میں تو ہوں مگر تو بھی تو ہے

Justice

Justice

تحریر:انجم صحرائی

لکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ کہیں میرا لکھا تو ہین عدالت نہ بن جا ئے کہ ہما رے ہاں ایسا ہی ہو تا ہے کہ موم کی ناک بنے ہمارے انصاف میں ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفا جات ۔خبر کچھ یوں تھی کہ سپریم کو رٹ نے وزیر اعظم کی نا اہلیت با رے درخواست 17 سال بعد غیر مو ثر قرار دیتے ہو ئے خا رج کر دی ۔ یہ درخواست اس وقت کے وزیراعظم کی اہلیت کو چیلنج کرتے ہو ئے دا ئر کی تھی ۔الزامات وہیں ہیں جو آج بھی ہمیں ڈی چوک کے دھر نے میں روز عمران خان دہراتے سنا ئی دیتے ہیں۔ کسی بھی در خواست کو منظور
کر نا نہ کر نا یہ عدالت کا حق ہے ظا ہر ہے کہ اس امر کا فیصلہ منصف انصاف کو ہی مد نظر کر تے ہیں سو ہمیں بھی اس

در خواست کے غیر مو ثر ہو نے اور خا رج کئے جا نے پر کو ئی اعتراض نہیں ہم اگر دل گر فتہ ہیں تو اس بات پر کہ انصاف کے اس اظہار پر 17سال کا طویل عر صہ لگا ۔ویسے یہ کو ئی ایسی خبر نہیں جسے انہو نی کہا جا ئے وہ اس لئے کہ ہمارے ہاں ایسا ہی ہو تا ہے۔ آزا دی کے بعد بر سر اقتدار آ نے والی سبھی سیا سی جما عتوں ،اور آمروں نے ہمیشہ عوام کو گھر کی دہلیز پر سستے اور جلد انصاف کی فرا ہمی کی خو شخبری سنا ئی مگر ہوا اس کے بر عکس عوام کے لئے انصاف کی فرا ہمی کا حصول مہنگا اور طویل تر ہو تا گیا جہاں رشوت ، شفارش اور اقربا پروری کے آکٹو پس نے سبھی معا شرتی طبقات کو اپنے شکنجے میں جکڑا ہے وہاں ہما ری عد لیہ پر بھی کئی سوالات اٹھتے ہیں ۔

آزادعد لیہ کی تحریک میں وکلا سمیت عام پا کستا نیوں نے بھی اپنا بھر پورکردار ادا کیا جبھی تو سب سے پہلے پا کستان کا نعرہ لگا نے والے پر ویز مشرف کو بھر پور مزا حمت اور قوت کے با و جود ایک جج کے مقا بلے میں پسپا ئی اختیار کر نا پڑی۔ یہ شا ید دنیا میں ایک منفرد مز ا حمتی تحریک تھی جو صرف انصاف اور منصفوں کی با لا دستی کے لئے تھی ۔ امید تھی کہ آزاد عد لیہ کے بعد عام آد می کے لئے انصاف کا حصول سستا اور آسان ہو گا مگر اے بسا کہ آ ر زو خا ک شد ، انصاف کا پر نا لہ آج بھی وہیں ہے جہاں پہلے تھا۔

گلو بٹ کو گیارہ سال کی سزا صرف اس جرم پر سنا ئی گئی کہ اس نے حاکموں کی خو شنودی کے لئے اپنے ہا تھوں قتل کی جا نے والی گا ڑ یوں کی لا شوں پہ رقص کیا اور جشن منا یا لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ آ ئے روز معصوم انسا نوں کو اپنی بر بریت کا نشا نہ بنا نے والے ، قو می خزا نہ لو ٹنے اور خلق خدا کونو چنے اور کھسو ٹنے والو ں تک پہنچتے پہنچتے انصاف کے پر جلنے لگ جا تے ہیں ۔ کیا یہ ایک مذاق نہیں کہ عدا لت ایک اشتہاری کے وارنٹ گر فتاری جا ری کرے اور حکومت یہ فیصلہ کرے کہ اسے گر فتار نہیں کیا جا ئے گا ۔ کیا حکومت کو اختیار حا صل ہے کہ وہ مجاز عدالت کے حکم کے خلاف کا روا ئی ڈال سکے ، کیا یہ تو ہین عدا لت نہیں ؟ کیا ایک عام آ د می کو حکو مت یہ رعا ئت دینے کے لئے تیار ہے ؟

