وزیر کارگردگی دکھائیں ورنہ گھر جائیں

Imran Khan

Imran Khan

تحریر : چودھری عبدالقیوم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کابینہ میں ردوبدل آئندہ بھی ہوگا کسی وزیر کو وزارت کا قلمدان مستقل نہیں دیا گیا وزراء کی کارگردگی جانچنے کا عمل جاری رہے گا جو وزیر ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا اسے وزارت سے علیحدہ کردیا جائے گا انھوں نے یہ بھی کہا کہ وزراء اپنی پروموشن کرنے کی بجائے عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دیں۔وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری سے وزارت کے قلمدان واپس لے کرکابینہ میں ردو بدل کے بعد ایک تقریب میں کیا۔پی ٹی آئی کی حکومت کے 9 مہینوں کے دوران چھ سات وفاقی وزراء کو کابینہ سے فارغ کیا گیا یہ پاکستان کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی ہے ورنہ ہمارے ملک میں حکمران ناقص کارگردگی اور عوام کے مطالبات کے باوجود بھی استعفیٰ نہیں دیتے عہدوں سے چمٹے رہتے ہیں زیادہ دور کی بات نہیں سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کرپشن کے الزامات میں ملک سے بھاگ گئے عدالتوں سے اشتہاری ہونے کے باوجود جناب نے استعفیٰ دینا گوارا نہیں کیا۔

بحرحال وزیراعظم عمران خان نے ملک میں یہ روایت ڈالی ہے کہ وزراء کو کارگردگی دکھانا پڑے گی ورنہ وزارت سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔اللہ کرے ہمارے حکمرانوں اور وزراء میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس پیدا ہوجائے کہ انھیں ملک اور عوام کی خدمت کرنی چاہیے ورنہ ماضی میںحکمرانوں کوئی پوچھ نہیں سکتا تھا دوسری طرف سیاسی ناقدین اس چیز کا بھی اظہار کرتے ہیں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر جیسے پرانے، نظریاتی اور محنتی بندے کو کارگردگی نہ دکھا سکنے پر وزارت سے علیحدہ کرکے پی ٹی آئی حکومت کا اپنی حریف جماعت پیپلز پارٹی کے سابق وزیرخزانہ حفیظ شیخ کو خزانے کی چابیاں دینا کیسا ہیویسے تو عمران خان کی کابینہ میں پیپلز پارٹی دور کے شاہ محمود قریشی،ندیم افضل چن،ڈاکٹر فردوس عاشق،اعظم سواتی،فہمیدہ مرزا،مولانانور الحق،مخدوم خسرو بختیار سمیت کئی دیگر لوگ بھی شامل ہیںجو دوسری پارٹیوں سے آئے ہیں۔

عمران خان کو اپنی کابینہ کے ارکان نامزد کرنے کا حق حاصل ہے لیکن یہ زیادہ بہتر ہوتا کہ وہ اپنی کابینہ اور حکومت میں زیادہ سے زیادہ اپنی جماعت کے منتخب لوگوںکو شامل کرتے اس طرح ان کی جماعت زیادہ مضبوط ہوسکتی تھی اس وقت حکومت میں مختلف الخیال ذہن رکھنے والے اور غیرمنتخب لوگ زیادہ نظر آتے ہیںوزیراعظم عمران خان کارگردگی نہ دکھانے پر وزراء سے وزارتوں کے قلمدان واپس لے کر کابینہ میں رد و بدل کرتے ہیں اوران کی جگہ پیپلز پارٹی دور کے وزیرخزانہ حفیظ شیخ کو وزارت خزانہ سونپ دی جاتی ہے جس کے بارے پی ٹی آئی اور خود وزیراعظم کا موقف ہے کہ انھوںنے قومی معشیت تباہ کرنے کیساتھ قومی وسائل میں لوٹ مار اور کرپشن کی ہے کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔

میرا خیال ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کیساتھ یہ مسئلہ ہے کہ اس کے وزراء 9 مہینوں میں عمران خان کی خواہش کیمطابق ملک سے مہنگائی کم کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوئی کارگردگی نہیں دکھاسکے تو دوسری طرف لوٹ مار اور کرپشن کرنے والوں کیخلاف احتساب کا عمل بھی سست رفتاری اور مشکلات کا شکار نظر آتا ہے وزیراعظم عمران خان ملک سے مہنگائی کم کرنے عوام کو ریلیف دینے کیساتھ ساتھ لوٹ مار اور کرپشن کرنے والوں کا احتساب بھی کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ انھیں ماضی کے حکمرانوں اور طاقتور لوگوں کی طرف سے بھرپور مزاحمت اورمشکلات کا سامنا ہے تو وزیراعظم کو اپنی ٹیم بھی کمزورنظر آ رہی ہے لیکن وزیراعظم عمران خان مایوس نظر نہیں آتے۔

انھوں نے بہت مشکل اور نازک سیاسی حالات میں بھی نتائج کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کارگردگی نہ دکھانے پر اپنی ٹیم میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں حالانکہ اس فیصلے سے پارٹی میں مخالفت اور تقسیم کا بھی خدشہ ہے لیکن اس کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے اپنی ٹیم میں تبدیلی کا مشکل فیصلہ کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے عزم، اپنے وعدوں اور نعروں پر عملدرآمد کرنے اور ملک میں لوٹ مار، کرپشن کرنے والوں کا احتساب کرنے کے لیے آخری حد تک جانے کو تیار ہیں اورا گر ان کی ٹیم یا سسٹم لوٹ مار اور کرپشن کرنے والوں کا احتساب کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوتے تو وہ ٹیم تبدیل کرنے کی طرح سسٹم کو تبدیل کرنے میں بھی گریز نہیں کریں گے۔

جیسا کہ حالیہ دنوں ملک میں پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام لانے کی باتیں عام ہو رہی ہیں کیونکہ آخرکار چاہے مجبوری سے ہی یہ آپشن موجود تو ہے۔ بحرحال اس کے لیے پاکستان کی سیاست میں آنے والے دو تین مہینے بہت ہی اہم ہیں خاص طور پر اگر ملک کا سالانہ قومی بجٹ پیش ہونے تک حالات میں بہتری کے آثار نظر نہیں آتے تو یقینی طور پر وزیراعظم عمران خان موجودہ پارلیمانی نظام میں تبدیلی لانے کے آپشن پر غور کریں گے تاکہ وہ اپنے وعدوں اور نعروں پر عملدرآمد کے لیے ماضی میں برسراقتدار رہنے والے طاقتور لوگوں کی لوٹ مار اور کرپشن کا احتساب کرنے کے لیے کچھ کر سکیں ۔اس کے لیے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتنے والے ہیرو، وزیراعظم عمران خان کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے۔اور اپنی حکومت کی کامیابی کے لیے آخری گیند تک کھیلیں گے۔

Ch. Abdul Qayum

Ch. Abdul Qayum

تحریر : چودھری عبدالقیوم