پی آئی اے کا زوال۔۔ ذمہ دار کون؟

PIA

PIA

تحریر: لالہ ثناء اللہ بھٹی

ایک زمانہ تھا کہ پاکستان کی قومی ائیرلائن پی آئی اے کا شمار دنیا کی بہترین ائیر لائینز میں ہوتا تھا۔ خلیجی ممالک کی بہت سی فضائی کمپنیوں کو افرادی قوت اور تکنیکی معاونت پی آئی اے نے فراہم کی اور آج ان کا شمار دنیا کی بہترین فضائی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ اسکی ایک روشن مثال ایمریٹس ایئر لائن ہے۔ 1985ء میں ایمریٹس ایئرلائن نے پی آئی اے سے دو جہاز لیز پر لے کرمحض دس ملین ڈالر سے اپنا فضائی آپریشن شروع کیا اور آج ایمریٹس ایئرلائن کے فضائی بیڑے میں دو سو سے زائد جدید جہاز شامل ہیںجبکہ دنیا کی بہترین فضائی کمپنیوں میں ایمریٹس چوتھے نمبر پر ہے۔

ایمریٹس کی موجودہ ترقی میں اہم کردار پی آئی اے کے تکنیکی ماہرین کا بھی ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ایشیاء کی متعدد فضائی کمپنیوں کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچانے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی معاشی اور انتظامی حالت خراب ہوچکی ہے اور قومی ایئرلائن مسلسل خسارے میں چل رہی ہے۔

پی آئی اے کو بین الاقوامی سطح پر سخت مقابلے کا سامنا ہے، جسکی اہم وجوہات میں پروازوں کی تاخیر ، عملے کا غیر پیشہ ورانہ طرز عمل اور جہازوں کی ناگفتہ بہ حالت بھی ہے۔ مارچ 2007ء میں یورپی کمیشن کے ایئر سیفٹی ایڈمنسٹریٹر نے حفاظتی خدشات کی بناء پر پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں شامل تمام جہازوں پر پابندی عائد کردی تھی۔ تاہم قومی فضائی کمپنی کے بیڑے میں شامل 7بوئنگ 777s اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیئے گئے۔ یورپی یونین کی اس پابندی نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور قومی فضائی کمپنی کا نام بدنام کردیا۔ پی آئی اے پر لگنے والی پابندی کے بعد اعلیٰ حکام نے اس وقت کے چیئرمین پی آئی اے سے استعفیٰ بھی طلب کرلیا تھا۔

اسکے آٹھ ماہ کے بعد یورپی یونین نے پی آئی اے پر لگائی جانیوالی پابندی اٹھا دی۔ مستقبل میں مزید شرمندگی سے بچنے کیلئے پی آئی اے نے کویت کی لیزنگ کمپنی سے سات ایئر بس A320-200 لیز پر لینے کا معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے مطابق لیزنگ کمپنی نے اگلے دو برس میں جہازوں کی ڈلیوری کرنی تھی، لیکن جہازوں کی ڈیلیوری سے قبل ہی چند ناگزیر وجوہات کی بناء پر یہ معاہدہ منسوخ کردیا گیا۔

پی آئی اے کی نجکاری کا مشورہ دینے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک دہائی میں پی آئی اے کو تقریباََ 120 بلین روپے سے زائد کاخسارہ ہوچکا ہے۔ اسکی اہم وجوہات میں Employment to Air-Craft Ratio اور پروازوں میں تاخیر شامل ہے۔ پروازوں میں تاخیر کی وجہ سے 45فیصد مسافر وں کا رجحان دیگر ایئر لائنز کی جانب ہوچکا ہے۔ دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں میں Employment to Air-Craft Ratio کا کلیہ رائج ہے۔ اس کلیے کی بنیاد پر ہی کسی فضائی کمپنی کے منافع کا دارومدار ہوتا ہے۔ دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں میں ائیر کرافٹ ریشو 1:130 سے 1:170 تک ہوتی ہے۔

یعنی ایک جہاز کیلئے 130 سے 170 ملازمین ہونے چاہیئں۔ لیکن سیاسی اور سفارشی بنیادوں پر ہونے والی ضرورت سے زائد بھرتیوں نے پی آئی اے میں ایمپلائیمنٹ ریشو کو 1:540 تک پہنچا دیا ہے۔ یعنی پی آئی اے کے ایک جہاز کیلئے 540 ملازمین بھرتی کیے گئے ہیں۔ اس وقت پی آئی اے میں بوئنگ 777جہاز اڑانے والے سینئر پائلٹ کو تنخواہ اور دیگر مراعات کی مد میں دس سے بارہ لاکھ روپے ماہانہ ادا کیے جاتے ہیں۔ یہ تنخواہ پاکستان میں ایک پی ایچ ڈی ملازم کو ملنے والی تنخواہ سے بھی پانچ گنا زیادہ ہے۔

