پی آئی اے کا طیارہ کروڑوں کے نقصان کے بعد کراچی پہنچ گیا

PIA

PIA

کراچی(جیوڈیسک)پی آئی اے کا طیارہ 25 دن تک سعودی عرب میں پھنسے رہنے اور ایئر لائن کو کروڑوں روپے نقصان کے بعد بالاآخر کراچی پہنچ گیا۔ شعبہ انجینئرنگ کی اس بدترین کارکردگی کے باوجود پی آئی اے ترجمان کا اصرار ہے کہ اس بد انتظامی کی ذمہ داری کسی افسر پر عائد نہیں ہوتی۔25 مئی کو روانہ ہونے والا پی آئی اے کا بوئنگ 747 طیارہ 26 اپریل کو انجن میں خرابی کے بعد جدہ ایئرپورٹ پر گرانڈ ہوا۔

ذرائع کے مطابق روانگی کے وقت ہی چار انجنوں والے اس طیارے کا انجن نمبر تین ٹھیک نہیں تھا۔ جدہ میں یہی انجن جواب دے گیا۔دو دن بعد تین انجنوں کے ساتھ فیری پرواز کے ذریعے واپسی کا فیصلہ ہوا۔طیارہ ٹیک آف پوائنٹ پر پہنچا تو انجن نمبر چار بھی بیٹھ گیا۔

حالانکہ پی آئی اے کے انجینئرز نے انجن فٹ ہونے کا سر ٹیفکیٹ دیا تھا۔ چار میں سے دو انجن خراب ہوجانے پر کراچی سے ایک انجن منگوانے کا فیصلہ ہوا۔ لیکن نااہلی کی انتہا یہ کہ پی آئی اے انتظامیہ کو انجن جدہ پہنچانے میں 12 دن لگ گئے۔ انجن جدہ پہنچ بھی گیا لیکن نااہلی ختم نہیں ہوئی۔طیارے کی مرمت کیلئے انجینئرز کے گروپ ایک کے بعد ایک جدہ پہنچتے اور عمرہ کرکے واپس آتے رہے۔

مگر طیارہ جدہ میں ہی کھڑا رہا۔25 دن بعد بالاآخر طیارہ کراچی پہنچا یہاں پہنچ کربھی مرمت کے نام پر کھڑا ہے۔ پی آئی اے ترجمان سے پوچھا گیا کیا یہ تحقیقات ہوں گی کہ خراب انجن کے ساتھ طیارے کو پرواز کی اجازت کس نے دی ؟”۔”جدہ میں فیری فلائٹ کیلئے باقی تین انجنوں کے کارآمد ہونے کا بی ایس آئی سرٹیفکیٹ کس کے دباوپر جاری ہوا۔

عمرہ سیزن میں 5 سو نشستوں والا طیارہ تقریبا مہینہ بھر کھڑا رہنے سے کروڑوں روپے کے نقصان کا ذمہ دار کون ہے۔ پی آئی اے ترجمان کا جواب ہے کہ بعض انتظامی مسائل تھے لیکن اس کی ذمہ دار پی آئی اے انتظامیہ نہیں۔