غریبوں کا استحصال ! کب تک؟

Poverty

Poverty

غریبی کا تعلق اور معاشی اصلاحات بیسویں صدی کا ایک ایسا تنازعہ ہے جو اکیسویں صدی کو ورثے میں ملا ہے۔ معاشی اصلاحات کے سورماؤں کا کہنا ہے کہ غریبی کا خاتمہ ہی اْن کا اصل اور حقیقی مقصد ہے۔ لیکن پاکستان بھر کے غریبوں کی موجودہ حالت بتاتی ہے کہ یہ بیسویں صدی ہی کا نہیں اکیسویں صدی کا بھی سب سے بڑا جھوٹ ہے جو آج بھی اْسی بے شرمی کے ساتھ بولا جا رہا ہے۔ میرے نزدیک حقیقت یہ ہے کہ یہ ڈھونگ رچایا اسی لئے گیا ہے کہ غریبوں کو بہگایا جا سکے اور زیادہ آزادی اور زیادہ سہولت کے ساتھ بے خوف و خطر ہوکر غریبی اور غریبوں کا مزید استحصال کیا جا سکے۔

یہ معاملہ صرف بیسویں یا اکیسویں صدی کا نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے ایسے ہی چلا آرہا ہے۔ اور اب تو حالتِ زار یہ ہے کہ غریب ، غریب تر ہو چکا ہے۔ اب تو ہم سادہ لفظوں میں جنہیں متوسط طبقہ ظاہر کرتے ہیں ان کی بھی باری آ چکی ہے کہ وہ غربت کی چکی میں پستے چلے جائیں اور سفید پوشی کا جو بھرم یہ متوسط طبقے نے اپنے آپ پر سجا رکھا ہے اْس کا پردہ بھی فاش ہو جائے۔پارلیمانی جمہوری نظام کو چلاتے رہیئے اور غریبوں کو غربت کے دلدل میں ڈھکیلتے رہیئے، یہی اس ملک کے غریبوں کا احوال ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ ” صابر اور مظلوم غریب عوام کے غصے سے ڈریئے کہ کہیں ان کے صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہو جائے”۔

ملک کے سربراہ یعنی ” صدرِ مملکت ” کی حیثیت بھی محض آرائیشی نظر آتا ہے، عقل تو یہ کہتی ہے کہ صدر کے خطابات اور لیکچرز بھی حکومتِ وقت کے منظور شدہ ہی ہوتے ہیں۔ یعنی کہ صرف زبانی دعوے۔جیسا کہ لوڈ شیڈنگ، کرپشن، بے روزگاری اور دیگر مسائل کا خاتمہ کیا جائے گا مگر آج تک یہ تمام مسائل جوں کے توں ہی ہیں۔ یہ حکومت کا عوامی پیکیج بھی اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتی ہے یا یوں کہہ لیں کہ اْسی خوف کا نتیجہ ہے کہ کہیں صابر اور مظلوم غریب عوام کا غصہ اْبل نہ پڑے اور ان کے صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہو جائے۔ حالانکہ ستم ظریقی یہ ہے کہ غریبوں کے لئے غریب کے حقیقی خاتمے کی آج تک تہہ دل سے کسی نے کوشش ہی نہیں کی۔ دلجمعی سے کوئی بھی کام کیا جائے تو ریزلٹ اچھا ہی ملتا ہے مگر جب نتیجہ بے سود و بے کار نظر آئے تو سمجھ میں یہی آتا ہے کہ سب کچھ زبانی جمع خرچی ہی ہے اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں؟اور رہی غریبوں کی بات تو وہ بیچارے تو یہ سوچ کر چْپ ہو جاتے ہیں کہ ابھی حکومت کے پاس وقت ہے تو حکومت اْن تہی دامنوں کے لئے کچھ تو ضرور کرے گی۔

کرپشن کا عفریت، بدعنوانی کا جمگھٹا اور بے ایمانی کے راکشس سے لڑنے کی فکر کسی میں نظر نہیں آرہی ہے۔ اور کرپشن ، بے روزگاری، مہنگائی کے رہتے ہوئے نہ ملک سے غریبی دور ہوگی نہ غریبوں کا کوئی بھلا ہوگا۔ طاقتور لٹیروں، کمیشن خوروں اور ناپید امن و امان خوشحالی اور انصاف کی راہ میں اٹک چکا ہے ، اور ان مسئلوں سے چھٹکارا دلانے کی فکر کوئی نہیں کر رہا ‘ یعنی : ” جو اصل غم ہے وہی غم کوئی نہیں کرتا۔”

