قزاقستان بدامنی: کئی سکیورٹی اہلکار اور مظاہرین ہلاک

Kazakhstan Protesters

Kazakhstan Protesters

قزاقستان (اصل میڈیا ڈیسک) قزاقستان کی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے الماتی میں متعدد مظاہرین کو ‘ختم‘ کر دیا ہے۔ پرتشدد بدامنی پر قابو پانے کے لیے فوج اور بین الاقوامی امن دستوں کو طلب کیا گیا ہے۔

جمعرات کی صبح قزاقستان کے سب سے بڑے شہر الماتی میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔

روسی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق الماتی پولیس نے کہا کہ 20 سے زیادہ “فسادیوں کو ان کے ‘انجام‘ تک پہنچا دیا گیا ہے۔” دوسری جانب سرکاری ٹی وی کے مطابق الماتی میں مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں قانون نافذ کرنے والے بارہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان میں سے ایک اہلکار کا سر قلم کیا گیا تھا۔

پروازیں بند
مشرق وسطیٰ کی ایئر لائنز فلائی دبئی اور ایئر عربیہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ الماتی کے ہوائی اڈے پر مظاہرین کے قبضے کے بعد قزاقستان کے لیے پروازیں معطل کر رہے ہیں۔

جرمن ایئر لائن لفتھانزا نے بھی الماتی کے لیے پروازوں کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

قزاقستان کے نیشنل بینک نے تمام مالیاتی اداروں کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے اور ملک بھر میں انٹرنیٹ بھی بند ہے۔

مظاہرے کیوں کیے جا رہے ہیں؟
الماتی اور دارالحکومت نور سلطان میں مظاہرے یکم جنوری سے ملک بھر میں لاگو ہونے والے ایک نئے قانون کے ردعمل میں شروع ہوئے۔ اس قانون کے مطابق ایندھن کی قیمتوں پر کنٹرول ختم کر دیا گیا اور یوں پٹرول کی قیمتوں میں یک دم بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔

وزیر اعظم عسکر مامن کی حکومت نے استعفیٰ دے دیا ہے اور صدر قاسم جومارت توکایف نے الماتی میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔

روس کی مدد

قزاقستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر قابو پانے میں مدد کے لیے ماسکو کی زیرقیادت ایک فوجی اتحاد نے جمعرات کو اپنے دستے بھی روانہ کر دیے تھے۔

بڑھتے ہوئے دباؤ کے تحت ملکی صدر نے راتوں رات روس کے زیر قیادت مشترکہ سلامتی معاہدہ تنظیم، جس میں پانچ دیگر سابق سوویت ریاستیں شامل ہیں، سے اپیل کی کہ وہ بیرون ممالک سے تربیت حاصل کرنے والے ‘دہشت گرد گروپوں’ کا مقابلہ کرنے میں ان کی حکومت کی مدد کریں۔

توانائی سے مالا مال قزاقستان کو اس وقت کئی دہائیوں کے اپنے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