لیہ کی سیاسی ڈائری

Ch Ashfaq MPA

Ch Ashfaq MPA

14 اگست کو عمران خان کی جانب سے آزادی مارچ کی تحریک چلانے کے اعلان کے بعد حکومتی صفوں میں ہل چل مچ گئی۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف کے حکم پر رابطہ کمیٹی کے ارکین نے اسمبلی اور پارٹی ورکروں سے ماہ رمضان کے ایام میں شدید گرمی کے باعث دورے شروع کر دیئے۔ ناراض اراکین اسمبلی اور ورکروں کو منانے کیلئے انہیں پارٹی عہدوں اور مختلف کمیٹیوں میں شامل کرنے کے دعوے اور حکومت نے سب سے پہلا کام اپنے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کو منانے کا کیا۔

اطلاع کے مطابق میاں شہباز شریف کی جانب سے کوششوں کے بعد چوہدری نثار علی رائیونڈ تو پہنچ گئے۔ اور بعد ازاں اسلام آباد میں بھی ملاقات کروا دی گئی اور وقتی طور پر صلح بھی کر لی لیکن چوہدری نثار علی کی جانب سے مسلسل خاموشی کے باعث لگتا ہے کہ معاملات ابھی باقی ہیں۔ دوسری جانب میاں نواز شریف جن کی حکومت کو ڈیڑھ سال ہونے کو ہے کے اس مرتبہ بھی سابقہ ادوار کی طرح اسٹیبلشمنٹ اور بیورو کریسی کے کندھوں پر حکومت کی۔ ہر ضلع میں بیورو کریسی کے افسران کو عوام اور پارٹی ورکروں پر ایسے مسلط کیا کہ ڈی سی او سمیت دیگر ضلعی افسران پارٹی ورکرز کی بات سسنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔

یہی وجہ ہے کہ 1970 میں قائم ہونے والی پیپلز پارٹی آج تک عوام میں موجود ہے۔ کیونکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کارکنوں کو اہمیت دی۔ اور انہیں بڑے سے بڑے پارٹی و حکومتی عہدیدار کے سامنے ڈٹ کر بات کرنے کا حوصلہ دیا لیکن مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ عہدیداروں سے لے کر ممبرران اسمبلی میں پارٹی ورکروں کی جانب سے بات سننے کا حوصلہ موجود نہیں۔ جس کے باعث اس وقت پارٹی ورکر سخت نالاں نظر آتے ہیں۔

دوسری جانب ناراض اراکین کو منانے اور ملک بھر میں مسلم لیگ (ن) کی تنظیموں کا از سرِ نو جائزہ لینے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں۔ پنجاب کے 36 اضلاع میں ماہ رمضان کے سخت گرمی کے مہینے میں فوری طور پر پنجاب مسلم لیگ (ن) کی رابطہ کمیٹی کے اراکین سعود مجید ایم این اے بہاولپور ، مہر اشتیاق ایم این اے لاہور ، سمیع اللہ چوہدری ایم پی اے بہاولپور اور ذیشان رفیق اسپیشل اسسٹنٹ رابطہ کمیٹی وزیر اعلیٰ پنجاب نے مظفر گڑھ ، جھنگ ، بھکر اور لیہ کے دورے کیئے۔ لیہ میں ان دنوں ضلعی باڈی سے لے کر تحصیل سٹی اور وارڈ کی سطح پر کہیں کوئی تنظیم موجود نہیں۔

ضلعی صدر عابد انوار علوی پر الزام ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ کے لیہ کے ایم پی اے کی مخالفت کی۔ جبکہ جنرل سیکریٹری چوہدری بشارت رندھاوا نے حلقہ 264 میں مسلم لیگی امیدوار کے مقابلہ میں آزاد حیثیت سے خود الیکشن لڑ کر پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی جس کے باعث ان دونوں کی رکنیت معطل کر دی گئی تھی۔ ضلع لیہ کی تحصیل کروڑ لعل عیسن میں تحصیل ، سٹی اور وارڈ سطح پر گزشتہ 15 سال سے کوئی تنظیم موجود نہیں۔ جس کی بڑی وجہ سابق صوبائی وزیر ملک احمد علی اولکھ ہیں جو کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہتے۔ مسلم لیگ (ن) کو ضلع لیہ میں مضبوط بنانا ہے تو غیر متنازعہ اشخاص کو ضلعی سیکریٹری و صدر نامزد کرنا ہوگا۔ جیسے سنا جا رہا ہے کہ اگر احمد علی اولکھ کو ضلع صدارت کا عہدہ دے دیا گیا تو پھر مسلم لیگ (ن) کا اللہ ہی حافظ ہو گا۔

Mehar Ijaz

Mehar Ijaz

شائد سیکنڑوں کارکن مسلم لیگ (ن) کو خیر آباد کہہ سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہاں کا راقم خود میاں نواز شریف کا حمایتی ہے۔ تحریک نجات سمیت دیگر بہت سے مقدمات کا سامنا کر چکا ہوں اور اپنا ذاتی نقصان بھی لیکن اندھی تقلید کرنے کی بجائے صحافی ہونے کی ناطے سچ لکھنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ پھر کہوں گا کہ ضدی قیادت کو شائد تنقید اچھی نہیں لگتی۔

