کشمیر کیلئے ہزاروں مسکراہٹیں

Azad Kashmir

Azad Kashmir

برطانیہ میںکشمیری تارکین وطن کی قائم کردہ ایک تنظیم کشمیر انٹرنیشنل ریلیف فنڈKIRF 1992 سے آزاد کشمیر کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں اپنے رفاہی منصوبے جاری رکھے ہوئے ہے ۔آزاد کشمیر کے کسی بھی علاقے میں کوئی بھی آفت آجائے تو اسی تنظیم کو سب سے پہلے پہنچنے اور لوگوں کی مدد کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔میںاس تنظیم کے ماضی میں سر انجام دیئے گئے۔

بے شمار کارناموں کی بجائے آج ایک ایسے انسانی مسئلے پر بات کرنا چاہتا ہوں جس پہ ہم سب کی توجہ نہ ہونا بھی کسی بڑی کوتاہی سے کم نہیں۔چند روز قبل KIRFسے پچھلے سولہ سالوں سے وابستہ ایک نمائندے سے مختصر ملاقات اتنی طویل ہو گئی کہ میں آج بھی آزادکشمیر کے ان معصوم بچوں کی تصاویر ذہن سے نہیں نکال پا رہا۔

جو پیدائشی طور پر ایک نقص لیکر اس دنیا میں آئے اور ہمارے لیے ایک امتحان شروع ہو گیاکہ ہم انکی بحالی کے لیے کیاکر سکتے ہیںاور کیا کر رہے ہیں؟ اس وقت آزاد کشمیر کے 10اضلاع کے اندر پیدائشی طور پر کٹے ہونٹ اور کٹے تالو کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد کا صحیح علم تو کسی کو نہیں۔

مگر ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ تعداد تین ہزار سے زیادہ ہے اور اس معزوری کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی سالانہ شرح تین سو کے لگ بھگ ہے ۔ایک حالیہ سروے کے مطابق اس بیماری کی دیگر کئی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ کزن میرج کا ہونا ہے چونکہ آزاد کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں قبائلی اور خاندانی معاشرت کا ایک پرانا اور انتہائی مضبوط نظام رائج ہے۔

Patients

Patients

اور خاندان کے اند ر ہی نسل در نسل شادیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری و ساری ہے لہذااس بات کو مدنظر رکھنا پڑے گا کہ اس بیماری کی تعداد کم ہونے کے بجائے روزبروز بڑھ رہی ہے جبکہ اس کا علاج آزادکشمیر میں نہیں ہو رہا۔میں بات کر رہا تھا ایک ملاقات کی جس میں مجھے بتایا گیاکہ KIRFنے گزشتہ سال میرپور میںکٹے ہونٹ، کٹے تالو اور جلے ہوئے۔

مریضوں کے علاوہ دیگر پیدائشی اور حادثاتی مسائل کا شکار مرد و زن کے لیے مفت پلاسٹک سرجری کیمپ کا انعقاد کیاگیاجس میں 158 مریضوں کی مفت پلاسٹک سرجری اور آپریشنز کئے گئے مگر سب سے اہم بات یہ کہ اس کیمپ کے دوران 862 مریضوں کی رجسٹریشن ہوئی۔KIRFنے مریضوں کی اتنی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے اپنے ہسپتال جاتلاںمیرپور میں ایک مستقل سینٹر قائم کر دیا ہے۔

جس میں پورا سال آزاد کشمیر اور پاکستان سے آئے ہوئے مریضوں کے مفت آپریشنز ہونگے۔یہ سینٹر مئی کے وسط میں کام کرنا شروع کر دیگا ۔ حالیہ دنوں میںKIRFنے” کشمیر کے لیے ہزاروں مسکراہٹیں کے نام سے ایک نیا پروجیکٹ شروع کیا ہے اس پروجیکٹ کے تحت KIRFاسی ماہ کے آخر یعنی 28اپریل سے 10مئی 2013تک برطانیہ ۔

دیگر یورپی ممالک سے ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم KIRFکمیونٹی ہسپتال جاتلاں میرپورلا رہی ہے جوآزاد کشمیر اور پاکستان بھرسے کٹے ہونٹ،کٹے تالواور جلے ہوئے مریضوں کے علاوہ دیگرپیدائشی اور حادثاتی مسائل کا شکارافراد کی فری پلاسٹک سرجری اور آپریشن کرے گی۔اس بھرپورکیمپ کی تیاری کے حوالے سے مجھے بتایا گیا۔

کہ آزادکشمیر کے دور دراز علاقے فاروڈکہوٹہ سے آگاہی مہم کا آغاز کیا گیااور ابھی تک عباسپور،ہجیرہ،راولاکوٹ،دھیرکوٹ،باغ،مظفرآباد،کہوڑی پٹہکہ،کنڈل شاہی، آٹھمقام کیل،ہٹیاںبالا،چکوٹھی،چکار،سماہنی،بھمبر،میرپور،چڑہوئی،کھوئی رٹہ،کوٹلی،سہنسہ،نکیال،پلندرری تک سارے آزاد کشمیر اور پاکستان کے مختلف شہروں میں اس فری پلاسٹک سرجری کی کمپین مکمل کر لی گئی ہے جس کی وجہ سے اب تک سینکڑوں مریضوں کی رجسٹریشن ہو چکی ہے ۔ گو کہ یہ کیمپ بارہ دنوں کا ہو گا مگر اس کے انعقاد کے لیے بہت عرصے کی محنت،مخیرحضرات کی مدد اورKIRFکی پوری ٹیم کی دن رات کی محنت نا قابل بیان ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ مہنگائی اور غربت کی چکی میں پسنے والے غریب لوگ اس طرح کے مہنگے علاج کا تصور بھی نہیں کر سکتے اور ایسے لوگوں کی چھینی ہوئی ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں و کروڑوںمسکراہٹوںکی بحالی بلا شبہKIRFکی نہ صرف بڑی کامیابی ہے بلکہ اس طرح کے مریضوں کے ہزاروں خاندانوں کی تسلی اور تشفی کا باعث ہوگی۔

 

تحر یر :

Ch Khalid Hussain

Ch Khalid Hussain