعہ اور قبیح خواہشات اور رسوائی کے من گھڑت کام کیے جاتے۔ اس قسم کے کاموں سے ان کا مقصد بنو امیہ کی حکومت کو ذلیل کرنا تھا کیونکہ حضرت حسین ان کے دور حکومت میں قتل ہوئے تھے۔ شام کے ناصبین نے یوم عاشورہ کو اس کے برعکس منانا شروع کیا۔ یہ لوگ یوم عاشورہ کو کھانے پکاتے، غسل کرتے، خوشبو لگاتے اور قیمتی لباس پہنتے اور اس دن کو عید کے طور پر مناتے ۔ اس میں وہ طرح طرح کے کھانے پکاتے اور خوشی و مسرت کا اظہار کرتے اور ان کا مقصد روافض کی مخالفت کرنا تھا۔ انہوں نے حضرت حسین کے قتل کی تاویل یہ کی کہ وہ مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے نکلے تھے اور جس شخص کی بیعت پر لوگوں نے اتفاق کیا تھا، اسے معزول کرنے آئے تھے۔ (باغیوں کو سزا دینے کے ضمن میں) صحیح مسلم میں اس بارے میں جو وعیدیں اور انتباہ آیا ہے، یہ ان احادیث کی تاویل کر کے ان کا اطلاق حضرت حسین پر کرتے ہیں۔ یہ جاہلوں کی تاویل تھی جنہوں نے آپ کو شہید کیا۔ ان پر لازم تھا کہ وہ آپ کو شہید نہ کرتے بلکہ آپ نے جب تین آپشنز دی تھیں، تو ان میں سے کسی ایک کو قبول کر لیتے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ آپ کی شہادت پر غمگین ہو۔ بلاشبہ آپ سادات مسلمین اور علماء و صحابہ میں سے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان بیٹی کے بیٹے تھے جو آپ کی بیٹیوں میں سب سے افضل تھیں۔ آپ عبادت گزار ، دلیر اور سخی تھے لیکن شیعہ جس طریق پر بے صبری سے غم کا اظہار کرتے ہیں، وہ مناسب نہیں ہے۔ شاید اس کا اکثر حصہ تصنع اور دکھاوے پر مشتمل ہے۔ آپ کے والد (حضرت علی رضی اللہ عنہ) آپ سے افضل تھے۔ وہ بھی شہید ہی ہوئے تھے لیکن ان کے قتل کا ماتم حضرت حسین کے قتل کی طرح نہیں کرتے۔ بلاشبہ آپ کے والد 17 رمضان 40 ہجری کو جمعہ کے روز فجر کی نماز کو جاتے ہوئے قتل ہوئے تھے۔ اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی قتل ہوئے تھے جو اہل السنۃ و الجماعۃ کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔ آپ ماہ ذو الحجہ 36 ہجری کے ایام تشریق میں اپنے گھر میں محصور ہو کر قتل ہو ئے تھے۔ آپ کی شاہ رگ کو کاٹ دیا گیا مگر لوگوں نے آپ کے قتل کے دن کو ماتم کا دن نہیں بنایا۔ اسی طرح حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی قتل ہوئے جو حضرت عثمان اور حضرت علی سے افضل تھے۔ آپ محراب میں کھڑے ہو کر فجر کی نماز پڑھاتے اور قرآن پڑھتے ہوئے قتل ہوئے مگر لوگوں نے آپ کے یوم شہادت کو بھی ماتم کا دن نہیں بنایا۔ اسی طرح حضرت صدیق رضی اللہ عنہ آپ سے بھی افضل تھے اور لوگوں نے آپ کے یوم وفات کو بھی ماتم کا دن نہیں بنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا اور آخرت میں اولاد آدم کے سردار ہیں، آپ کو اللہ تعالی نے اسی طرح وفات دی، جیسے آپ سے پہلے انبیاء نے وفات پائی تھی۔ کسی نے آپ کی وفات کے دن کو بھی ماتم کا دن نہیں بنایا اور نہ وہ کام کیے ہیں جو ان روافض کے جاہل لوگ حضرت حسین کی شہادت کے روز کرتے ہیں۔ نہ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دن اور نہ آپ سے پہلے کسی شخص کی وفات کے دن کے بارے میں کسی شخص نے کسی ایسے مذکورہ معاملے کو بیان کیا ہے جس کا یہ لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے دن کے بارے میں دعوی کرتے ہیں۔ جیسے سورج گرہن اور وہ سرخی جو آسمان پر نمودار ہوتی ہے۔ ( ابن کثیر ۔ البدایہ و النہایہ۔ 11/577 (اردو 8/259) ) ابن کثیر نے مسلمانوں کی اکثریت کا جو موقف بیان کیا ہے، وہی ان کا اپنا نقطہ نظر بھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کا ذکر کرنے سے ان کا مقصد یہی ہے کہ وہ اہل سنت کو اس جانب توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ پر ان کا موقف کیا ہونا چاہیے۔

تحریر : محمد سہیل