مطلب یہ کہ میاں نواز شریف نے الیکشن کے دوران اور بعد میں بھی بار ہا اعلان کیا کہ ہی کسی لوٹے کو مسلم لیگ (ن) میںشامل کیا جائے گا اور نہ ہی کوئی عہدہ یا وزارت دی جائے گی۔ لیکن 70 فیصد لوٹے جن کا تعلق (ق) لیگ سے تھا کو مسلم لیگ کے ٹکٹ بھی دیئے گئے اور کچھ وزارتوں پر بھی فائز کر دیئے گئے۔ یا کیئے جارہے ہیں۔ اور بعض جگہوں پر جہاں مسلم لیگ (ن) کے وفادار جنہوں نے مشرف دور میں ضلعی نظامت ، ایم این اے اور ایم پی اے بننے سے انکار کر دیا اپنی زندگی میاں نواز شریف کیلئے وقف کر دی۔ لیکن الیکشن میں زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کیونکہ الیکشن جیتنے کیلئے کروڑوں روپے امیدواوں نے خود خرچ کرنا ہوتے ہیں اور وہ بھی جیت کیلئے، نہ کہ ہار کیلئے۔ ان افراد نے قیادت کو باور کروایا کہ ان کا الیکشن پارٹی کی جانب سے مسلط کردہ ایم پی ایز کے ساتھ نہیں بنتا۔ لہٰذا ان کو اپنے ونگ خود بنانے کا موقع دیا جائے۔ لیکن ضدی قیادت نے ایک نہ سنی اور اب اپنے ہی ایم این اے صاحبزدہ فیض الحسن جنہوں نے ایک لاکھ 20 ہزار ووٹ حاصل کیئے اور 4 لاکھ لوگوں کی نمائندگی کر رہے ہیں کو معمولی 24 ہزار ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار صوبائی اسمبلی ملک احمد علی اولکھ کے مقابلے میں نیچا دکھایا جا رہا ہے۔ اور حمزہ شہباز شریف کی جانب سے ڈی سی او لیہ پوری طرح مسلم لیگی حکومتی ایم این اے کو نظر انداز کر نے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور بے توقیری کی انتہا کر دی گئی ہے۔ صاحبزادہ فیض الحسن نے ناصرف سابق وفاقی وزیر دفاعی پیداوار بہادر خان سیہڑ کو 40 ہزار سے بھاری شکست دی۔ حالانکہ صاحبزادہ ایسا ایم این اے ہے جن کے پاس پنجاب کے دیگر اضلاع خوشاب ، بھکر ، جھنگ ، مظفر گڑھ ، ڈی آئی خان میں بھی ان کے مریدین کا ووٹ بنک موجود ہے۔ جس سے مسلم لیگ کو بہت بڑا ووٹ پڑتا ہے اور پھر حلقہ NA-181 میں مسلم لیگ (ن) کے پاس ایم این اے کا کوئی امیدوار موجود نہیں۔

Mehar Ishtyaq

Mehar Ishtyaq

میاں برادران نے اگر اپنی اصلاح نہ کی تو سابقہ ادوار کی طرح ان کے ڈیڑھ سے دو سال ہونگے۔ مسلم لیگ (ن) نے کارکنوں کو متحرک کرنے کیلئے تنظیم سازی مہم شروع کر دی۔ گزشتہ روز سرکٹ ہائوس لیہ میں مسلم لیگ پنجاب کی رابطہ کمیٹی کے قابل ذکر
اراکین پہنچے۔ جہاں پر ایم این اے صاحبزادہ فیض الحسن ، ایم پی ایز مہر اعجاز اچلانہ ، چوہدری اشفاق احمد ، سابق ایم پی اے ملک عبدالشکور سواگ ، سابق صدر مسلم لیگ (ن) چوہدری عبدامجید جاوید ، ناصر خان مگسی ، مہر اسلم سمراء ، حسنین خان مگسی ، رانا سرور ، عمر علی اولکھ ، سردار ذوالفقار علی خان ایڈووکیٹ ، ظفر اقبال ایڈووکیٹ ، علی اصغر گجر ، سید الطاف شاہ ،مہر محبوب ملوانا، عبدالحکیم شوق ، ملک شمع ، ڈاکٹر خضر حیات، ایم این اے سید ثقلین بخاری کے بھائی سمیت درجنوں کارکنوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مسلم لیگی ورکروں نے اعلیٰ قیادت کے بارے میں شکایتی تقریریں کی اور کہا کہ میاں برادران نے ہمیشہ پارٹی ورکروں کو نظر انداز کیا ہے۔ میاں نواز شریف کی جب بھی حکومت آئی بیوروکریسی کو مضبوط اور کارکنوں کو کمزور کیا گیا۔ موجودہ ڈی سی او کارکنوں سے ملنا تک گوارہ نہیں کرتے ہیں۔ کارکنوں نے کہا کہ کیا ہم نے ہر مرتبہ ڈی سی او ڈی پی او کی جانب دیکھنا ہے۔ ہماری اپنی کوئی حیثیت نہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ چوک اعظم میں ایک گرفتار شخص کو چھڑوانے کیلئے ایم پی اے کو روڈ بلاک کرنا پڑتا ہے۔

