نیا پاکستان دم توڑتی امیدیں

Imran Khan

Imran Khan

تحریر : روشن خٹک

یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ وزیر اعظم عمران خان سے عوام کی بہت ساری امیدیں وابستہ تھیں ۔مسندِ اقتدار پر تشریف فرما ہونے سے پہلے ان کی تقاریر نکال کر دیکھیں تو ایسا محسوس ہو تا ہے کہ آج کے عمران خان اور اس وقت کے عمران خان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کل وہ جس سمت رواں دواں تھے،آج وہ مخالف سمت جا رہے ہیں۔عوام سمجھ بیٹھے تھے کہ عمران خان اقتدار میں آئیں گے تو ان کے بقول واقعی ”نیا پاکستان ” وجود میں آئے گا ،جس میں غربت وافلاس کے تناور درخت کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے گا ، لوگوں کو روزگا ر مِلے گا ۔میرٹ کابول بالا ہو گا ، کچکول توڑ دیا جائے گا ، وغیرہ ، وغیرہ ۔۔ابتدا میں بعض ایسے اقدامات پر بھی عوام نے صبر کا دامن تھامے رکھا،جس کی وجہ سے ان کے مسائل میں اگرچہ مزید اضافہ ہوا تھا مگر آنے والے کل کے لئے پر امید تھے، امید کا دیا ٹمٹما رہا تھا ،لیکن جوں جوں وقت گزر رہا ہے لوگوں کی امیدیں مایو سی میں بدل رہی ہیں ۔ پاکستان تحریک کے سرگرم ارکان بھی مایوسی کا شکا ر ہو رہے ہیں اور وہ سوشل میڈیا پر اپنے غم و غصے کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

‘ماجد شام’ ایک بڑے سمجھدار،دور اندیش اور ضلع کرک سے پی ٹی آئی کے سرگرم رکن ہیں۔وہ لکھتے ہیں ” ہمیں یہ خوش گمانی تھی کہ عمران خان پچھلے حکمرانوں سے مختلف ہو نگے اور وہ اس قوم کے حقیقی مسیحا ثابت ہو نگے،وہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے،وہ مرعات یافتہ طبقے سے مراعات لے کر عام آدمی کو دیں گے، مگر۔۔۔۔ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اب تک ہماری تو قعات بالکل پوری نہیں ہو ئیں، بہر حال ہم نے امید کا دامن اب بھی نہیں چھوڑا۔۔۔ابھی زیادہ دیر نہیں ہو ئی۔۔مجھے کل اس وقت بڑی تکلیف ہو ئی جب میں نے نجی ٹیلی ویژن پر یہ خبر سنی کہ پنجاب اسمبلی کے ممبران، وزیر اعلیٰ اور سابق وزرائے اعلیٰ کے تنخواہوں اور مراعات میں بے پناہ اضافہ کیا گیا ہے ان کو دی گئی مراعات کی تفصیلات نہایت ہی ہوشربا اور اس ملک کے غریب عوام کے لئے نہایت تکلیف دہ ہیں،یہ کام اگر زرداری یا نواز شریف کے دور میں ہوتا تو ہمیں اتنی تکلیف نہ ہوتی مگر عمران خان۔۔! تمھارے دور میں یہ سب کچھ ۔۔؟ اگر تمھارے دور میں بھی یہی کچھ ہونا ہے تو پھر وہ پچھلا دور ہی اچھا تھا ۔ہم نواز شریف یا زرداری کو چو ر ڈاکو تو کہہ سکتے تھے۔

اسی طرح پی ٹی آئی کا ایک اور نوجوان عبد القدیر صاحب لکھتے ہیں ” میں اپنے خاندان کا واحد ممبر تھا جو عمران خان کا شیدائی تھا اور پی ٹی آئی کو سپورٹ کر رہا تھا مگر اب حکومت کی کارکردگی دیکھ کر شش و پنج میں مبتلا ہوں کہ اس پارٹی کو چھوڑ دوں یا سپورٹ کرتا رہوں ،عمران خان حکومت کے تمام اقدامات میری سمجھ سے بالا تر ہیں ،سمجھ نہیں آتی کہ یہ حکومت عوام کی فلاح چاہتی ہے یا عوام کو ذ لالت کی زندگی پر مجبور کر کے ان کی صبر کی انتہا دیکھنا چاہتی ہے۔حکومت کے ہر اقدام کے بعد یہ سوچ کر کچھ نہیں بولتے کہ شاید آگے کچھ اچھا اقدام سامنے آجائے ، لیکن ۔۔لیکن آگے اس سے بھی زیادہ رسوائی کا اقدام، آخر الہی ! جائیں تو جائیں کہاں ۔۔؟یہ دو مثالیں پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے نو جوانوں کی تھیں مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج ایسی ہی سوچ لاکھوں پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی ہے، وہ عجیب کشمکش میں ہیں ، وہ نوجوان جو عمران خان سے عشق کرتے تھے۔

آج وہ عمران خان کی دفاع کرنے سے بھی قاصر ہیں، عمران خان کی کہی ہو ئی باتیں اب دیگر سیاستدانوں کی طرح لالی پاپ ہی لگتی ہیں۔انہوں نے اپنے ذہن میں نئے پاکستان کا جو تصور سجایا تھا ،لگتا ہے وہ ایک سہانا خواب تھا جو آنکھ کھلتے ہی ٹوٹ گیا۔عوام کی مایوسی پی ٹی آئی کے کارکنوں سے کہیں بڑھ کر ہے، مہنگائی بڑھ گئی، بجلی، گیس تیل الغرض اشیائے ضرورت کے نرخ میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ، ڈالر مہنگا ہو نے کی وجہ سے
بازار میں بِکنے والی ہر چیز کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔

اس کے باوجود پنجاب اسمبلی کے ارکان ،وزیر اعلیٰ اور سابق وزرائے اعلیٰ کے تنخواہوں، الاونسز اور مراعات میں چند گھنٹوں کے اندر اندر بِل پاس کرکے اضافہ کرنا غریب عوام کے ساتھ ظلم ِ عظیم ہے۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے ، اندریں حالات عمران خان کا یہ ٹویٹ کو ئی معنی نہیں رکھتا کہ ” مجھے پنجاب اسمبلی کے اراکین ،خصوصا پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے تنخوا اور مراعات میں اضافے پر مایوسی ہو ئی ہے ” یہ عجیب منطق ہے اگر وزیر اعظم کو اپنے ہی ارکانِ اسمبلی پر اختیار نہیں رہا تو پھر باعزت طریقہ سے اسے مستعفی ہو نا چاہئیے۔نیا پاکستان اگر ایسا ہی ہونا تھا تو پھر اس سے وہ پرانا پاکستان ہی اچھا تھا۔”

Roshan Khattak

Roshan Khattak

تحریر : روشن خٹک