کراچی میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ

Karachi

Karachi

کراچی (جیوڈیسک) میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ تیزہوگئی۔ دہشتگردوں نے پانچ پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد کی زندگیوں کے چراغ گل کردیے۔ کراچی میں قتل وغارت گری کے واقعات میں ایک بارپھراضافہ ہو گیا۔ اب شہریوں کے محافظ بھی غیر محفوظ ہو گئے۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ منگھوپیر کے علاقے اعوان محلہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ریاض نامی ہیڈ کانسٹبل زندگی کی بازی ہار گیا۔

شاہ فیصل کالونی کو کورنگی سے ملانے والے فلائی اوور پر تعینات پولیس اہلکاروں پر مسلح افراد نے خودکار ہتھیاروں سے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ تین پولیس اہلکار کانسٹیبل افضل، ہیڈ کانسٹیبل ذوالفقار اور ہیڈ کانسٹیبل غلام شبیر موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ کانسٹیبل اسلم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ھسپتال میں دم توڑ گیا۔ ایس پی ملیر کے مطابق چاروں اہلکاروں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔

فلائی اوور پر شہریوں سے لوٹ مار کی وارداتوں میں اضافے کے بعد پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ جرائم کی شرح میں کمی دہشتگردوں کو ایک آنکھ نہ بھائی۔ لٹیروں اورٹاگٹ کلرز نے جرم روکنے والوں کو دوسری دنیا کی سیر کرادی۔ فلائی اوور پرسفر کرنے والے شہری ایک بار پھر غیر محفوظ ہو گئے۔

گور نرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے پولیس اہلکاروں پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے چوبیس گھنٹوں میں واقعے کی رپورٹ طلب کر لی۔ سندھ حکومت کیا کررہی ہے۔ کچھ خبر نہیں۔ ابوالحسن اصفہانی روڈ پر گھات لگائے مسلح افراد نے فائرنگ کرکے بدرعلی نامی شہری کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