عرصہ پہلے پی آئی اے کا نعرہ تھاکہ عظیم لوگ ہمارے ساتھ سفر کرتے ہیں (Great People Fly With Us)۔ مگر پھر اس نعرے کو تبدیل کردیا گیا۔ پی آئی اے کا موجودہ نعرہ ہے،ہمارے ساتھ اڑو (Come Fly With Us) ۔ ان دونوں نعروں کا فرق بتا رہا ہے کہ جس قدر پی آئی اے حکام کا اخلاقی معیار گرا ہے، اس سے کہیں زیادہ تیزی سے قومی فضائی کمپنی کا گراف نیچے آیا ہے۔ پہلے والے نعرے میں ایک دعویٰ تھا، فخر کا دعویٰ۔ جبکہ موجودہ نعرے میںحکم کا عنصر بھی موجود ہے اور عامیانہ پن بھی۔ وہی پی آئی اے جو برسوں پہلے شہرت کی بلندیوں کو چھو رہی تھی، گذشتہ کئی سالوں سے اربوں کے خسارے میں رینگ رہی ہے۔

پی آئی اے کی زبوں حالی کا سلسلہ تب شروع ہوا جب پی آئی اے کا ٹکٹ لینا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوا۔ یوں ہوتا تھا کہ ہر فلائٹ فل ہوتی مگر روانگی کے وقت آدھی سے زیادہ خالی ہوتی۔ یعنی پی آئی اے کے اثرورسوخ رکھنے والے ملازمین جعلی ناموں سے جہاز کی سیٹیں بک کرلیتے اور پھر مختلف ایجنٹس کے ساتھ لے دے کرکے ٹکٹس مہنگے داموں فروخت کرتے۔ یہ مسئلہ قومی ادارے میں سیاسی و سفارشی بھرتیوں کے کیوجہ سے شروع ہوا۔ یہ صورتحال مسافروں کیلئے ناقابل برداشت تھی۔

Pakistan

Pakistan

ایک محاورہ ہے کہ کسی کے دل تک پہنچنے کیلئے اسکے پیٹ سے گزرنا پڑتا ہے۔ جو مسافر پاکستانی کھانوں کے رسیا تھے اور اپنی قومی ایئر لائن میں سفر کرنا پسند کرتے تھے، ان کیلئے دوران پرواز فراہم کیے جانیوالے کھانوں کا معیار بھی گر گیا۔ صورتحال یہ ہوگئی کہ کھانوںکا ذائقہ خراب اور باسی ہونے کیساتھ ساتھ ان کھانوں میں سے حشرات الارض کی برآمدگی بھی شروع ہوگئی۔ ان سچائیوں کوواضح کیاجائے تو طویل وقت درکار ہوگا۔
جولائی 2014ء میں پی آئی اے کے چیئرمین محمد علی گردیزی کے ایک بیان کے مطابق کہ پی آئی اے کے 34 جہازوں کے بیڑے میں سے صرف 19جہاز ہی آپریشنل حالت میں ہیں اور باقی جہاز وں کو تکنیکی وجوہات کی بناء پر گرائونڈ کردیا گیا ہے۔

قومی فضائی کمپنی کی بقاء کیلئے نئے جہازوں کی ضرورت ہے۔ محمد علی گردیزی کے مطابق پی آئی اے میں اس وقت پانچ ایئربس 310،ایک ایئربس 320، آٹھ بوئنگ 777 اور چار دو انجن والے طیارے آپریشنل ہیں۔ اس وقت پی آئی اے کو 34 جہاز درکار ہیں جو ہر وقت پرواز کیلئے تیار ہوں۔ وزیر اعظم نے پانچ بوئنگ 777 جہازوں کے حصول کی اجازت دی تھی تاہم بوئنگ کمپنی اور پی آئی اے کے درمیان معاہدے کے متنازعہ ہونے کی وجہ سے معاملہ تاخیر کا شکار ہے۔

Lala, Sanaullah Bhatti

Lala, Sanaullah Bhatti

تحریر: لالہ ثناء اللہ بھٹی