اگر پارٹی کو مظبوط کرنا ہے تو پھر پارٹی کو ورکروں کے تابع کرنا ہو گا۔ اس دوران کارکنوں نے سابق عہدیداراں سابق صدر عابد انوار علوی ، چوہدی بشارت رندھاوا جو کہ رکنیت معطل ہونے کے باعث اجلاس میں شریک نہ تھے سمیت ارکین اسمبلی کے خلاف الیکشن میں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی جیسے الزامات عائد کیئے اور بھاری تعداد میں ورکروں نے ایم این اے صاحبزادہ فیض الحسن کی مکمل حمایت کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف ، وزیر اعلیٰ ہنجاب میاں شہباز شریف سے پالیسی درست کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ صاحبزادہ فیض الھسن نے مسلسل 13 سال اپوزیشن میں گزارے اور گزشتہ میاں شہباز شریف کی حکومت میں بھی انہیں بہت سی رکاوٹوں کا سامنا رہا کے بارے پالیسی درست کی جائے۔ اس دوران کچھ لوگوں نے عابد انوار علوی کو بھی بے قصور کہا۔ ایک موقع پر سرکٹ ہائوس میں دو گروپوں میں کارکنوں کے درمیان تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا۔

Sahibzada Faiz-ul-Hassan

Sahibzada Faiz-ul-Hassan

سردار ذوالفقار علی خان ، سابق صدر مسلم لیگ (ن) چوہدری عبدالمجید جاوید ، سید الطاف شاہ ، انوار علوی نے کہا کہ پارٹی کو مظبوط کرنے کیلئے ضلع میں بہترین افراد پر باڈی کا قیام ضروری ہے۔ ضلع میں تنظیم نام کی کوئی چیز نہیں۔ ایسے افراد کو آگے لایا جاے جو غیر متنازعہ ہوں۔ اور ارکین اسمبلی نہ ہوں۔ باہر سے آئے جنگجو ملکی سالمیت کے خلاف کاروائیوں میں مصروف ہیں۔ دہشتگردوں کے خلاف مجبوراً ایکشن لینا پڑا۔ میاں نواز شریف کی کوششوں کی بدولت ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ اس وقت ملک بھر میں بجلی کے 19 نئے منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے۔

تا کہ مزدور بے روزگار نہ رہے۔ اور ملک کا پہیہ چلتا رہے۔ گیس کے گھریلو صارفین کیلئے بھی لوڈشیڈنگ کم کر دی جائے گی۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب رابطہ کمیٹی کے رکن ایم این اے سعود مجید ، ایم این اے مہر اشتیاق ، اسپیشل اسسٹنٹ پبلک افیسر وزیر اعلیٰ پنجاب ، ایم پی اے سمیع اللہ چوہدری نے گزشتہ روز سرکٹ ہائوس لیہ میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملکی استحکام کی خاطر میاں نواز شریف بیرونی دوروں میں مصروف رہے۔ اور ڈیڑھ سال کے دوران پارٹی ورکروں پر کوئی توجہ نہ دی گئی۔ اب میاں نواز شریف کے حکم پر چیف منسٹر نے 36 اضلاع کے عہدیداروں کو پہلے لاہور بلوایا۔ اور کے مسائل پارٹی معاملات معلوم کیئے۔ اور اب ہم ماہ رمضان اور سخت گرمی کے باعث بہت سے اضلاع کے دورے کرتے ہوئے لیہ پہنچے ہیں۔ ایسے افراد کو ضلعی صدر ، جنرل سیکریٹری بنایا جائے گا جنہوں نے پارٹی کی مکمل پابندی کی ہوگی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب بہت جلد ہر ضلع میں کارکنوں سے ملاقات کریں گے۔

ڈی سی او ، ڈی پی او اور مسلم لیگی ورکروں کے ساتھ میٹنگ کر کے ان کے مسائل معلوم کریں گے۔ اور ورکروں کو ترقیاتی کاموں میں بھی شریک کیا جائے گا۔ اس طرح کمیٹیاں بنا کر ورکروں کو پاکستان بیت المال زکوٰة کمیٹیوں ، مارکیٹ کمیٹیوں کو ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ اسی طرح اراکین اسمبلی کو درجہ چہارم کی نوکریاں دی جائیں گی۔ جبکہ 25 فیصد نوکریاں وزیر اعلیٰ خود ورکروں میں تقسیم کریں گے۔ اطلاع کے مطابق سابق ایم این اے و ضلع ناظم ملک غلام حیدر تھند اور سابق ایم پی اے صفدر بھٹی کو اجلاس میں مدعو نہ کیا گیا تھا۔

Tariq Pahar

Tariq Pahar

تحریر: طارق پہاڑ
tariq.mehmood.pahar@gmail.com