عہدوں پر بیٹھے لوگوں کی اکثریت عوامی خدمت نہیں کرتی، سپریم کورٹ

Supreme Court

Supreme Court

اسلام آباد (اصل میڈیا ڈیسک) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ عہدوں پر بیٹھے لوگوں کی اکثریت عوامی خدمت نہیں کرتی اور ملک کے اندر افسر شاہی نہیں چلنے دیں گے۔

سپریم کورٹ میں خیبرپختونخوا کے محکمہ نکاسی آب کے ملازم پرویز خان کے کیس کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے بتایا کہ پرویز خان نے جعلی ڈگری کی بنیاد پر نوکری کی، 2 ڈومیسائل رکھے اور دو مختلف سرکاری محکموں سے بیک وقت تنخواہ لی، اس کے ساتھ ساتھ امریکی کمپنی میں بھی ملازمت اختیار کی اور تنخواہ لیتا رہا۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ شخص تو تین محکموں سے بیک وقت تنخواہ لے رہا تھا، خیبرپختونخوا میں بہت سے لوگ چار چار محکموں سے بھی تنخواہ لے رہے ہیں، یہ کیا حکومت ہے آپ کی۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ پہلے ایسے افسران تھے جو دل سے پبلک سروس دیتے تھے، آج جو لوگ عہدوں پر بیٹھے ہیں ان میں اکثریت لوگوں کو پبلک سروس نہیں دیتی، لوگوں کی خدمت کرنے والے افسران کہاں چلے گئے، اس ملک میں سول سروس کو کیا ہوگیا ہے۔

سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد پرویز خان کی کیس ملتوی کرنے کی درخواست خارج کر دی۔

علاوہ ازیں سپریم کورٹ میں ریلوے کے نچلے درجے کے ملازمین کی نوکری پر بحالی کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ریلوے کے گریڈ 5 کے تین مزدوروں کو بحال کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹریبیونل کے فیصلے کو برقرار رکھا اور محکمہ ریلوے کی درخواست خارج کردی۔

وکیل شیریں عمران نے بتایا کہ 2010 میں ملازمین کو نوکری سے برطرف کیا گیا تھا۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ملک کے اندر قانون چلتا ہے، افسر شاہی نہیں چلنے دیں گے، یہ کوئی کھیل کود نہیں، قانون کے تحت آپ کو کام کرنا ہے، لوگوں کی 15، 15 سال کی نوکریاں ہیں ان کو کیسے اٹھا کر باہر پھینک سکتے ہیں۔