کراچی دھماکا : بارودی مواد سانحہ ہزارہ ٹان سے ملتا ہے، تفتیش کار

Karachi

Karachi

کراچی(جیوڈیسک) عباس ٹان دھماکوں میں جاں بحق افراد کی تعداد اڑتالیس ہو گئی ہے۔ تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں استعمال ہونے والا بارودی مواد کوئٹہ ہزارہ ٹان دھماکے سے ملتا جلتا ہے۔ دھماکا ریموٹ کنٹرول یا موبائل فون سے کیا گیا۔ سندھ حکومت نے ملزموں کی نشاندہی کرنے پر 50 لاکھ انعام کا اعلان کیا ہے۔تفتیش کاروں نے اپنی ابتدائی تفتیش میں کہا ہے کہ عباس ٹان میں ہونیوالا دھماکا ہزارہ ٹان کوئٹہ سے مماثلت رکھتا ہے۔ فتیش کاروں کے مطابق ہزار ٹان میں دھماکے کے بعد آگ لگی اور عباس ٹان میں بھی ایسا ہی ہوا۔

دھماکے میں ریموٹ کنڑول یا موبائل فون استعمال کیا گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکے میں ڈیڑھ سو سے ایک سو ستر کلو گرام بارودی مواد استعمال ہوا۔ ادھر پولیس نے دعوی کیا ہے کہ دھماکے میں بارود سے بھری کار استعمال کی گئی۔ کار کو بجلی کے ٹرانسفارمر کے نیچے کھڑا کیا گیا۔ دھماکہ ہوتے ہی ٹرانسفارمر میں آگ لگ گئی جس نے فلیٹس سمیت قرب و جوار کی ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

دو سو سے کے قریب فلیٹس تباہ جبکہ درجنوں دکانیں برباد ہوگئیں۔ دھماکے سیچار فٹ گہرا اور دس فٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا جس سے سات سو فٹ کا ایریا متاثر ہوا۔ پولیس نے حادثے کی جگہ سے دو گاڑیوں کے انجن اور دیگر ضروری شواہداپنی تحویل میں لئے ہیں۔ زخمیوں کو عباسی شہید اسپتال، پٹیل اسپتال، جناح اسپتال اور دیگر قریبی اسپتالوں میں داخل کر ادیا گیا ہے جہاں ان کوطبی امداد دی جا رہی ہے۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک بیان کی جا تی ہے۔