برتنوں کا ہماری صحت پر اثر

Pots

Pots

تحریر : ممتاز ملک.پیرس

دنیا میں آئے روز نت نئی بیماریوں کا غلغلہ مچا رہتا ہے۔ حالانکہ ہم سوچتے ہیں کہ ہم تو پہلے زمانوں سے زیادہ نہاتے دھوتے ہیں۔ خوشبوئیں لگاتے ہیں۔ جلدی کپڑے بدلتے ہیں، گھروں میں پہلے سے زیادہ صفائی کا خیال رکھتے ہیں۔ جدید ترین طریقے اور ادویات سے صفائی کا انتظام کرتے ہیں۔ پھر بھی کیا وجہ ہے کہ آج جسقدر خوفناک بیماریاں سننے اور دیکھنے میں آتی ہیں وہ اس سے پہلے کبھی نہیں تھیں۔۔تو ذرا غور کیجیئے جو لوگ جتنے بڑے رتبے اور مقام پر ہوتے ہیں وہ ملئینرز ہوں، سٹارز ہوں ، انہیں کو یہ سب بڑی اور خطرناک بیماریاں زیادہ تر کیوں ہوتی ہیں۔ خاص طور پر کینسر کی مختلف اقسام ۔۔۔

وجہ یہ ہے ہم جتنے ناموراور امیر ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ اتنا ہی ہم فطرتی طور اطوار سے دور ہونے لگتے ہیں۔ ہمارے کھانے پکانے، پہنے ،صفائی کرنے کے انداز میں مصنوعی کیمیکلز کا استعمال زیادہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

سب سے پہلے گھر میں داخل ہوئے ائیر فریشر سے گھر کی فضا مہکائی گئی بجائے پھولوں اور عطر کے۔ پھر ہاتھ منہ دھوئے یا نہائے دھوئے کیمیکل سے بنے مصنوعی کیمکل صابن ، شیمپو، باڈی کریم ، لوشنز اور بلا بلا بلا سے خود کو مہکایا۔ اس کے بعد کھایا پکا بہترین برتنوں میں جو اکثر نان اسٹک ، اور المونیم کے ہوتے ہیں ۔ روسٹ ہوا۔فوائل پیپر یا المونیم میں ۔ جن میں پکنے والا کھانا پہلے ہی اس کا زہر اپنے اندر جذب کر چکا ہے ۔ اس کے بعد ہمارے کھانا بنانے کے چمچ بھی اکثر نان اسٹک ۔ کھانے کے برتن پلاسٹک یا کسی بھی قیمتی دھات سے بنے ہوئے۔

کھانا پکانے کے چمچ صرف اور صرف لکڑی یا سٹیل کے ہی ہونے چاہیئیں ۔

اور پکانے کی برتن بھی مٹی ، لوہے یا تام چینی اور سٹین لیس سٹیل کے ہونے چاہیئیں ۔

کھانے کے بعد یہ برتن کسی بھی کیمیکل لیکوئڈ سے ہی دھلیں گے ۔ جس کا گاڑھا پن تو ہمیں پسند ہے لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس برتنوں کی دھلائی کے لیکوئڈ نے سو فیصد کبھی بھی برتن پر سے نہیں اترنا ۔ اور وہ ایک ادھ تہہ آپ کے کھانے کے ساتھ پھر آپ ہی کے اندر جائے گی ۔ جو کینسر کا سب سے بڑا موجب ہے ۔ اس پر پانی بے تحاشا بہایا جائے گا لیکن صاف نہیں ہو سکتا ۔ اس کا بہتر طریقہ دیسی اچھے برتن دھونے کے صابن جو پہلے استعمال ہوتے تھے۔ لوکل بنا کرتے ہیں استعمال کیئے جائیں ۔ اگر لیکوئڈ استعمال کرنا بھی پڑے تو اس کے ایک حصے کو خالی بوتل میں ڈال کر اس میں تین حصے پانی کے ڈال کے اچھی طرح ہلا کر استعمال کریں اور برتن دھوتے وقت ہاتھ کو برتن پر تیزی سے پھینٹنے کے انداز میں ملئیے ۔ تاکہ سو فیصد کیمیکل اتر جائے۔ ایسا ہی اپنی شیمپو ، اور نہانے کے لیکوئڈ کیساتھ کیجیئے ۔انہیں خالص استعمال کرنا خود اپنے ہاتھوں موت خریدنے جیسا ہے ۔ اس سے آپ کا پانی بھی کم استعمال ہو گا ۔وقت بھی بچے گا ۔ یہ مٹیریل ذیادہ چلے گا ۔ پیسہ بھی بچے گا اور جان بھی بچے گی بیماریوں سے ۔

گھروں کے اندر خوشبو کے لیئے دیسی اچھے عطر کا استعمال کیجیئے ۔ کیونکہ مصنوعی ائیر فریشنر آپ کی سانس کیساتھ آپ کے اندر خطرناک امراض جیسے کینسر بھی پہنچا رہا یے ۔ ظاہر ہے آپ ہوا میں موجود فریشنر کو سانس میں لیجانے سے تو روک نہیں سکتے ۔ یا پھر گھر میں گملے ہی میں پھولوں کے جیسے گلاب ، موتیا ، چنبیلی (یا جو بھی خوشبو آپ کو پسند ہو )کے پودے لگانے کا رواج پھر سے ڈالیئے جو آپ کے گھر کو قدرتی طور پر مہکائے رکھے گا ۔

اسی طرح آتے ہیں میک اپ کی جانب جو ہر خاتون اور صاحب نے ضرور ہی استعمال کرنا یے پرفیوم لازمی اور بہت ذیادہ اس کلاس کے لوگوں میں چھڑکے جاتے ہیں جو کہ نرا زہر ہوتے ہیں ۔ کیونکہ ایک تو یہ چیزیزیں جیسے پرفیوم، باڈی لوشنز ، ہینڈ کریمز، چہرے پر لگایا جانے والا میک اپ جیسے فلوئڈ یا بیس، فیس پاوڈر،جو آپ کے منہ کے اندر بھی کسی نہ کسی صورت کچھ نہ کچھ جا رہا ہوتا ہے ۔ یہ سب زہریلے مواد آپ کو مصنوعی خوبصورتی تو دے رہے ہیں لیکن اصلی کینسر جیسی بیماری کیساتھ ۔ ان چیزوں کا استعمال کم سے کم کریں ، ہاتھوں پر لگے کریم اور لوشنز کو صابن سے اچھی طرح دھوئے بنا دھوئے بنا کبھی کھانے کی کوئی چیز اس سے اٹھا کر اپنے یا کسی کے منہ میں مت رکھیں۔ آپ کے ہاتھ سے یہ زہر اس منہ تک بھی پہنچ رہا ہے ۔ اسی طرح ایکدوسرے کو پیار کرتے ہوئے خیال رکھیئے کہ اس کے یا آپ کے چہرے کا میک اپ ہونٹوں سے لگ کر آپ کے منہ میں کسی صورت تو نہیں پہنچ رہا ۔ یہ بھی زہر ہے۔

رات کو میک اپ صاف کرنے کے بعد تازہ پانی سے منہ دھو کر سوئیے۔ کیونکہ آپ کے چہرے کا یہ میک اپ صاف کرنے والا مواد بھی زہر سے لبریز ہے۔

ان باتوں کا خیال رکھیئے اگر آپ کو اپنی اور اپنے سے جڑے لوگوں کی جان اور صحت بھی عزیز ہے تو ۔۔

Mumtaz Malik

Mumtaz Malik

تحریر : ممتاز ملک.پیرس