اے وطن کے سجیلے جوانو! کی تقریب رونمائی

Journalist

Journalist

تحریر: محمد شاہد محمود

اسد اللہ غالب پاکستان کے ایک ممتاز اور سینئر صحافی ہیں جو پچھلے طویل عرصہ سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ چند دن پہلے انہوںنے ضرب عضب نامی کتاب لکھی اور اب اے وطن کے سجیلے جوانو! نامی ان کی ایک اور کتاب منظر عام پر آئی ہے جس کی ہفتہ کو مقامی ہوٹل میں تقریب رونمائی ہوئی جس میں امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید، پاکستان مسلم لیگ (ض) کے سربراہ اعجاز الحق، سابق گورنر خالد مقبول، تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق گورنرچوہدری محمد سرور،ضیاء شاہد، مجیب الرحمن شامی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام مصطفی، سابق سینیٹر سجاد بخاری، خورشید احمد،لطیف چوہدری، آصف بھلی و دیگرنے شرکت کی۔ تقریب رونمائی میں مذہبی و سیاسی قائدین، عسکری ماہرین اور دانشور حضرات نے متفقہ طور پر قرار یا کہ خوفناک سازش کے تحت فوج اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

فوج، عوام اور دیگر سب طبقوں کو ا یک کر کے پھر سے 1965ء والے جذبے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔بھارت سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار اور ازلی دشمن ہے۔ ا سکے ساتھ کوئی بیک چینل ڈپلومیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔بھارت و امریکہ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کو میدان جنگ بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔بلوچستان اور خیبر پی کے سمیت پورے ملک میں دہشت گردی کا ذمہ دار بھارت ہے۔شہداء کی قربانیوں کی اللہ تعالیٰ ضرور لاج رکھتا ہے۔

پاکستان ان شاء اللہ قائم و دائم رہے گا اور دشمن کی سب سازشیں ناکام ہوں گی۔ ہم بھارت سے کشمیر لیکر رہیں گے۔ مقبوضہ کشمیر بھی اسی طرح ملے گا جس طرح آزاد کشمیر حاصل کیا گیا تھا۔تقریب میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر جماعةالدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایک خوفناک سازش کے تحت فوج اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔یہ سازشیں کرنے والے وہ ہیں جو پاکستان کو تباہی سے دوچار کرنا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے راستہ میں فوج سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ وہ اس رکاوٹ کو دور کرنا چاہتے ہیں۔اسداللہ غالب کی کتاب ”اے وطن کے سجیلے جوانو”قوم کے نام پیغام ہے کہ ہمیں اپنے دفاع کیلئے قربانیاں پیش کرنے والوں کے ساتھ کھڑے رہنا ہے۔ اس کتاب کے پڑھنے سے 1965ء والا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ہم اس ملک میں رہتے ہیں جس کا دشمن مشرق اور مغرب میں بیٹھا ہوا ہے۔ امریکہ نے انڈیا کی فوج کو افغانستان میں لا بٹھایا ہے۔

پاکستان نے امریکہ کو اپنی فضائیں، زمینیں اورا ڈے دیے مگر اس کے باوجود امریکہ انڈیا سے معاہدے کر رہا ہے اور پاکستان کو نقصانات سے دوچار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ امریکہ و انڈیا اس وقت بہت پریشان ہیں۔ پاکستانی جرنیل آج جب امریکہ، برطانیہ یا دوسرے ملکوں میں جاتے ہیں تو ان کا استقبال ایک فاتح کی حیثیت سے ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی قوم کو مایوسیوں سے نکالنا چاہیے۔پاکستان تین عشروں سے جنگ لڑرہا ہے اور دو سپر پاورز نے اس کے مقابلہ میں شکست کھائی ہے۔ روس اور امریکہ گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرکے مشرق وسطیٰ اور خلیج پر قبضہ چاہتے تھے مگر اس میں ناکام ہوئے ہیں۔ اللہ نے پاک فوج کو عزت اور توفیق بخشی ہے۔

United States

United States

امریکہ نے ہمیشہ اپنے مفادات میں فیصلے کئے ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ روس کے خلاف جنگ تو امریکہ نے لڑی تھی یہ بات درست نہیں ہے۔ امریکہ بہت بعد میں آیا تھا اس جنگ کیلئے صف بندی بہت پہلے ہو چکی تھی اور اس بنیاد پر یہ جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہم نے ملک کا دفاع کرنا ہے کیونکہ اگر یہ محفوظ نہ رہا تو پھر روس کو دوسرے 58ملکوں تک جانے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان نے یہ جنگ لڑی اور جیتی ہے ۔ شہداء نے میدانوں میں جو مقدس لہو پیش کیا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرور لاج رکھتا ہے۔آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ اسی میدان میں امریکہ بھی شکست کھا کر واپس جارہا ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ ملک کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ۔ آج دنیا پر یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اس خطہ کے لوگ دین اسلام اور قوموں کی بھلائی کیلئے سوچتے ہیں۔

