پاکستان عالمی امن کا علمبردار اور سلامتی کا پیکر

Ban Ki-moon

Ban Ki-moon

گزشتہ روز نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام عالمی امن و استحکام مرکز کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ ڈرون کو جن عالمی قوانین کا پابند ہونا چاہئے ان میں انسانی حقوق سے متعلق قوانین بھی شامل ہیں۔انہوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکہ کے ڈرون حملوں کی کھلی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہتھیاروں سے لیس ڈرون کا استعمال دیگر ہتھیاروں کی طرح بین الاقوامی قوانین کے تحت ہونا چاہئے۔ ڈرون حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ ڈرون صرف معلومات اکٹھی کرنے کے لئے استعمال کئے جائیں۔ ڈرون کے استعمال کے بارے میں اقوام متحدہ کا موقف بالکل واضح ہے۔عالمی امن و استحکام کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں پاکستان اقوام متحدہ کا اہم شراکت دار ہے۔

اقوام متحدہ کے امن دستوں میں پاکستان نمبر ون ہے۔ امن دستوں کے ہر دس فوجیوں میں سے ایک کا تعلق پاکستان سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ دورہ پاکستان ان کے لئے عزت اور فخر کا باعث ہے۔ وہ یہاں آ کر بہت خوش ہوئے ہیں۔ اس وقت آٹھ ہزار پاکستانی فوجی اقوام متحدہ کے امن مشن میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں جو سب سے بڑی تعداد ہے۔ امن دستوں میں تعاون کی پاکستان نے بھاری قیمت بھی ادا کی ہے۔ چوبیس پاکستانی فوجیوں نے صومالیہ میں اپنی جانوں کی قربانی دی جو اقوام متحدہ کے امن مشنوں کی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ ہے۔ امن و سلامتی کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستان قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ امن دستوں میں شمولیت کے علاوہ اقوام متحدہ کے تمام ذیلی اداروں اور سلامتی کونسل میں پاکستان مباحث شروع کراتا ہے۔

تربیت اور عزم امن فوجیوں کا اہم اثاثہ ہے جو پاکستانی سپاہیوں کے پاس بدرجہ اتم موجود ہے، انہیں ظالمانہ ہتھکنڈوں کے علاوہ متعدد دیگر نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار کہتے ہیں کہ حکومت نے دہشت گردی کیخلاف جدید بنیادوں پر مشترکہ انٹیلی جنس سیکرٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی سمیت تمام انٹیلی جنس ونگ کے درمیان کوآرڈی نیشن ہوگی، نیشنل سکیورٹی پالیسی کا خاکہ 2 ہفتے میں وزیر اعظم کو پیش کردیا جائے گا، ہم امن کیلئے بھی تیار ہیں اور جنگ کیلئے بھی، جنگ ہوئی تو پھر دل وجان سے ہوگی پوری قوم کو اس کیلئے تیار ہونا ہوگا، ہم چاہتے ہیں معاملات مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائیں، اے پی سی جو فیصلہ کریگی حکومت اس پر عملدرآمد کرے گی، ڈرون حملے اور افغانستان میں مداخلت ہماری جنگ نہیں یہ جنگ مسلط کرنیوالے جانے کی تیار کر رہے ہیں۔

Indian

Indian

ملک کی گلیوں، خانقاہوں اور شہریوں کا ناحق ہماری جنگ ہے اس سے تکلیف ہوتی ہے۔ ہم نے بھارت، سری لنکا، امریکہ اور برطانیہ کی سکیورٹی پالیسی کا جائزہ لیا۔ امریکہ کی سکیورٹی پالیسی بننے میں دو سال، سری لنکا کو 30 اور بھارت کو 20 سال لگے۔ برطانیہ کو سکیورٹی پالیسی بنانے میں 50 سال لگے۔ یہ کوئی گڈی گڈے کا کھیل یا کوئی تماشہ نہیں اور نہ مرچ مصالحے کو ملانا ہے ہم راتوں رات پالیسی بنالیں۔ فریم ورک کا اعلان کل ہوسکتا ہے لیکن ہم عملدرآمد چاہتے ہیں اور بہت جلد نہ صرف فریم ورک بلکہ اس کے ساتھ ہی عملدرآمد بھی شروع ہو جائے گا۔ سکیورٹی پالیسی کا خاکہ دو ہفتوں میں وزیراعظم کو پیش کردیا جائے گا۔ نیشنل سکیورٹی پالیسی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

ایک اندرونی معاملات اور دوسرا حصہ بیرونی اور سٹرٹیجک معاملات سے متعلق ہے۔ ہمارا فوکس ایک ایسے ادارے کی بنیاد بنانے پر ہے جو پاکستان کی سکیورٹی مانیٹرنگ اور معاون ادارہ ہو اور وہ ادارہ نیکٹا ہے۔ آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے کاکول اکیڈمی میں آزادی پریڈ سے خطاب میں کہا ہے کہ افواج پاکستان کی جانب سے قوم کو یوم آزادی مبارک ہو۔ آزادی پریڈ کے وقت یہاں موجود ہونا باعث فخر ہے۔ آج کے دن کی اہمیت سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔ اس ارض پاک کا وجود میں آنا اتفاق نہیں تھا بلکہ یہ ہمارے آباواجداد کے ایثار، لگن اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ پاکستان کے قیام کا مقصد صرف زمین کے ایک ٹکڑے کا حصہ نہیں بلکہ ایک ایسی اسلامی ریاست کا قیام تھا جس میں اسلام کے سنہرے اصول، ایک صحتمند معاشرے کی بنیاد بنے۔

