فریب خوردہ شاہین

Ruler

Ruler

تحریر: محمد فاروق خان

عون کی جمع اعوان ہے جس کے معنی حامی، مددگار، پشتیبان اور قطب کے معنی قوم کا سربراہ جس پر معاملات کا دارومدار ہو۔پیر و مرشد،سردارِ قوم،اعلیٰ و برگزیدہ ہیں۔٢٠١٧ کی مردم شماری کے مطابق اعوان پاکستان کا چوتھا بڑا قبیلہ ہے۔پاکستان اور آزاد کشمیر کے تقریبا تمام علاقوں میں اس قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔مردم شماری کے مطابق ا عوانوں کی تعداد تقریباً دو کروڑ ہے۔امیر تیمور نے جب ہند پر حملہ کیا تو اس وقت کالا باغ کے قریب قلعہ ایراب کا حکمران لشکر شاہ اعوان تھا۔لودھی دور حکومت میں گوالیار کا حاکم اسماعیل اعوان تھا۔ ملک شہزادہ اعوان علاقہ ونہار کا حکمران تھا۔بندے علی اعوان نے کالا باغ کی بنیاد رکھی۔ملک الیاس اعوان بھی عہد لودھی میں گورنر ہو گزرے ہیں۔ملک شیخ اعوان اور ملک حسرت اعوان بھی دریائے چناب کے علاقے کے حکمران تھے۔ ملک سرور اور ملک محمود بھی علاقہ جہلم کے حکمران تھے۔

کالا باغ کے نواب تمام اعوان کاری کے علاقے کے سربراہ تھے۔ کوہستان نمک تک ان کی عملداری تھی۔ ملک عالم شیر اعوان المعروف شیر اعوان کوہستا ن نمک کی مشہور وادی سون سکیسر پر سالہا سال تک حکمرانی کرتے رہے۔سلطان حیدر اور ٹیپو سلطان کے آباو اجداد بھی اعوان کاری سے نقل مکانی کرکے میسور گئے جن کے بارے میں روایت ہے کہ وئہ اعوان تھے اور تاریخِ مشائخ قادریہ کے مطابق وئہ حضرت شیخ بہلول دریائی کی اولاد سے تھے۔ جو چنیوٹ کے قریب ہی مدفون ہیں۔۔اعوان قوم کے ایک بزرگ نواب علی فیروز تغلق کے عہد میں دہلی گئے راستے میں ایک ہندو راجہ سائیں پال والئی سیالکوٹ کو شکست دی فیروز تغلق نے ان کو علاقہ دھنی چکوال کی حکومت سونپ دی۔ کمال خان اور یعقوب خان علاقہ ونہار کے مشہور سردار گزرے ہیں انہوں نے سون سکیسر کے اعوانوں کی مدد سے ونہار کے راجہ کو شکست دی۔

ملک امیر محمد نواب اف کالاباغ گورنر مغربی پاکستان۔ ملک معراج خالد گورنر اور بعد میں قائم مقام وزیراعظم رہے۔جنرل ملک صفدر اعوان آف دوالمیال اورایئر مارشل نور خان بھی گورنر رہے۔تنظیم الا عوان کی بنیاد رکھنے ،قبیلے کوشناخت دینے، مسائل کو حل کرنے کا عزم کرنے والوں اور قبیلے کی اجتماعی ترقی کے آرزمندوں کو سلام کہ انہوں نے شناخت اور آگے بڑھنے کا پلیٹ فارم دے کر اپنا بنیادی اور تاریخی کردار خوب ادا کیا۔جوکہ قابل ستائش بھی ہے اور ہمیشہ یاد رکھا جانے والا بھی۔

یہ کسی کی نہ تو تضحیک ہے اور نہ ہی کسی کی مخلصانہ کاوشوں کی نفی ہے۔نہ ہی کسی کو مورد الزام ٹھہرانا مقصد ہے۔لیکن یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کوئی ایسا متحرک قائد قبیلے کو نصیب ہی نہ ہو سکا جو قبیلے کی عہد رفتہ کی عزت و توقیر بحال کرتا۔ قائد کی نایابی ہی زوال کے بنیادی اسباب میں سر فہرست ہے۔ قائد خوشامد کے مرض سے پاک اور سچ سننے کی طاقت رکھتا ہو۔حق کا ساتھ دینے والا اور ظلم کے سامنے کھڑا ہونے والا ہو۔قبیلے کے مستقبل کو تابناک بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ لیکن کتنا بڑا المیہ ہے کہ قبیلے کو قابل فخر بنانے کا کوئی روڈمیپ ہی نہیں۔مددگار کی صفت کو فخر بنانے والے ان گنت اعوان مدد کے طلبگار ہیں۔

