بیماری ہمارے اندر ہے

Illness

Illness

تحریر: انصر محمود بابر

ہمارے دور تعلیم میں تو جمع تفریق کے لیے کیلکولیٹر کا میسر ہونا بھی امیری کی علامت ہوتی تھی لیکن دماغ خوب چلتا تھا۔ وقت دیکھنے کے لیے خال خال لوگوں کے پاس گھڑی ہوا کرتی تھی۔ اس کے باوجودایک دوسرے کے لیے کافی وقت مل جایا کرتا تھا۔ محلے میں کسی کسی کے گھر بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن ہوا کرتا تھا اور پھر بھی بے حیائی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ذاتی سواری کا دور دور تک کوئی تصور نہ تھا۔ پھر بھی سب ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہو ہی جاتے تھے۔ کسی کسی پڑھے لکھے ”بابو“ یا ”منشی“ کے ہاں اخبار آیا کرتا تھا جو خبریں پڑھ پڑھ کر سنایا کرتے اور بڑے بوڑھے سر دھنتے جاتے۔

بڑی سے بڑی بیماری بخارکو مانا جاتا تھا جس کی اعلیٰ سے اعلیٰ دوائی کوئی کڑوی کسیلی گولی ہوتی اور یہ گولی بھی سب کو میسر نہیں ہوتی تھی۔ گھر میں زیادہ سے زیادہ 2 کمرے ہوا کرتے تھے۔ کچی دیواروں پر مٹی کا لیپ ہوتا اور ناہموار کچے فرش پر چارپائیاں گھسیٹنے کے نشانات ہوا کرتے۔ گھروں میں واش روم کا کسی نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ گھر کے کھلے آنگن میں شام کو جب پانی کا چھڑکاﺅ کرتے تو مٹی کی خوشبو روح تک میں اتر آتی۔ مہینے میں ایک آدھ بار گوشت پکتا تو شوربہ اور آلو بھی سالن کا حصہ ہوتے اور اس سالن میں بھی ہمسایوں کا حصہ ضرور ہوتا۔ عید بقر عید پہ گڑ والے میٹھے چاول پکتے اور ان نعمتوں پہ بھی خدا کا شکر ادا کرتے نہ تھکتے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ روزوں والی عید پہ نئے کپڑے سلواتے اور وہ بھی نیلے رنگ کی اسکول یونیفارم تاکہ عید پہ نئے کپڑوں کا شوق بھی پورا ہوجائے اور اس کے بعد سارا سال سکول میں پہننے کے کام بھی آتی رہے۔ بالکل اسی طرح سیاہ رنگ کے جوتے خریدے جاتے اور یہ جوتے بھی سارا سال اسکول یونیفارم کا حصہ ہوتے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کے اس دور میں بچوں کو اسکول چھوڑنے کوئی نہیں جایا کرتا تھا خود اسکول جانا پڑتا تھا اور وہ بھی پیدل۔

ان ساری کمزوریوں، کمیوں اور غربت کے باوجود ہمارے بزرگوں کی صحت قابل رشک اور جسامت آئیڈیل ہوتی۔ ان کی آنکھوں میں حیا، چہروں پہ رعب اورشخصیت میں جلال ہوتا۔ اس سادگی میں بھی وقار اور ایک بانکپن ہوتا۔ ان کی ہنسی کسی آبشار کی مانند شفاف ہوتی اور کسی کے لیے دل میں کوئی کینہ اور بغض نہ ہوتا۔ ہر رشتے کا احترام ہوتا اور ہر جذبہ خالص ہوتا۔ سادہ لوگ، سادہ خوراکیں، سادہ طرز زندگی اور خلوص ان کا طرہ امتیاز ہوتا۔ ان کی شخصیت میں ٹھہراﺅ، لہجے میں نرمی اور دل میں سکون کی ندیاں موجزن ہوتیں۔ زندگی اتنی بھر پور اور پرسکون ہوتی کہ کسی الف لیلوی داستان کا گمان ہوتا۔ آج کل کی طرح ہارٹ اٹیک، شوگر، فالج اور دماغی شریان پھٹنے جیسی مہلک بیماریوں کا کسی نے کبھی نام تک بھی نہ سنا ہوگا اور آج ہم ان سب کا شکار بنے ہوئے ہیں۔

جب کہ آج ہمارے گھروں میں کئی کئی کمرے ہیں۔ ہرکمرے میں پختہ فرش، اس پہ خوبصورت اور قیمتی قالین، اٹیچ باتھ، بڑے سائز کی ایل سی ڈی، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، مہنگا موبائل فون، آرام دہ بستر، پرشکوہ بیڈ اور صوفے، جدید ڈائننگ ٹیبل اور روزانہ انواع واقسام کے من و سلوٰ ی نما کھانوں کی ورائٹی کے علاوہ تقریباً اکثر گھروں میں مائکرو ویو اوون، فریج، اے سی، واشنگ مشینیں، بجلی بند ہونے کی صورت میں متبادل ذرائع موجود ہوتے ہیں۔ الماریاں ہرتہوار، ہر کام اور موقع کی مناسبت سے قیمتی ملبوسات سے بھری پڑی ہوتی ہیں۔ برانڈڈ جوتوں، کوٹ اور ٹائیوں کی بہتات ہے۔ بچوں کے اسکول اور کالج جانے کے لیے موٹرسائیکل اور گاڑیاں موجود ہیں۔ سکون پھر بھی نہیں ہے۔

