کشمیر میں آزادی کا سورج !

Kashmir Freedom

Kashmir Freedom

تحریر : ڈاکٹر تصور حسین مرزا

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ” پاکستان اسلام کا قلعہ ہے ” سیاسی اور ذاتی پسند و ناپسند سے ہٹ کر ہر وہ باشعور انسان جو حقیقت پسند ہے وہ ہی یہ بات کہنے پر مجبور ہے کہ اسلامی جموریہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان ” دنیا اسلام کا قلعہ پاکستان کے محب وطن اور عاشقِ رسول ۖ ” ہے!جنرل اسمبلی کے اجلاس میںاسلامی جموریہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کو وہ آئینہ دیکھایا ہے جو وہ جان بوجھ کر دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔ عمران خان نے کہا ، نائن الیون واقعے میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا، 70 ہزار پاکستانی ایسی جنگ میں مارے گئے جن کا اس سے تعلق ہی نہیں تھا۔

عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان نے تمام انتہا پسند گروپس ختم کر دیے ہیں لہٰذا اقوام متحدہ سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنا مشن بھیج کر چیک کرالیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ اقتدار میں آنے کے بعد بھارت سے مذاکرات کی بات کی، مودی کو بتایا کہ ہمارے مشترکہ چیلنجز ہیں لیکن بھارت نے مذاکرات کی پیشکش ٹھکرادی، بھارتی وزیراعظم کو کہا غربت اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے لڑیں، مودی نے کہا پاکستان سے دہشت گرد حملے ہوتے ہیں تو بھارتی وزیراعظم کو بتایا کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے، کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں دہشت گردی کا اعتراف کیا ہے۔

عمران خان نے دنیا کو بتایا کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے پاکستان پر الزام عائد کرکے بم گرائے، ہم نے ان کے 2 طیارے مار گرائے، ہم نے فوری طور پر ان کا پائلٹ واپس کیا کیونکہ ہم امن چاہتے تھے، بھارت میں واویلا کیا گیا کہ پاکستان میں درجنوں دہشت گرد مارے، انہوں نے صرف 10 درخت تباہ کیے جس کا ہمیں دکھ ہے کیوں کہ ہم نے بڑے پیار سے وہ درخت لگائے تھے۔ عمران خان کی اس بات پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے سلامتی کونسل کی 11 قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، مقبوضہ وادی میں اضافی فوجی نفری تعینات کی اور کرفیو لگاکر 80 لاکھ لوگوں کو گھروں میں محصور کردیا۔وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم سے متعلق کہا کہ مودی آر ایس ایس کے رکن ہیں جو ہٹلر اور مسولینی کی پیروکار تنظیم ہے۔

آر ایس ایس کے نفرت انگیز نظریے کی وجہ سے گاندھی کا قتل ہوا، آر ایس ایس بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کررہی ہے اور یہ ہٹلر سے متاثر ہو کر بنی، آر ایس ایس بھارت سے مسلمانوں اور عیسائیوں سے نسل پرستی کی بنیاد پر قائم ہوئی، اسی نظریے کے تحت مودی نے گجرات میں مسلموں کا قتل عام کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ افرادکو جانوروں کی طرح بند کیا ہوا ہے، یہ نہیں سوچا گیا کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھے گا تو کیا ہوگا، دنیا نے حالات جان کر بھی کچھ نہیں کیا کیونکہ بھارت ایک ارب سے زیادہ کی منڈی ہے، مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھنے پر خونریزی ہو گی۔

مقبوضہ وادی میں 11ہزار خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایاگیا، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی حامی سیاسی قیادت کو بھی قید کررکھاہے، مقبوضہ کشمیر میں خون خرابیکے بعد ایک اورپلواما ہوسکتا ہے اور بھارت ہم پرالزام لگائیگا، بھارت میں کروڑوں مسلمان کیا یہ سب نہیں دیکھ رہے؟ بھارتی حکومت نے 13 ہزار کشمیری نوجوانوں کو مختلف جیلوں میں قید کررکھاہے۔وزیر اعظم عمران خان نے مسلمانوں پر مظالم کے حوالے سے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا جاتا ہے اور پوری دنیا خاموش رہتی ہے، اگر لاکھوں یہودی اس طرح محصور ہوں تو کیا ہوگا؟

