ذو القعدہ کی اہمیت و فضیلت

Zul-Qa'dah

Zul-Qa’dah

تحریر : شاہ بانو میر

?ذو القعدہ حرام مہینوں میں سے پہلا مہینہ ہے : ذو القعدہ، ذوالحجہ اور محرم (لگاتار) پھر رجب۔

?إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْراً …. مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ (التوبة:36)
بے شک مہینوں کی گنتی، الله کے نزدیک، بارہ مہینے ہے۔۔۔ ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔

? “ذو القعدہ” کی وجہ تسمیہ
?اس کو ذو القعدہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ لوگ اس مہینے میں جنگوں اور قتل وغارت سے بیٹھ رہتے تھے۔ اس لیے کہ یہ حرمت والا مہینہ تھا اور وہ اس میں سفر حج کے لیے سامان تیار کرتے تھے۔

? جاہلیت میں اس مہینے کی تعظیم
?زمانہ جاہلیت میں عرب اس حرمت والے مہینے کی تعظیم کرتے تھے، وہ اس مہینے میں نہ کسی سے لڑتے، نہ ہی کسی سے بدلہ لیتے، حتی کہ اگر کوئی اپنے باپ یا بھائی کے قاتل کو بھی دیکھ لیتا توبھی اس سے بدلہ نہ لیتا اور نہ ہی اسے دھتکارتا۔

?حرمت والے مہینوں میں ظلم کرنے کی ممانعت
?الله تعالی نے حرمت والے مہینوں میں ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے منع کیا ہے :
فَلا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ (التوبة:36)
ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔
پس ان مہینوں میں ظلم کرنا باقی مہینوں کی نسبت زیادہ گناہ کا باعث ہے۔اور ان کی حرمت کی شدت کی وجہ سے ان میں ظلم اور گناہ کرنا زیادہ بڑا کام ہے۔
? قتادہ کہتے ہیں : دوسرے مہینوں کی نسبت ان حرمت والے مہینوں میں ظلم بہت بڑا گناہ اور بوجھ ہے اگرچہ ظلم ہر حال میں بڑا گناہ ہے مگر الله جس کام کے(گناہ) کو چاہے بڑھادے۔

?حرمت والے مہینوں میں مسلمان کیسےاپنی جان پر ظلم کرتاہے؟
? حرمت والے مہینوں میں اپنی جان پر ظلم دو طرح سے ہوتاہے:
1۔ فرائض کو ترک کرنے سے
? جیسےنماز اور اس طرح کے دیگر واجبات کو چھوڑ دینا۔
2۔ حرام کاموں کا ارتکاب کرنے سے
? جیسے بےحیائیوں کا ارتکاب کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا، قطع رحمی کرنا اور دیگر حرام کام کرنا۔۔

?”ذو القعدہ “حج کا مہینہ
?ذو القعدہ حج کے مہینوں میں سےایک مہینہ ہے جن کے متعلق الله نے فرمایا:
الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ [البقرة:197]
حج کے مہینے جانے پہچانے ہیں ۔
بخاری میں معلق روایت ہے: ابن عمر کہتے ہیں کہ اس سے مراد شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں ۔

?”ذو القعدہ” میں عمرہ کرنا
? ذو القعدہ میں عمرہ کرنا مسنون ہے۔نبیﷺ نےکل چار عمرے کیےاور وہ سب ذو القعدہ میں ہی کیے۔
?شیخ ابن باز رحمہ الله کہتے ہیں :ذو القعدہ میں عمرہ کرنا سب مہینوں سے افضل ہے سوائے رمضان کے۔بلکہ سلف صالحین کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ وہ اس مہینے میں عمرے کو رمضان سے بھی افضل قرار دیتے ۔
?امام ابن قیم نے ذو القعدہ اور رمضان کے مابین عمرے کی فضیلت میں تردد کا اظہار کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کے بارے میں الله سے استخارہ کرتے ہیں کہ جو اس کے نزدیک افضل ہے اس کی طرف ہماری راہ نمائی کردے ۔

? “ذو القعدہ” میں روزہ رکھنا
?ذو القعدہ میں روزہ رکھنا مستحب ہے جیسا کہ بعض سلف سے مروی ہے۔ لیکن اس مہینے میں روزے کی کوئی خاص فضیلت نہیں ہے۔

?”ذو القعدہ”میں تاریخی واقعات
?ذو القعدہ میں عظیم واقعات پیش آئے ہیں ۔
۔ اسی مہینے میں الله تعالی نے موسی علیہ السلام سے تیس راتوں کا وعدہ کیا۔جیسا کہ مجاہد،مسروق اورابن جریج وغیرہ سے مروی ہے۔
۔ بنو قریظہ کے ساتھ غزوہ بھی اسی مہینے میں ہوا۔
ذو القعدہ میں ہی سن 6 ہجری میں صلح حدیبیہ ہوئی جسے الله تعالی نے فتح مبین کا نام دیا :
إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (الفتح: 1)
بے شک ہم نے تمہیں فتح دی، ایک کھلی فتح۔
عمر رضی الله عنہ نے کہا اے الله کے رسول کیا یہ فتح ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ۔

?حرمت والے مہینوں میں کرنے کے کام

?حرمت والے مہینوں کی تعظیم کرنا
ایک مسلمان حرام مہینوں کی تعظیم کرتا ہے خاص طور پر ان میں الله کی حدود کا پاس رکھتا ہے۔ فرائض کی ادائیگی کرتا ہے۔الله کی اطاعت کی حرص رکھتا ہے اور حرام کاموں اور الله کی ناراضگی کے کاموں کے ارتکاب سے بچتا ہےاور حدودسے تجاوز نہیں کرتا۔
?گناہوں اور نافرمانیوں سے بچنا
امام ابن رجب کہتے ہیں کہ جس آدمی کی ان حرمت والے مہینوں میں نیک عمل کرنے سے ہمت کوتاہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی جان پر نافرمانیوں سے رک جانے کے ساتھ رحم کھائے۔
? خصوصا ظلم کرنے سے بچنا
مثلاوالدین کا اولاد پر ظلم ،شوہر و بیوی کا ایک دوسرے پر ظلم ، یتیم کا مال کھانا، چوری کرنا،رشوت لینا وغیرہ۔
? گناہوں سے توبہ کرنا
حرمت والے مہینے شروع ہوچکے ہیں لہذا گناہوں اور نافرمانیوں سے توبہ کر لی جائے۔
مثلا شرک، والدین کی نافرمانی، قطع رحمی، سود خوری، جھوٹ، غیبت، چغلی، حسد وغیرہ۔
? نیکیوں میں آگے بڑھنا
یہ مہینے افضل زمانوں میں سے ہیں جن میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھ جانے کی امید ہوتی ہے۔اس لیےان مہینوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور الله کی اطاعت کے کاموں میں آگے بڑھا جائے ۔
الله ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر : شاہ بانو میر