گھر سے باہر کی بات کریں تو شاندار گاڑی، انتہائی ڈیکوریشن والا ٹھنڈا ٹھار دفتر، خوب صورت سیکرٹری، جما جمایا کاروبار اور اوپر کی آمدنی کے ٹھاٹ باٹھ کے علاوہ شہر کے مہنگے مہنگے کلبوں کی ممبر شپ اور دیگر لوازمات کی بھرمار ہے۔ ہر چیز آپ کی قوت خرید میں ہے۔ آپ کسی ادارے میں چلے جائیں، لوگ ہاتھ باندھے آپ کے آگے بچھے چلے جاتے ہیں۔ کاروبار، سیاست، معیشت، بیرون ممالک دورے اور اس جیسی ہر چیز آپ کی پہنچ میں ہے۔ بہترین پرائیویٹ تعلیمی ادارے آپ کے بچوں کی تعلیم کے لیے موجود ہیں اور قابل ترین ڈاکٹرز آپ کی دیکھ بھال کے لیے آپ کی خدمت میں ہمہ وقت حاضر و موجود ہیں۔ آپ پھر بھی بے چین ہیں۔

کوئی ایسی بیماری ہے جو آپ کے ڈاکٹرز کی سمجھ میں نہیں آرہی۔ کوئی ایسی کمی آپ کے بستر میں ہے کہ آپ کی نیند کسی خواب آور دوا کی مرہون منت ہے۔ کوئی ایسا جراثیم آپ کے جسم میں موجود ہے جو آپ کو آپ کا من پسند کھانا کھانے کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ کا کوئی عمل تو ایسا ہے کہ آپ بے سکونی، بے چینی کا شکار ہیں۔ آپ ایسا کیا کرتے ہیں کہ جو آپ کے دل کو قرار نہیں؟ یقینا کوئی ایسی بیماری ہے جسے ڈاکٹرز تشخیص نہیں کر پا رہے۔ آپ کا دل کوئی ایسی خوشی چاہتا ہے جو مہنگی گاڑیوں، شاندار بنگلوں، ہائی پروفائل میٹنگز، آئے دن بدلتی رفاقتوں اور امپورٹڈ مشروبات میں میسر نہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ کے اس روگ کا علاج اور نسخہ ہے میرے پاس۔ آپ بس ان چند ٹوٹکوں پہ عمل کرگزریں ان شاءاللہ افاقہ ہوگا۔

آپ اپنا معمول بنالیں۔ آپ ہر ماہ کسی غریب رشتے دار کی چپکے سے مدد کردیا کریں۔ کسی پڑھے لکھے بے روزگار کو کام پہ لگوادیں۔ کسی طالب علم کی چپکے سے فیس بھردیا کریں۔ ہر ویک اینڈ پہ اپنے دوستوںکے ساتھ گپ شپ لگائیں۔ ان کے ساتھ کیرم کھیلیں۔ اکٹھے واک پہ جائیں۔ چائے کافی کے بہانے دوستوں کو وقت دیں۔ بچوں کے ساتھ کھیلیں۔ بات بات پہ کھل کرہنسیں، قہقہے لگائیں۔ دوستوں اور بچوں کے ساتھ ٹرپ پہ جائیں۔ اپنی فیملی کو انٹرٹین کریں۔ اپنے شہر، گاﺅں یا محلے میں کوئی رفاہی کام کروادیں۔ قدرتی نظاروںکو غور سے دیکھیں اور قدرت کی صناعی پہ غور کریں اور جو کچھ آپ کے پاس ہے ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کریں۔ میرا یقین ہے کہ آپ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کریں گے۔ آپ آرام سے سوسکیں گے۔ آپ کے دل کو قرار آجائے گا۔ کچھ عرصہ یہ مت سوچیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ جس طرح آپ کے پاس لوگوں کے لیے وقت نہیں اسی طرح لوگوں کے پاس بھی وقت نہیں کہ وہ آپ کے متعلق سوچتے پھریں۔ کچھ وقت کے لےے آپ اپنے لیے بھی سوچیں۔ کچھ وقت اپنے لیے بھی نکالیں۔ اس لیے کہ بیماری ہمارے اندر ہے اس کا علاج بھی اپنے اندر سے شروع کرنا ہوگا۔

تحریر: انصر محمود بابر