‘ہندوستان میں رہنا ہو گا تو جے شری رام ہی کہنا ہو گا‘

Demonstration

Demonstration

دہلی (اصل میڈیا ڈیسک) بھارتی دارالحکومت دہلی میں پارلیمان سے قریب ہی سخت گیر ہندوؤں نے اپنے ایک پروگرام کے دوران مسلمانوں اور مذہب اسلام کے خلاف اشتعال انگیز اور نازیبا نعرے بازی کی۔ پولیس نے اس سلسلے میں ایک مقدمہ درج کیا ہے۔

بھارتی دارالحکومت دہلی میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جنتر منتر پر لگنے والے اشتعال انگیز مسلم مخالف نعروں کے سلسلے میں اس نے ایک مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق، ”مختلف گروہوں کے درمیان نفرت کو فروغ دینے کے الزام‘‘ میں بعض نامعلوم افراد کے خلاف کیس درج کیا گيا ہے۔

نئی دہلی حلقے کے سینیئر پولیس افسر دیپک یادو کا کہنا تھا کہ جس پروگرام کے دوران نفرت انگیز نعرے بازی ہوئی اس پروگرام کی پہلے سے اجازت نہیں لی گئی تھی اور اس معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

لیکن انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ جس مقام پر مذہب اسلام کی توہین اور مسلمانوں کے خلاف ہندو تنظیموں نے نفرت انگیز نعرے بازی کی وہاں بڑی تعداد میں پولیس بھی موجود تھی اور اگر وہ چاہتی تو انہیں روک سکتی تھی تاہم اس نے ایسا نہیں کیا۔

معاملہ کیا ہے؟
آٹھ اگست اتوار کی شام کو بھارتی پارلیمان کے پاس ہی معروف مقام جنتر منتر پر بعض سخت گیر ہندو تنظیمیں اور ان کے کارکنان احتجاج کے لیے جمع ہوئے تھے اور وہیں پر مسلمانوں اور مذہب اسلام کے خلاف نعرے بازی ہوئی۔ اس پروگرام کا اہتمام حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رہنما اور سپریم کورٹ کے وکیل اشونی اپادھیائے نے کیا تھا۔

اس سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا ہے جس میں لوگوں کو کھلے عام کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، ”ہندوستان میں رہنا ہوگا تو جے شری رام کہنا ہوگا۔‘‘ بار بار یہ نعرہ دہرانے کے بعد دوسرا نعرہ لگتا ہے،”مُلّے کاٹے جائیں گے، تو رام رام چلائیں گے۔ سور کاٹے جائیں گے تو رام رام چلائیں گے۔‘‘ وغیرہ وغیرہ

اس طرح کے مزید متعدد نعروں کے بعد ایک اور نعرہ دہرایا جاتا ہے، ”بند کرو، بند کرو مُلّوں کا بیوپار (تجارت) بند کرو۔‘‘ پھر ایک اور نعرہ لگتا ہے۔ اللہ کاٹا جائے گا، تو رام رام چلائے گا۔‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

واقعے کی مذمت اور کارکنان کا مطالبہ
بھارت میں عام طور سخت گیر ہندو تنظیمیں مسلمانوں کو خطاب کرنے کے لیے ملاّ کا لفظ استعمال کرتی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ نعرے کافی دیر تک پولیس کی موجودگی میں متعدد بار دہرائے جاتے رہے اور کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

پیر کے روز مسلم رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے اس معاملے کو ایوان میں اٹھاتے ہوئے کہا کہ بھارتی ایوان سے متصل ہی مسلمانوں کی نسل کشی کی باتیں ہو رہی تھیں اور اس کی حمایت میں زورشور سے نعرے لگ رہے تھے تاہم قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

اویسی کا کہنا تھا، “آخر ان غنڈوں کی بڑھتی ہوئی ہمت کا راز کیا ہے؟ وہ جانتے ہیں کہ مودی حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ 24 جولائی کو مرکزی حکومت نے قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت دہلی پولیس کو کسی بھی شخص کو حراست میں لینے کا حق دیا تھا۔ اس کے باوجود دہلی پولیس خاموشی سے تماشائی بنی رہی۔”

پیر کی صبح بعض ہی غیر سرکاری تنظیموں اور کارکنان نے متعلقہ پولیس تھانے میں اس کے خلاف جب شکایت کی تو پولیس نے کہا کہ بعض نامعلوم افراد کے خلاف شکایت درج کر لی گئی ہے جبکہ نعرے بازی کرنے والے تمام افراد کو ویڈیو میں آسانی سے دیکھا اور پہچانا جا سکتا ہے۔

معروف سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے میں شکایت درج کروائی ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت میں کہا کہ اگر پولیس چاہتی تو اسے روکا جا سکتا تھا لیکن، ”ظاہر ہے اس نے دانستہ طور پر یہ سب ہونے دیا۔ انہیں خود ہی اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ”یہ تو بہت خطرناک بات ہے، جس طرح کے اس میں نعرے لگائے گئے، وہ نفرت انگیز خطاب ہے۔ یہ دانستہ طور پر نفرت اور مختلف برادریوں میں دشمنی کو فروغ دینے کی کوشش ہے۔ ان کے خلاف تو ایک خاص مذہب کی توہین کرنے اور لوگوں کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کا بھی کیس درج ہونا چاہیے۔‘‘

شبنم ہاشمی نے بتایا کہ جنتر منتر پر جمع ہونے والوں اور پروگرام کا اہتمام کرنے والوں کا تعلق سخت گیر ہندو تنظیموں سے ہے۔ لیکن اشونی اپادھیائے کہتے ہیں کہ ان کا پروگرام نوآبادیاتی دور کے قوانین کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے تھا اور اسے بدنام کرنے کے لیے کچھ لوگوں نے اس طرح کی حرکتیں کی ہیں۔

دارالحکومت دہلی میں بھارتی پارلیمان کے پاس ایک عام جلسے میں اس طرح کی اشتعال انگیزی کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ تاہم بیشتر بھارتی میڈیا نے اس پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے جبکہ حال ہی میں جب پاکستان میں ہندوؤں کے ایک مندر کو توڑنے کا واقعہ پیش آیا تھا تو اس پر بھارتی ٹی وی چینلوں نے متعدد پروگرام نشر کیے تھے۔

گزشتہ برس جب شہریت ترمیمی قانون کے خلاف بھارت میں مہم چل رہی تھی تو اس وقت بھی متعدد ریاستوں میں پولیس نے مختلف برادریوں کے درمیان نفرت پھیلانے کے الزام سرکردہ مسلم کارکنان اور بعض صحافیوں کو گرفتار کر لیا تھا جن میں سے اب بھی بہت سے جیلوں میں ہیں۔