مقبول بٹ شہید رحمتہ اللہ علیہ ، ایک سوچ ایک فکر

Maqbool Butt Shaheed

Maqbool Butt Shaheed

اٹھارویں صدی کے اختتام پر انگریزوں کے ہاتھوں سلطان ٹیپو کی ظاہری شکست نے ڈیڑھ سو سال بعد انگریزوں کو ایسی شکست دی کہ سلطان ٹیپو کی شہادت کے عوض ساڑھے چھ سو ریاستوں میں سے صرف ایک میسور پر قبضہ کرنے والوں کو سارا ہندوستان چھوڑنا پڑا شہادتیں تاریخ کے دامن میں عارضی اور غیر مستقل مزاج واقعہ نہیں ہوتیں۔ بلکہ شہادتیں آنے والے دور میں شعور کو ابھارتی ہیں شہادتیں متوالوں کو شہید ہونے کا درس دیتی ہیں۔ شہادتیں تحریکوں کو جنم دیتی ہیں۔ شہید زندہ ہوتا ہے کیونکہ وہ شہید ہوکر تاریخ کے صفحات میں دائمی حیات حاصل کرلیتا ہے۔ شہادتیں کسی قوم کی اجتماعی شعور اور خود داری کی عکاسی کرتی ہیں۔ شہید شہادت کے بعد ایک سوچ بن کر قوم کے اجتماعی شعور کی آبیاری کرتا ہے۔ ضلع بارہ بولا میں 1938 کو پیدا ہونے والا مقبول بٹ بھی ایسے ہی شہدا میں سے ایک شہید ہے۔ جس نے سری نگر یونیورسٹی سے بی۔ اے اور پشاور یونیورسٹی سے ایم اے اور ایل ایل بی کی جب وہ مہذب تعلیم یافتہ اور قانون دان بن گیا تو اُس نے اپنی زندگی ناموس وطن پر نچھاور کر دی۔

مادر وطن کی تقسیم اور ہموطنوں کی غلامی نے اُس کی زندگی میں بے چینی اور بے قراری پیدا کی۔ مقبول بٹ چونکہ ایک وکیل تھا اُس لئے وہ ہر بات بڑے پائے کی کرتا تھا۔ اُس کی باتیں نہ صرف ضرب المثل بن گئی بلکہ اختصار، دانائی اور حکمت کا نمونہ بن کر آنے والے حریت پسندوں کے لئے درس آزادی بن گئیں۔ اُس نے کہا تھا کہ”محکومی کو پر امن طور پر برداشت کرنا مجموعی زندگی کا عظیم ترین اخلاقی جرم ہے” بس وہ اس جرم کا ارتکاب نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اُس نے یہ بھی کہا تھا کہ ”بہترین موت وہ ہے جو انسانوں کو ظلم وجہالت سے نجادت دلاتے ہوئے آئے” بس اُس نے پھر اپنے لئے اُسی بہترین موت کا انتخاب کیا۔ ایک باشعور بطل حریت دھرتی ماں کی حرمت پر قربان ہو گیا۔ سچ کو زیادہ دیر تک دبا کے رکھا نہیں جا سکتا تقسیم کے وقت قائداعظم محمد علی جناح اور مہاراجہ ہری سنگھ کے درمیان ایک ثالث کے ذریعے سے ریاست کو خود مختار رکھنے کے حوالے سے بہت سے معاملات طے پاچکے تھے۔ لیکن کشمیر پر قبائلی حملے نے بھارتی تسلط کی راہ ہموار کی اور سابق شاہی ریاست کی تقسیم اور محکومیت کا آغاز ہوا۔

India

India

بھارت تب سے بندوق کی نوک اور طاقت کے بل بوتے پر اپنے غیر قانونی اور غیر اخلاقی قبضے کو جاری رکھے ہوے ہیں۔ غیر اخلاقی قبضہ کبھی بھی مستقل بنیادیں حاصل نہیں کر سکتا۔ سیکولر اور بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت دنیا کی ذہین ترین قوم کی نسل کشی اور ارضی جنت کے حسن کو تاراج کررہا ہے۔ نام نہاد مہذب دنیا اور اقوام عالم کو کشمیریوں کا خون، آہیں، غم، سسکیاں، قتل عام اور تحقیر اس لئے نظر نہیں آتی کہ بھارت اُن کیلئے بڑی منڈی ہے۔ نیشنل کانفرنس کے ذریعے سے بھارت نے اپنے قبضے کو عوامی مینڈیٹ کے جواز سے نواز کر نام نہاد قانونی شکل دینے کا ڈرامہ کیا ہوا ہے۔ سرحد کے اس پار پاکستان کی سیاست کا محور ہی اسلام اور کشمیر ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان پر قابض جاگیردار، صنعت کار اور بدعنوان سیاستدانوں کے ٹولے نے اسلام کے ساتھ وفاکی اور نہ کشمیریوں کے ساتھ ۔وفا انکے لئے شجر ممنوعہ ہے۔ جن مسلمان حکمرانوں نے پاکستانی عوام کو گولیوںسے چھلنی کیا۔

