لبنان کے چھ ارکان پارلیمنٹ اور وزیر اطلاعات نے استعفیٰ دے دیا

Manal Abdel Samad

Manal Abdel Samad

لبنان (اصل میڈیا ڈیسک) لبنانی پارلیمنٹ کے چھ ارکان اور ایک رکن کابینہ نے بیروت میں ہونے والے ہلاکت خیز دھماکوں کے بعد منتخب ایوان کی رکنیت اور وزارت سے علی التربیت استعفے دے دیے ہیں۔

مستعفی ہونے والی خاتون وزیر اطلاعات منال عبدالصمد کا کہنا تھا کہ ’’استعفیٰ سے قبل میں وزیر اعظم کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔‘‘ بیروت میں ہونے والی بڑی پیمانے کی تباہی کے بعد میں حکومت سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتی ہوں۔ مقامی میڈیا پر نشر بیان میں انھوں نے لبنانی عوام کو فائدہ نہ پہنچا سکنے پر معافی مانگی۔

سرکاری خبر رساں اداے نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق وزیر اطلاعات کے استعفی کے بعد نعمت افراہم نامی رکن پارلیمںٹ نے بھی عوامی نمائندوں کے ایوان سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا۔

مستعفی ہونے والے رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ وہ اپنی تمام پارلیمانی سرگرمیاں اس وقت تک معطل کر رہے ہیں جب ایوان کی مدت میں کمی اور نئے انتخاب کا اعلان کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا اجلاس بلوایا نہیں جاتا۔

منگل کے بعد سے وہ پارلیمنٹ کی رکنیت سے مستعفی ہونے والے چھٹے رکن اسمبلی ہیں۔

ہفتے کی شام ایک مختصر خطاب میں وزیر اعظم حسان دیاب نے کہا کہ وہ قبل از وقت انتخابات کی تجویز دیتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ دو ماہ تک وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار رہنے کے لیے تیار ہیں۔

دارلحکومت بیروت میں منگل کو ہونے والے ہولناک دھماکوں میں کم سے کم 158 افراد ہلاک جبکہ 6000 اس وقت زخمی ہوئے جب شہر کی بندرگاہ کے ہینگر میں غیر محفوظ انداز میں رکھا گیا 2750 ٹن امونیم نایٹریٹ کا ذخیرہ آگ لگنے سے پھٹ گیا۔

وزیر اعظم دیاب کے خطاب کے بعد مظاہرین نے وزارت خارجہ، کامرس، توانائی اور ماحولیات کی وزارت کی عمارتوں پر ہلہ بول دیا۔ مظاہرین نے بیکنگ ایسوسی ایشن کی عمارت پر بھی حملہ کیا۔

ہزاروں افراد بیروت کی گلیوں میں ہاتھوں میں بینرز اٹھائے باہر نکل آئے جن پر ’’انقلاب کا دارلحکومت‘‘ اور ’’بیروت اسلحہ سے پاک شہر‘‘ کے نعرے درج تھے۔

پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفی دینے والوں میں آزاد امیدوار پالا یاقوبیاں، پروگریسیو سوشلسٹ جماعت کے مروان حمیدہ اور کتائب پارٹی س تعلق رکھنے والے سامی جمائیل، ندیم جمائیل اور الیاس ہنقاش شامل تھے۔

اردن کے لیے لبنانی سفیر ٹریسی شامون جمعرات کے روز اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئیں۔ انھوں نے لبنان کے ایم ٹی وی کو بتایا کہ ’’غفلت، چوری اور جھوٹ‘‘ مزید برداشت نہیں کیے جانے چاہیں۔

اقتصادی اور سیاسی محاذوں پر دلدل میں دہنستی لبنانی حکومت کے وزیر خارجہ ناصیف حتی نے بھی وزیر اعظم حسن دیاب کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا تھا جس کے بعد صدر مشیل عون کے قریبی مشیر شربیل وہبی کو نیا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ ناصیف نے کابینہ کو خیر باد کہنے کی کوئی وجہ اپنے استعفیٰ میں بیان نہیں کی۔

تاہم بعد ازاں ایک وضاحتی بیان میں ناصیف حتی نے بتایا کہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے وہ مستعفی ہو رہے ہیں۔ ’’لبنان، وہ لبنان نہیں رہا جسے ہم چاہتے تھے، جسے ہم ایک مثال اور روشنی کا منارہ دیکھنا چاہتے تھے۔ لبنان آج ایک ناکام ریاست کی راہ پر چل پڑا ہے۔ میں بہت سے دیگر شہریوں کی طرح خود سے سوال کرتا ہوں کہ ہم نے پیارے وطن کے لیے کتنے پاپڑ بیلے اور اس کے امن اور تحفظ کے لیے کیا کچھ کیا۔‘‘