Imran Khan

Imran Khan

سیاست کے میدان میں پہلوان مسلسل چا ند ما ری میں لگے ہیں ۔ عمران خان کہتے ہیں میاں صا حبان نے پا نچ سال میں 5 ہزار ٹیکس دیا ۔پر ویز رشید کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے بہت سے ممبران ٹیکس نہیں دیتے ۔ عمران خان کہتے ہیں جہا نگیر ترین نے پا نچ سالوں میں سات ارب کما ئے ڈھا ئی ارب ٹیکس دیا۔ اب ان کو کون بتا ئے کہ عام آ د می ان سب سے زیا دہ ٹیکس دے رہا ہے اور سہہ رہا ہے۔ ایک ما چس کی ڈبیا سے لے کر بجلی کے بلوں تک سبھی جگہ سیلز ٹیکس سمیت نہ جا نے کہاں کہاں یہ سطح غر بت سے نیچے زند گی بسر کر نے والے عام لوگ سر کار کا پیٹ بھر تے ہیں اپنا پیٹ کاٹ کے ۔ہمارے ایک مہربان ریٹا ئرڈ پرو فیسر دوران ملاا زمت اپنا خطبہ عمو ما اس شعر سے سجا یا کرتے تھے
میرے ملک کی سیا ست کا حال مت پو چھو
طو ائف گھری ہو ئی ہے تما ش بینوں میں

تما ش بینوں پہ یا د آ یا کہ کہ سا بقہ پی پی پی دور میں ہما رے وسیب کے جیا لے پی پی پی منسٹر کو اسلام آ با د پو لیس نے ایک مساج سنٹر سے گر فتار کر لیا ۔ وہاں سے صرف وزیر مو صوف ہی نہیں بلکہ اور بہت سے شر فا بھی گر فتا ر ہو ئے ۔ گر فتار کئے جا نے والے اتنے تھے کہ قا نون کے رکھوالوں کے پاس ہتھکڑیاں کم پڑ گئیں جس کی وجہ سے زیر حراست وزیر مو صوف کے ہا تھوں کو رسیوں سے با ندھ کر لے جا یا گیا اور یہ منا ظر پو ری قوم نے ٹی وی چینلز پر براہ راست دیکھے ۔اب کو ئی زرداری حکو مت کو جو بھی کہے ایک کر یڈٹ ہے اس حکو مت کا کہ اس دور میں جو بھی قا نون کو مطلوب ہوا حکو مت نے سر تسلیم خم کیا ۔چا ہے۔ وزرا کی گر فتا ریوں سے لے کر وزرائے اعظموں کی نا اہلیوں تک سھی کچھ بر دا شت کیا یہاں تک کہ سسٹم بچا نے کے لئے اے آروز کے الیکشن بھی ۔

سسٹم بچا نے کے لئے مشرف کا این آر او ، پی پی پی کی مفا ہمت پا لیسی ،عمران خان کے لفظوں میں نواز لیگ کا مک مکا ئو سب ٹھیک اور جا ئز ہیں اگر اب حکمران اور اپو زیشن یہ طے کر لیں کہ سسٹم بچے گا ، سسٹم رہے گا مگر اب سسٹم اپنی اصل صورت اور اصل روح کے سا تھ بحال ہو گا۔ اداروں کو با اختیار ہوں گے ، انصاف آسان سستا اور سب کے لئے یکساں ہو گا۔

عوام کے علا وہ سبھی ارب پتی بن چکے ہیں ۔ ایوان اقتدار سے لے کر تحریک انصاف کے دھرنوں اور سیا سی جلسوں تک سبھی جگہوں سے “میں تو ہوں مگر تو بھی تو ہے ” کی آ وازیں آرہی ہیں ۔ ۔اور سچی بات عوام کو ارب پتی بننے والوں سے نہ کو ئی شکا یت ہے اور نہ کو ئی گلہ۔ اللہ سب کو دے بقل شخصے ” جنہاں کھا دیاں گا جراں انہاں دے ڈڈھ پیڑ ” عوام نے تو کچھ نہیں ڈ کا را بس اتنا ہوا ہے کہ” کھا یا پیا کچھ نہیں گلا س تو ڑا با رہ آ نے کا “کے مصداق آ زا دی کے 64 بر سوں بعد بھی عوام کے پیٹ میں تو بھوک سے درد ہو رہا ہے ، عوام کا حلق تو پیا س سے خشک ہو رہا ہے ۔۔ یہ بھوک کون مٹا ئے گا ۔عوام اسی کی تلاش میں سب کے جلسوں میں تا لیاں پیٹ رہی ہے نعرے لگا رہی ہے دھمال ڈال رہی ہے ۔۔خو شخبری ہو سسٹم بچا نے والوں کو کہ قوم ہے ابھی سسٹم کو بچا نے والوں کے سا تھ ۔ اسی لئے تو شا ید اسے بچا نے والا کو ئی نہیں۔۔ کو ئی بھی تو نہیں ۔۔۔۔

Anjum Sehrai

Anjum Sehrai

تحریر:انجم صحرائی
www.subhepak.com
subhepak@hotmail.com