روہنگیا میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا، دنیا نے کیا رد عمل دیا؟ اگرخونریزی ہوئی تو مسلمانوں میں انتہا پسندی اسلام کی وجہ سے نہیں بلکہ انصاف نہ ملنے کی وجہ سے ہوگی۔انہوں نے دنیا کو ایک ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے مداخلت نہیں کی تو دو جوہری ملک آمنے سامنے ہوں گے، اس صورتحال میں اقوام متحدہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اگر پاکستان اور بھارت میں روایتی جنگ ہوتی ہے تو کچھ بھی ہوسکتاہے، یہ وقت اقوام متحدہ کی آزمائش کا ہے،کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوایا جائے۔

وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں بھارت سے مطالبہ کیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے 50 روز سے زائد جاری کرفیو اٹھائے، کیا اقوام متحدہ ایک ارب 20 کروڑ لوگوں کو خوش کرے گا یا عالمی انصاف کو مقدم رکھے گا؟ عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘فرض کریں کہ ایک ملک اپنے پڑوسی سے سات گنا چھوٹا ہے، اسے دو آپشنز دیے جاتے ہیں، یا تو وہ سرنڈر کردے یا پھر اپنی آزادی کیلئے آخری سانس تک لڑے، ایسے میں ہم کیا کریں گے؟ میں خود سے یہ سوال پوچھتا ہوں، اور میرا یقین ہے کہ لاالہ اللہ ہم لڑیں گے’۔ عمران خان کے اس جملے پر ہال دوبارہ تالیوں سے گونج اٹھا۔

پھر وزیراعظم عمران خان نے خبردار کیا کہ ‘جب ایٹمی طاقت کا حامل ملک آخری حد تک جنگ لڑتا ہے اس کے اثرات صرف اس کی سرحد تک محدود نہیں رہتے، دنیا بھر میں ہوتے ہیں، میں پھر کہتا ہوں کہ یہی وجہ ہے کہ میں آج یہاں کھڑا ہوں، میں دنیا کو خبردار کررہا ہوں، یہ دھمکی نہیں، لمحہ فکریہ ہے’۔اسلامی جموریہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کو تمام قید کشمیریوں کو رہا کرنا ہوگا اور بھارت کو کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینی پڑی گی۔

عمران خان وزیر اعظم پاکستان نے پاکستانی غیور قوم کی ترجمانی اور اسلامی دنیا کے سپاسلار ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔ اسلام صرف ایک ہے اور وہ ہے سردارالانبیاء حضرت محمد ۖ کو اللہ کا آخری نبی دل و جان سے ماننا ۔ اور اسرائیل کو عمران خان نے ناجائز بچہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتے جب تک فلسطین کو آزادی نہ دی جائے۔ ان تین باتوں سے جو نتائج نکلتے ہیں وہ کچھ یوں ہیں کہ عمران خان ایک سچا اور پکا مسلمان ہے ۔ یہودی ایجنٹ اور قادیانی کہنے والوں کو اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ۖ سے صدقِ دل سے توبہ کرنی چاہیے ۔ کشمیر کا مقدمہ لڑنے اور آخری حد تک جانے کی وارننگ کرکے محب وطن ہونے کا پختہ ثبوت فراہم کر دیا ہے ۔ ان شااللہ اب وہ وقت دور نہیں جب کشمیر میں آزادی کاسورج طلوع ہو گا۔

DR Tasawar Hussain Mirza

DR Tasawar Hussain Mirza

تحریر : ڈاکٹر تصور حسین مرزا