اُف یہ مہنگائی ۔۔۔۔ توبہ توبہ

Nawaz Sharif

Nawaz Sharif

ہمارے وزیرِ اعظم میاں نواز شریف صاحب کی بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ جی سے ناشتے پر ملاقات طے تھی جسے من موہن ”گول ”کر گئے۔ میاں صاحب کے ساتھ ”ہتھ” تومن موہن جی نے کیا لیکن غصّہ نکلا بیچاری قوم پر اور اُنہوں نے بجلی، پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت میں ہوشربا اضافہ کرکے قوم کا تیل نکال دیا۔ بجلی کی قیمتوں میں اتنے اضافے پر ابھی تک یقین نہیں آ رہا۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھنے کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹرز کی چاندی ہو گئی اور اُنہوں نے کرایوں میں کہیں چالیس اور کہیں پچاس فیصد تک اضافہ کر دیا۔ میں نے اِس اضافے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے گھریلو بجٹ بنانے کی ٹھانی لیکن حساب کتاب میں اُلجھ کر رہ گئی۔ اب یہی سوچا ہے کہ کسی نہ کسی ذریعے سے جنابِ اسحاق ڈار تک رسائی حاصل کر کے گھریلو بجٹ بنوا لوں لیکن سوچتی ہوں کہ خسارے کا بجٹ بنانے کے ماہر اسحاق ڈار صاحب نے اگر میرے ہاتھ میں بھی خسارے کا بجٹ تھما دیا تو پھر؟۔

حکومت تو نوٹ چھاپ کر اور IMF سے قرضہ لے کر خسارہ پورا کر لیتی ہے لیکن ہمارے پاس نوٹ چھاپنے کی کوئی مشین ہے، نہ IMF تک رسائی۔ اِس بے تُکے اضافے کے خلاف ہم جنابِ چیف جسٹس سے از خود نوٹس لینے کی اپیل کرنے ہی والے تھے لیکن اللہ بھلا کرے چیف صاحب کا جو ہم سے بھی تیز نکلے اور خود ہی ”کھڑاک” کر دیا۔ اب حکومت نے اِس نوٹیفیکیشن پر نظرِ ثانی کے لیے ” منتیں ترلے”کرکے جمعے تک کا وقت مانگا ہے۔ چیف صاحب نے وقت تو دے دیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اب پاکستان میں نادر شاہی نظام نہیں چلے گا۔ اگر ہم میاں صاحب کے ساتھ نیویارک گئے ہوتے تو اِس از خود نوٹس کی نوبت ہی نہ آتی کیونکہ ہم میاں صاحب کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی خاطر اُنہیں سمجھاتے کہ من موہن جی کے ساتھ ناشتے میں اُنہیں سرا سر نقصان تھا کیونکہ میاں صاحب ٹھہرے گوشت خور جبکہ من موہن جی سکھ ہونے کے باوجود ہندوؤں کی خوشی اور خوشنودی کی خاطر سبزی خور بن چکے ہیں۔

President Mamnoon Hussain

President Mamnoon Hussain

اگر میاں صاحب کو ناشتے کی میز پر صرف ساگ پات اور ”گاؤ ماتا” کا دودھ نظر آتا تو اُن کا بھوکے پیٹ رہ جانا اظہر من الشمس تھا اور یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ میاں صاحب بھوکے پیٹوں مذاکرات نہیں کر سکتے تھے۔ وہ تو شدید ابتلاء کے دنوں میں جیل کی کوٹھری میں بھی سیّد ممنون حسین کی ”ربڑی” کا بڑی شدت سے انتظار کیا کرتے تھے۔ یہ اسی ربڑی کی کرشمہ سازی تھی کہ میاں صاحب نے سیّد ممنون حسین کو ایوانِ صدر ”دان” کر دیا۔ ویسے تو پورا میاں خاندان بہت ”دیالو” ہے۔ خادمِ اعلیٰ نے عمران خاں کو میانوالی میں ابھی ابھی نمل یونیورسٹی کے لیے ایک ہزار ایکڑ زمین” دان” کی ہے جس پر ساری نواز لیگ چیں بچیں ہے لیکن ربڑی کے بدلے صدارت کا تو گینز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں اندراج ہونا چاہیے۔ آمدم بر سرِ مطلب میں عرض کر رہی تھی کہ خالی ساگ پات سے میاں صاحب بھوکے رہ جاتے اور اُن کے بھوکے پیٹوں مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے قوم کے نقصان کا شدید احتمال تھا۔

اُنہوں نے اپنے ہوٹل میں پہلے ڈٹ کر ناشتہ کیا اور پھر مذاکرات میں بھولے بھالے من موہن جی کو خوب ”رگڑا” دے آئے۔ اب ”کھسیا نی بِلّی کھمبا نوچے” کے مصداق انڈین میڈیا کہتا ہے کہ من موہن جی تو عنقریب وزارتِ عظمیٰ کو داغِ مفارقت دینے والے ہیں اِس لیے نیویارک میں جو کچھ ہوا اُس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اگر یہی بات تھی تو پھر نریندر مودی آخری وقت تک مذاکرات نہ کرنے کے لیے ”ٹیں ٹیں” کیوں کرتے رہے؟۔ من موہن جی کو رگڑا دینا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن بیچاری قوم کا کیا قصور تھا جسے بے جرم و خطا مہنگائی کی سولی پہ چڑھا دیا گیا ۔سچی بات تو یہ ہے کہ قصور بھی سارا خود میاں صاحب کا ہے جنہوں نے”آ بیل ! مجھے مار”کے مصداق اقوامِ متحدہ میں دبنگ لہجہ اختیار کرتے ہوئے مسٔلہ کشمیر کو اجاگر کر کے پہلے من موہن کو ناراض کیا اور پھر ڈرون حملوں کی مذمت کر کے بارک اوباما کو۔