اعوانوں کو عربی النسل ہونے پر فخر ہو سکتا ہے۔پاکستان کا چوتھا بڑا قبیلہ ہونے پر ناز کیا جا سکتا ہے۔جنگجو اور بہادر ہونا قابل فخر وصف ہو سکتا ہے۔مددگار اور معاون کے معانی پر انفرادیت پیدا کی جا سکتی ہے۔سردار اور سپہ سالار ہونا باعثِ اعزاز ہو سکتا ہے۔اعوان قوم کے جدِ امجد حضرت عون قطب شاہ اعوانوں کے سروں کے تاج لیکن اعوانوں کا سب سے بڑا فخر سلسلہ نسب کا حضرت علی سے جا ملنا ہے۔

بے نامی نو دولتیوں نے اپنی ناموری اور پہچان کے لیئے۔آڑھتیوں نے کاروباری مفادات اورسیاسی بازیگروں نے سیاسی حلقوں میں اپنی اہمیت اور قد بڑھانے کے لیئے قبیلے کے پلیٹ فارم کو خوب استعمال کیا۔کچھ دانشوروںنے ماضی کے فخر کی پگ قبیلے کی آنکھوں پر اتنی مضبوتی سے باندھی کہ انہیں روشن مستقبل کا شملہ نظر ہی نہیں آنے دیا۔قابلِ فخر ماضی سے شاندار مستقبل کشید نہ کرنااجتماعی غلطی ہے۔تاریخ قبیلے کی شوکت و حشمت کی گواہی دے رہی ہے لیکن مستقبل کا مورخ اس قبیلے کی داستانِ غم کیسے رقم کرنے لگا ہے اس کے لیئے فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔اگر کوئی قبیلے کو عہد رفتہ کی رفعتیں لوٹانے کا آرزومند ہے تو کوئی ویثرن۔کوئی راستہ۔کوئی منصوبہ سامنے لائے تاکہ قبیلے کا مقدر سنور سکے۔غلطیوں کو تسلیم کرنے اور کمزوریوں کو بے نقاب کرنے میںدیر کرنا گناہ ہوگا۔

چشمِ بینا ہو تو ایسے ان گنت بادشاہ اور سردار چائے بیچتے نظر آتے ہیںاور ایسے ہی کئی سردار بدحالی کی پگ پہنے دھاڑی دارمزدوری کے لئے کراچی تخت نشین ہو چکے ہیں۔ اعوانوں کے میلے سجانے والے۔واسکٹیں اور جیکٹوں والے۔ اُجلے لباسوں والے۔ شملوں اور پگوں والے۔عہدوں کے متلاشی۔عزتوںکے بھوکے۔قبیلے کا فخرنہیں مجرم ہیں۔جو خود بھی فریب زدہ ہیں اور قبیلے کوبھی مبتلائے فریب کر رکھا ہے۔ پدرم سلطان بود کا فخر نوجوانوں کو مستقبل سے خوفزدہ اور عدم اعتماد کاشکار کر رہا ہے۔ بدلتے حالات قبیلے کے حالات کو بدلنے کا سندیسہ دے رہے ہیں ۔قائد اجتماعیت کی بجائے انفرادیت کے دائرے میں ہی محو سفر ہیں اور نرگسیت کا شکار ہو چکے ہیں۔ قبیلہ اتنی سطحی درجے پہ آن کھڑا ہے کہ کسی کو تنظیمی عہدہ دیتے وقت یہ بھی نہیں پوچھ سکتا کہ وئہ اعوان ہے بھی یا نہیں۔اپنے عہد کے با وقار اور عزت دار سفید پوش کس حال میں ہیں؟تنظیم کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ قبیلے کی ساری تنظیموں کے اشتراک سے ایک ملک گیر اتحاد کے بغیر متاثر کن نتائج حاصل نہیںکیئے جا سکتے۔ تنظیم کو ملکی سطح پر فعال کرنے کے لیئے مختلف شعبے اور ونگز فعال کرنے ہوں گے۔الیکٹیبلز کا تجربہ کرنے کی بجائے پروفیشنلز کو ٹیم کا حصہ بنایا جائے۔نوجوانوں کو قائدانہ کردار ادا کرنے کی تربیت دی جائے۔ روائیتی انداز سے کوئی نتائج اخذنہیں ہوں گے۔

(اعوان تخت پر ہو یا تختہ دار پہ ہر حال میں بادشاہ ہے)۔ایسے سلوگن قبیلے کی نسلِ نو کو فریب زدہ کر رہے ہیں۔حقائق سے آنکھیں چُرانے پر آمادہ کر رہے ہیں۔اعوان قبیلے کاحقائق نامہ تیار کر کے اہداف اور وقت کا تعین کیا جائے تاکہ اجتمائی طور پر قبیلے کو لاحق امراض کی نشاندہی ہو اور اس کا شافی علاج بھی کیا جا سکے۔ شاہین صفت نوجوانوں کو فریب خوردہ شاہین بنانے کی بجائے اقبال کا شاہین بنایا جائے۔

M.Farooq Khan

M.Farooq Khan

تحریر: محمد فاروق خان