حالانکہ معیشت کی آزادی، نجکاری (پرایوٹائزیشن ) کی آواز اور گلو بلائزیشن کی تیز رفتار شاہراہ کو پار کرنے کے لیئے ایک ایسا محفوظ راستہ ضروری ہے کہ جس پر سے کمزور عوام کی اکثریت گزر سکے۔ لیکن روپئے کو گرانے اور مہنگائی کو چڑھانے والوں کا منصوبہ کچھ اور ہی ہے۔ الیکشن کے دنوں میں کرپشن کے خلاف تقریریں تو ہوتی ہیں اْسے ختم کرنے اور اس سے لڑنے کی ہمت کوئی نہیں کرتا، بے روزگاری ختم کرنے کے نعرے تو لگتے ہیں مگر اس کٹھن مسئلے سے چھٹکارا کوئی نہیں دلاتا۔عوام کا پیسہ سرکاری خزانوں سے ترقی کے نام پر، منصوبوں کے نام پر، بیرونِ ملک منتقل کر دیا جاتا ہے اور ووٹ بھی پھر اْسی غریب سے لیا جاتا ہے ، اور غریب کے لیئے ہی کوئی کچھ کرنے کو تیار نہیں۔ روزگار کے نہ ملنے کی وجہ سے نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں، انہی میں سے کچھ جرائم کی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ اگر روزگار میسرہو تو ملک کے نوجوان ہی اپنے ملک کو ترقی کی شاہراہ پر ڈال سکتے ہیں۔اس سے زیادہ افسوس ناک بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ آزادی کے سرسٹھ (٧٦) سال بعد بھی کروڑوں پاکستانی شہریوں کے لیئے سماجی، سیاسی اور معاشی انصاف محض ایک خواب ہے۔ اشتہار بازی کے بل پر پھیلائی جانے والی اندھی صارفیت معاشرے میں اگر ایک طرف احساسِ مھرومی اور کشیدگی کو بڑا رہا ہے تو دوسری جانب جنسی، اخلاقی اور معاشی جرائم میں بے لگام اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ لالچ ، ہوس، سود، جوا، جنسی انارکی، بے ایمانی، بدعنوانی اور کرپشن کا طوفان بذاتِ خود سبب بھی ہے اور نتیجہ بھی۔ فرقہ وارانہ فساد، ریپ اور نشانہ وار قتل سمیت بم دھماکے، تشدد، لوٹ مار، اغوائ برائے تاوان کے نام پر بے رحمانہ تشدد یہ سب اسی غصے اور محرومی کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے جوشاید اقتدار پر قابض لوگوں کے خلاف عوام کے دلوں میں مستقل پنپ رہا ہے۔

Crime

Crime

آج ملک کے طول و عرض میں جو ماحول ہے اور جس طرح جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے اسے دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ ہمارا ملک راستہ بھٹک گیا ہے۔ ہم اپنے کلچر، پیار و محبت، دوستی، سب کچھ بھول گئے ہیں۔ ہمارے ملک میں سخت سے سخت قانون کا وجود تو ہے مگر پھر بھی جرائم روزانہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ ہمارا ملک صوفیوں کا ملک ہے، بزرگانِ دین کا ملک ہے، اور یہاں تشدد، بدعنوانی، نفرت اور بدکاری جیسی گھناؤنی حرکات ہو رہے ہیں۔ افسوس کہ ہم اْمتِ محمدی کہلانے والے اور ایک اللہ کو ماننے والے کس راستے کی طرف محوِ پرواز ہو رہے ہیں۔ یہ وقت توبہ کرنے کا ہے، اور تمام بْرے اعمال و حرکات و سکنات چھوڑ کر راہِ راست پر آنے کا ہے، مگر کوئی بھی گریبانوں میں جھانکنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ہر کوئی دوسرے کو قصور وار ٹھہراتا نظر آتا ہے۔ یہ صرف لفظوں کا ذخیرہ نہیں کر رہا ہوں بلکہ آپ سب یہ تمام معاملے کو روزانہ اخباروں اور میڈیا پر دیکھتے اور سنتے ہیں۔ اب سچ اور جھوٹ کا فیصلہ عوام کا حق ہے کہ ان لفظوں میں کتنا سچ ہے اور کتنا پھر کتنا سچ؟ جھوٹ کا لفظ اس لئے تحریر نہ کر سکا کہ تمام حکایتیں سچ ہی تحریر ہو گئی ہیں۔ گو کہ سچ بڑا کڑوا ہوتا ہے مگر کیا کیا جائے کہ جب قلم روانی سے لکھتا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی سچ ہی تحریر ہوتا ہے۔اسی لیئے تو کہتے ہیں کہ ” قلم کی طاقت سچائی کا پیش خیمہ ہوا کرتی ہے۔

کن کن مسائل کا تذکرہ کیا جائے، بم دھماکے، نشانہ وار قتل(ٹارگٹ کلنگ) فرقہ وارانہ فساد،اغواء برائے تاوان، کرپشن، بدعنوانی، بے روزگاری، ہر سرکاری محکمے میں ہر کام کے عوض رشوت ستانی، بینک ڈکیتی سمیت لاتعداد ایسے مرض ہیں جو ابھی شاید علامت کے طور پر نظر آرہے ہیں۔ اربابِ اقتدار ! شاید میری بات سمجھ گئے ہونگے کہ ان علامات کو مرض بننے سے پہلے اس کا خاتمہ کرائیں کیونکہ اب وقت آ چکا ہے کہ علامات کی جڑیں مضبوط نہ ہونے دی جائے،بزرگوں کے کہے ہوئے جملے بھی کیا خوب ہوا کرتے ہیں جیسے کہ یہ جملہ ” محض شاخوں کو کترنے سے بیمار معاشرہ صحت مند نہیں ہو سکے گا۔

Mohammad Siddiq Madani

Mohammad Siddiq Madani

تحریر : محمد صدیق مدنی۔ چمن