امریکی جرنیل اور ان کے تھنک ٹینک پیٹ رہے ہیںکہ یہ شکست انہیں پاکستانی فوج کی طرف سے دی گئی ہے۔ہمیں کسی احساس کمتری میں نہیں رہنا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اللہ نے نعمت کے طور پر دیا ہے۔ وطن عزیز پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور اس کی فوج دفا ع کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوج، عوام اور دیگر سب طبقوں کو ا یک کر کے پھر سے 1965ء والے جذبے پیدا کئے جائیں۔فوج اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا کرنے والی ساز ش کا خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ کارگل کے بارے میں بعض لوگ کمشن بنانے کی بات کرتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت سول اور فوجی قیادت ایک پیج پر نہیں تھی جس کی وجہ سے نقصان ہوا۔اس حوالہ سے کسی کمشن بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ 1948ء میں کشمیری مجاہدین سری نگر تک پہنچنے والے تھے کہ نہرو بھاگا ہوا اس مسئلہ کو یو این میں لے گیا اور بھارت کی درخواست پر ساری دنیا اسے بچانے کیلئے آگئی

جس پر قرارداد منظور کی گئی اورپھر لیاقت علی خاں کے کہنے پر کشمیری مجاہدین واپس آگئے۔ اگر اس وقت تھوڑے دن اور مل جاتے تو کشمیر کا جھگڑا باقی نہ رہتا۔ آج چترال، گلگت بلتستان اور چین کے پاکستان سے ملنے والے راستے کاٹنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔انڈیا ہمارا دشمن ہے۔ ا سکے ساتھ کوئی بیک چینل ڈپلومیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ وہ سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار ہے۔ مجھے کہاجاتا ہے کہ میں انڈیا کے حوالہ سے بہت سخت ہوں۔ میں کیوں نہ سخت ہوں کہ بھارت پاکستان کا پانی روک کر ملک کو بنجر بنانے کی کوششیں کر رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیاتھا۔ہم بھارت سے کشمیر لیکر رہیں گے مگر یہ صرف باتوں سے نہیں ملے گا بلکہ جس طرح راولاکوٹ، کوٹلی، میر پور اور مظفر آباد ملے تھے اسی طرح سے باقی کشمیر بھی ملے گا لیکن اس کیلئے جنرل راحیل شریف اور نواز شریف کے جذبے ایک ہونے چاہئیں۔جو قوم دو سپر پاورز کو شکست دے سکتی ہے انڈیا اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔سابق گورنر جنرل (ر) خالد مقبول نے کہاکہ2008میں ممبئی حملوں کے بعد بھارت میں ہونے والے الیکشن میں مودی وزیراعظم بناتو پاکستان کو سمجھ آ گئی کہ یہ معاملات بہت گہرے ہیں۔پاکستان کا پانی بھارت نے روکا۔

یہ معاملات کمزوریوں سے حل نہیں ہو سکتے پاکستان طاقت کے ساتھ اور مضبوط مئوقف کے ساتھ کھڑا ہو۔ پاکستان کے دفاع کو مضبوط کرنا ہو گا ہمارا ہندوستان کے ساتھ نہ ختم ہونے والا تصادم ہے۔سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ سانحہ پشاور درحقیقت پاکستان پر حملہ تھا ۔جس کے بعد ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سب نے متحد ہو کر تہیہ کیا۔ پڑوسی ملک افغانستان میں جو ہوا آج اسی کا خمیازہ پاکستانی قوم بھگت رہی ہے۔جب تک ہم دہشت گردی کی جڑیں تلاش نہیں کریں گے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ فوج کے ساتھ محبت درحقیقت پاکستان کے ساتھ محبت کا نتیجہ ہے۔فوج اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔جس ملک کی فوج طاقتور نہیں ہوتی اس ملک میں دشمن کی فوج کو موقع ملتا ہے۔

روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیاء شاہد نے کہاکہ پاک فوج نے ہمیں جتنے ہیروز دیے اور جو تاریخ ساز قربانیاں پیش کی ہیں اس نے ورلڈ وار کے سب واقعات کو دھندلا کر رکھ دیا ہے۔ 1965ء کی جنگ سے پہلے صحافتی ادارے دوسروں کے واقعات نقل کیا کرتے تھے۔ سینئر صحافی اور کالم نگار اسد اللہ غالب نے کہاکہ اس بات پر اب قومی اتفاق رائے موجود ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔یہ انتہائی خوش آئند بات ہے۔ انہوںنے کہاکہ شہداء کی قربانیوں کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک سنٹرل لیبر یونین کے جنرل سیکرٹری خورشید احمد نے کہا کہ ہماری افواج قربانیاں دے کر دہشت گردی کے خلاف جہاد کر رہی ہے۔اس سے پاکستان میں امن ہو گا اور آزادی برقرار رہے گی۔ہمیں تاریخ ماضی سے سبق حاصل کرنا ہو گا۔سابق سینیٹر سجاد بخاری، لیفنٹینٹ جنرل(ر) غلام مصطفی،لطیف چوہدری، آصف بھلی و دیگر نے اسد اللہ غالب کی کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے اندر پاکستان سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔جذبے ہی قوموں کو آگے لے کر جاتے ہیں۔کتاب میں کشمیر کی بات کی گئی یہ جغرافیائی مسئلہ نہیں بلکہ تکمیل پاکستان کا مسئلہ ہے۔کشمیر کے بغیر پاکستان ادھورا ہے۔اور ادھورا پاکستان ہم اپنی نسلوں کو نہیں دے سکتے۔ اسداللہ غالب لکھتے رہیں گے اور وطن کے محافظوں کا کارواں بنتا رہے گا۔

Shahid Mehmood

Shahid Mehmood

تحریر: محمد شاہد محمود
برائے رابطہ: 0321-4095391