fbpx

فطرت سے دوستی ضروری: اقوام متحدہ کا منصوبہ

Coronavirus

Coronavirus

اقوام متحدہ : ماحولیات میں تبدیلی پیدا کرنے والے دھوئیں کا اخراج بدستور جاری ہے اور اس میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ زمین کا حیاتیاتی تنوع مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔ یہ ماحول کے لیے شدید نامناسب اور نقصان دہ انسانی رویہ ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش کا کہنا ہے کہ انسانوں کی فطرت کے ساتھ جنگ سے زمین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ گوٹیرش نے یہ جملہ اس رپورٹ کے ابتدائیے میں تحریر کیا جوعالمی ادارے کی ماحولیاتی پروگرام کی ایجنسی نے مرتب کی ہے۔ یہ رپورٹ ماحولیاتی بحرانی صورت حال اور بائیو ڈائیورسٹی کے ساتھ ساتھ ہوائی آلودگی کے بارے میں ہے۔ اس میں ان پریشان کن کیفیات کو بہتر کرنے کی حکمت عملی کے بارے میں بھی ماہرین کی آراء کو شامل کیا گیا ہے۔

کلائمیٹ چینج میں کارخانوں اور موٹر گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں سب سے زیادہ منفی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس دھوئیں سے سیارے زمین کے حیاتایاتی تنوع کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ بعض ماحولیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ نت نئی بیماریوں کی افزائش کو بھی اس ماحولیاتی تبدیلی سے جوڑا جا سکتا ہے۔ ماحولیاتی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب تک کے اقدامات ناکافی ثابت ہوئے ہیں فطرت سے دوستی کیے بغیر اب کوئی اور چارہ بچا نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے انوائرمنٹ پروگرام کی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں اس صورت ‌حال میں بہتری کے لیے ہنگامی حالات کے نفاذ کو وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔ اس رپورٹ میں انٹرنیشنل پینل برائے کلائمیٹ چینج کا جائزہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ اسی رپورٹ کے ساتھ کووڈ انیس کی مہلک عالمی وبا کے بارے میں بھی ایک تجزیاتی رپورٹ نتھی کی گئی ہے۔

اس رپورٹ میں اقوام سے جڑے ماحولیاتی بحرانی صورت حال میں بہتری لانے کو اقوام متحدہ کے سن 2020 کے کلائمیٹ اہداف کے دائرے میں مکمل کرنے کو غیر ضروری اہمیت دی گئی ہے۔ اس پر بھی فوکس کیا گیا کہ سن 2050 تک کاربن اخراج کو صفر کرنے کی کوششیں بھی شروع کرنا از حد ضروری ہو چکا ہے۔

اقوام متحدہ کی انوائرمنٹ ایجنسی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر انیڈریسن کا کہنا ہے کہ ‘میکنگ پیس وِد نیچر‘ نامی رپورٹ اصل میں ایک مضبوط سائنسی نکات پر مبنی بیان ہے اور اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح مربوط و منظم کوششیں زمین کے ماحول کو بچانے میں کامیاب اور مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انگر اینڈرسن کا کہنا تھا کہ متحدہ کوششیں نہیں ہوں گی تو کچھ حاصل ہونا ایک خواب ہی رہے گا۔

اقوام کی غیر منظم کوششوں کا نتیجہ یہ ہے کہ زمین کا درجہ حرارت بتدریج بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ صنعتی ترقی کے مقابلے میں سن 2100 میں درجہ حرارت تین ڈگری سیلسیئس بڑھ جائے گا۔ اس دوران عبوری مدت کے لیے نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں معمولی سی کمی ضرور دیکھی گئی۔ پیرس کلائمیٹ ڈیل میں یہ طے پایا تھا کی اقوام اپنی کوششوں سے سن 2030 تک پینتالیس فیصد سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں کمی لائیں گی۔

اس وقت زمین پر اسی لاکھ پودے اور جانوروں کی اقسام گرم ہوتے ماحول سے نابود ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے نوے لاکھ انسان موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ تفصیلات معتبر سائنسی جریدے لینسیٹ میں دو سال قبل شائع ہو چکی ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ اقوام کو فوری طوری پر کاربن کے اخراج کو محدود کرنا ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ زمین سے حاصل ہونے والے ایندھن پر انحصار عالمی سطح پر کم کرنے کی پالیسی اپنانا ہو گی۔ قدرتی ایندھن پر دی جانے والی چار ٹریلین ڈالر سے زائد کی خصوصی چھوٹ بھی ختم کرنا بہت ضروری ہے۔

اسی طرح غیر پائیدار زراعت و ماہی گیری سے چھٹکارا بھی اہم ہے، ان کی جگہ پائیدار زراعت کا شعار اپنانا ہو گا۔ اسی طرح متبادل توانائی کے ذرائع اور نقل و حمل کے طریقوں کو اپنانا ہو گا تا کہ کم سے کم کاربن گیسوں کا اخراج ہو سکے۔ اس سارے مقصد کے لیے پائیدار ٹیکنالوجی کو ہر سطح پر متعارف کرانا بھی اہم ہے۔

اس کی بھی سفارش کی گئی کہ حکومتوں کو ٹیکس کے نفاذ کے نئے انداز اپنانے ہوں گے۔ مثال کے طور پر پروڈکشن اور لیبر پر کم اور زمین کے اندرونی ذخائر کے استعمال اور نقصان دہ صنعتی فضلہ اور کوڑا کرکٹ پھینکنے پر زیادہ ٹیکس لگانا بھی ایک آپشن ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ ماحوالیاتی بحرانی حالات سے نمٹنے کے لیے نجی شعبے، لیبر تنظیموں، تعلیمی سیکٹر، سول سوسائٹی، ذرائع ابلاغ اور حکومتوں کو پہل کرتے ہوئے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے تا کہ فطرت کے ساتھ پائیدار دوستی استوار کی جا سکے۔

اس مناسبت سے رواں برس کو انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے کیونکہ اسی سال مئی میں اقوام متحدہ کے بائیو ڈائیورسٹی کنوینشن (COP 15) کا انعقاد چین میں ہو گا اور نومبر میں برطانوی شہر گلاسگو میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس (COP 21) کا انعقاد کیا جائے گا۔ ان دونوں بین الاقوامی کانفرنسوں میں ماحول دوستی کے کئی اہم پہلوؤں پر عملی فیصلے لینے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