جہاں پر نہ صرف مسلمان بلکہ اقلیتیں بھی شخصی اور مذہبی آزادی سے ہمکنار ہوں اور جسے اقوام عالم میں ایک اعلیٰ اور منفرد مقام حاصل ہو۔ اس مقصد کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ ہم اسی جذبہ حب الوطنی اور قومی یکجہتی کو دوبارہ اپنے دلوں میں زندہ کریں جس کی مثال ہمارے اسلاف نے 66 سال پہلے قائم کی تھی۔ اگر بحیثیت قوم صفوں میں اتحاد اور قومی امور کس سوچ میں ہم آہنگی ہو گی تو پھر کسی بھی مسئلے کا حل چاہے وہ دہشت گردی ہو، معاشی عدم استحکام یا توانائی کا بحران ہو، ہماری دسترس سے باہر نہیں۔ آج کئی اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اندرونی محاذ پر درپیش مسائل ہماری خاص توجہ کے مستحق ہیں، یہ ملکی سالمیت اور ہر پاکستانی کے جان و مال کیلئے خطرہ ہیں۔

Terrorism

Terrorism

ان پر موثر طور پر قابو پانے کیلئے محض ایک یا چند ملکی اداروں کا کوشش کرنا ہرگز کافی نہیں۔ یہ جدوجہد ملک کے ہر ادارے بلکہ پورے معاشرے کو کرنا ہو گی۔ جب تک پوری قوم ان خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے متحد نہیں ہوجاتی، ان پر قابو پانا مشکل ہوگا۔ ہماری سب سے پہلی ترجیح ملک اور قوم کا مفاد ہونا چاہئے۔ انفرادی مفادات کو قومی مفادات کی نفی کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ ہمیں ملک اور قوم کیلئے ایک ہو کر سوچنا ہوگا۔ دہشت گرد اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونگے کیونکہ جس قوم نے دس سال سے زیادہ عرصے تک بدترین دہشت گردی کا سامنا کرنے کے باوجود کبھی خوف اور دہشت کو اپنے اوپر طاری نہ ہونے دیا ہو، ایسی بہادر قوم کیخلاف دہشت گردی بطور ایک حکمت عملی کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔

دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اپنانے میں کوئی حرج نہیں لیکن اس کے سامنے جھکنا کوئی حل نہیں ہے۔ ہمیں ہرممکن کوشش کرنی چاہئے کہ کسی بھی حل پر ہرممکن حد تک ایک قومی اتفاق رائے پیدا کریں اور اس پر یکسو ہو کر عمل کریں۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ تبھی جیتی جا سکتی ہے جب ہم سب ملکر ایک حکمت عملی پر متفق ہوں تاکہ نہ ہمارے ذہنوں میں ابہام رہے نہ دہشت گردوں کے۔ پاک افواج نے دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور آج بھی ہم قوم کے سامنے کھڑے ہیں۔ ہمیں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہونا چاہئے کہ نہ تو ہم بحیثیت قوم ناکام تھے اور نہ کبھی ناکام ہونگے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم مذہبی، لسانی اور علاقائی اختلافات اور تعصبات سے بالاتر ہو کر سوچیں اور سمجھیں، انشاء اللہ راستے خودبخود آسان ہوجائیں گے۔

آئیے آج ہم عہد کریں کہ پاکستان کو اسلامی ملک بنانے اور اسے صحیح مقام دلانے کیلئے صدق دل اور نیک نیتی سے اپنی تمام تر کاوشوں کو بروئے کار لائیں گے۔ مبصرین کاکہنا ہے کہ پاکستان اسلا می ملک ہے اور اسلام ایک آفاقی اور عالمی دین ہے، جو تمام انسانوں کی صلاح و فلاح، امن و سلامتی کی ضمانت دیتا ہے، اس کا پیغامِ امن و سلامتی تمام انسانیت اور اس کے سبھی طبقات کے لئے ہے، مسلمانوں کا وجود دنیا میں لوگوں کو نفع پہنچانے اور راحت رسانی کے لئے ہے اگر پاکستان دشمن کو کوئی غلط فہمی ہے تو وہ ذرہ سا غور کر لیں کیونکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستانی زندہ قوم ہیں اپنے حقوق کیلئے ہروقت تیار رہتی ہیں دشمن امن چاہتا ہے یاجنگ دونوں صورتوں میں جواب دینے کیلئے ہیں۔ کیونکہ پاکستان عالمی امن کا علمبردار اور سلامتی کا پیکر ہے۔

Ghulam Murtaza Bajwa

Ghulam Murtaza Bajwa

تحریر : غلام مرتضیٰ باجوہ