مہنگائی کے ہاتھوں خود کشیوں پر مجبور کیا۔ تعلیم کو ایک غریب آدمی کیلئے ناممکن بنادیا۔ جن مسلمان حکمرانوں نے طوائفوں کی عزت کی خاطر لال مسجد پر گولیاں چلائیں۔ اپنی فوج کو ڈالروں کی خاطر کٹر مذہبی گروہوں سے لڑا دیا۔ جن مسلمان سیاستدانوں نے پاکستانی عوام کو شیعہ سنی ، مہاجر سندھی، پٹھان پنجابی، پنجابی بلوچی، کے نام پرلڑایا۔ جن مسلمان حکمرانوں نے اسلام کے نام پر بننے والے ملک کو بے لگام اور بے باک کرپشن کا گڑھ بنا دیا۔ ان مسلمان حکمرانوں نے اپنی مسلمان پاکستانی رعایا کو کیا دیا۔ وہ اخوت کے طلبگار ہیں لیکن اخوت کا مظہر نہیں بننا چاہیے۔ ایسے مسلمان حکمرانوں کی مسلمانیت سے کشمیری کیا فیض یاب ہوتے۔ انہوں نے کشمیریوں پر غلامی کی تاریکی کو طوالت دی۔ جس دن اس ملک پر پاکستانی عوام حکمرانی کریں گے اُس دن کشمیر کا مقدمہ بھی طاقتوروکیل کے ہاتھوں میں آجائے گا اور پاکستانی عوام کو بھی ریلیف ملے گا۔ دیانتدار آفسران کو کامران فیصل کے انجام سے دو چار نہیں کیا جائے گا۔

Muslim Conference

Muslim Conference

24 اکتوبر1947 ء کو قائم ہونے والی حکومت اگر آزادانہ کام کرتی رہتی مسلم کانفرنس جنس خرید نہ بنتی تو مسئلہ کشمیر حل ہوچکا ہوتا۔ پر تعیش محلات میں رہنے والوں کو کیا پتہ بیٹا کھوجانے کا غم کیا ہوتا ہے بے گھر ہوجانے کا قلق کیا ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جماعت اسلامی ، نوائے وقت اور جماعت دعوہ ہمارے رضاکارانہ حمایتی ہیں صرف اسلئے کہ وہ امت کے عالمگیر تصویر کے قائل ہیں اور عوام کی ترجمانی کرتے ہیں لیکن دھاندلی کے ذریعے ووٹ لینے والوں نے اسلام ، جمہوریت اور کشمیریوں کے ساتھ کھیلواڑ کیا فیصلے کے اختیار جیسی امانت میں ہمیشہ خیانت کی 1974 سے1984 تک قید رہنے والا مقبول بٹ انہی معاشرتی نقائص، برائیوں، تسلط اور جبر واستبداد کے خلاف بغاوت کا نام ہے۔ 11 فروری 1984 کو سولی چڑھ کر بھی اس نے قید کو پسند کیا اور طویل ترین قید ریاست کے اس متوالے کا مقدرٹھہری ۔ مقبول بٹ نے صرف دو چیزوں کا پیغام دیا ہے عزت سے جیو یا پھر باطل سے ٹکرا کر شہید ہو جاؤ۔ کبھی بھی ظلم ، جہالت، استحصال اور جبر کو برداشت نہ کرو۔

عزت نفس اور بنیادی انسانی حقوق پر کبھی بھی سودے بازی نہ کرو۔ قوموں میں ایسے لوگ صدیوں بعد ہی پیدا ہوتے ہیں جن کی شخصیات تحرک ، نظریات اور بیداری کی علامت بن جاتی ہیں۔ مقبول بٹ مزاحمت اور بغاوت کا ثبوت اور استعارہ ہے۔تحریک آزادی کشمیر کی روح ہے۔ ایک قانون دان نے عمر کے انتہائی اہم مرحلے میں اپنی زندگی وطن پر قربان کرکے آنے والی نسلوں کو یہ درس دیا کہ آزاد ی دنیا کی سب سے بیش قیمت متاع ہے۔ مقبول بٹ شہید اپنی زندگی خوشحالی سے گزار سکتا تھا۔ لیکن اُس نے اپنی زندگی جموں وکشمیر کی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل اور خوشحالی کیلئے وقف کردی۔ لیکن اقتدار کے کچھ پجاریوں نے مقبول بٹ شہید کے وژن سے پہلو تہی کئے رکھی۔ حق کو جتنا دبایا جائے وہ اتنا ہی اُبھرتا ہے۔ حق کی قوتوں، عوامی حقوق، خودداری، عزت نفس اور آزادی کا علمبردار مقبول بٹ شہید اتنا ہی مقبول عام اور عالمگیر ہوتا جارہا ہے۔

Sultan Tipu

Sultan Tipu

جتنا اُس کو گمنام اور محدود کرنے کی سازشیں کی جاتی رہیں۔ چڑھتے سورج کو سلام کرنے والے اور مقتدر قوتوں سے ساز باز کر کے عزت نفس سے تہی اور عارضی اقتدار حاصل کرنے والے اپنے ضمیر کے مجرم اور دائمی گمنامی کا شکار ہیں۔ لیکن ظلم وجہالت اور غلامی میں جکڑی ہوئی کشمیر قوم کا دردمند رہنما تاریخ کے آسمان پر خورشید کی طرح دمک رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حق اور مظلومیت کے حامی حیات جاوداں پا جاتے ہیں اور اُن کی شہادتیں وقتی طور پر معمولی واقعہ خیال کی جاتی ہیں لیکن بعد میں اُن کے دوررس نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ سلطان ٹیپو کی شہادت سے ابھرنے والے شعور نے انگریزوں کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔ مجھے قوی یقین ہے کہ مقبول بٹ شہید کی شہادت سے ابھرنے والا شعور ہندوستان کو بھی جلد کشمیر چھوڑنے پر مجبور کردیگا۔

تحریر : ڈاکٹر اعجاز کشمیری