ظاہر ہے کہ میاں صاحب کی اِس ”زیادتی” کی شکایت تو من موہن جی نے اوباما ہی سے کرنی تھی کیونکہ نیویارک میں اُن کا اپنا اورتھا کون؟۔ اُدھر ”دُکھی” اوباما نے بھی کہہ دیا ہو گا کہ میاں صاحب نے تو مجھے بھی نہیں بخشا۔ ہو سکتا ہے کہ وہیں پر یہ طے ہوا ہو کہ اور تو کچھ کیا نہیں جا سکتا اِس لیے کیوں نہ ناشتہ ہی ”گول” کر دیا جائے۔”خود کردہ را علاجے نیست ”کے مصداق میاں صاحب نے اپنے پاؤں پہ کلہاڑی خود ماری اور غصّہ نکالا بیچاری قوم پر۔ سچی بات تو یہ ہے کہ قوم نے اپنے پیٹ کی خاطر ہی میاں صاحب کو دو تہائی اکثریت کا مینڈیٹ دیا لیکن اُنہوں نے تو پیٹ میں پڑے لقمے کو نکالنے کی بھی تگ و دَو شروع کر دی ہے۔ میاں صاحب ہی کے پچھلے ادوار میں ایک بار وزارتِ خزانہ کا قلمدان محترم سرتاج عزیز نے سنبھالا اور کچھ ہی عرصے بعد جلے بھنے لوگوں نے اُن کا نام ”سرچارج عزیز” رکھ دیا۔

Ishaq Dar

Ishaq Dar

اب کی بار وزارتِ خزانہ کا قلمدان جنابِ اسحاق ڈار نے سنبھالا اور قوم سو دنوں میں ہی سرتاج عزیز کو ایسے ہی اچھے لفظوں میں یاد کرنے لگی جیسے لوگ آمر مشرف کے دَور کو پیپلز پارٹی کے دَورسے بہتر گرداننے لگے تھے۔ یوں لگتا ہے کہ عنقریب جنابِ اسحاق ڈار کا نام بھی قوم ”اسحاق ڈر” رکھنے والی ہے اور سو ، سو کوس پر جب کوئی بچہ دودھ کے لیے روئے گا تو ماں کہے گی ”چُپ ہو جا کہیں اسحاق ڈَر نہ آ جائے”۔ مانا کہ موجودہ حکومت کو مہنگائی کا عفریت سابقہ حکومت سے تحفے میں ملا ہے لیکن جو قیامت ہماری ”اپنی حکومت” ڈھا رہی ہے وہ نا قابلِ یقیں ہے۔ بِلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ اسی مہنگائی کی ستائی قوم نے پیپلز پارٹی کو ”نُکرے” لگا کر نواز لیگ سے والہانہ پیار کا ثبوت دیا کیونکہ عوام یہ سمجھتے تھے کہ میاں شہباز شریف صاحب الیکشن سے پہلے کہے گئے اپنے لفظوں کی توقیر کا احساس کرتے ہوئے بِلا امتیاز ہر کرپٹ کو چوراہوں پہ اُلٹا لٹکائیں گے۔

اُنہوں نے ”زر بابا، چالیس چوروں” کی اتنا ”رٹا” لگایا کہ لوگ کچھ کچھ یقین کرنے لگے لیکن ”خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سُنا افسانہ تھا”۔ صحراؤں کی پیاس لیے جب قوم بعد از خرابیٔ بسیار کنوئیں پر پہنچی تو پتہ چلا کہ کنواں تو کب کا خشک ہو چکا۔ اب پتہ نہیں یہ شدتِ عطش کیا گُل کھلائے گی۔ اور کچھ ہو نہ ہو یہ بہرحال طے ہے کہ قوم میں مہنگائی کے اِس طوفان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں۔ پیپلز پارٹی کے دَور میں خادمِ اعلیٰ اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر کرپشن اور مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو خونی انقلاب آئے گا، جس میں سب کچھ بہہ جائے گا۔ اُن کا لہک لہک کر یہ گانا کہ ”ایسے دستور کو، صبحِ بے نور کو۔ میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا” بھی سب کو یاد ہے اور یقیناََ خادمِ اعلیٰ بھی قوم سے کیے گئے وعدوں کو بھولے نہیں ہونگے۔ اُنہیں یہ یاد رکھنا ہو گا کہ جب آس ٹوٹتی ہے اور اُمید کا دیپ بُجھتا ہے تو ردِ عمل بھی بہت سخت ہوتا ہے اللہ نہ کرے کہ ہمیں بھی کسی ایسے ہی خونی انقلاب کا سامنا کرنا پڑے جیسا فرانس میں آیا تھا۔

دست بستہ عرض ہے کہ جن حالات کی بنا پر فرانس میں انقلاب آیا تھا ہمیں بھی کم و بیش اُنہی حالات کا سامنا ہے۔ اِس لیے اِس سے پہلے کہ سب کچھ ملیا میٹ ہو جائے ہمارے حکمرانوں کو سنبھلنا اور کچھ نہ کچھ کرکے دکھانا ہو گا۔ حاکمانِ وقت کو تو شاید اُن کے حواری اور کاسہ لیس ”سب اچھّا” کی رپورٹ دے رہے ہونگے لیکن یہاں کچھ بھی اچھّا نہیں اور سچ تو یہ ہے کہ آنے والے طوفانوں کی سرگوشیوں سے فضائیں بھی لرزہ براندام ہیں۔ کاش کہ ”ہمارے اپنے” حکمرانوں کو اِس کا ادراک ہو جائے۔

تحریر : پروفیسررفعت مظہر