کامیاب طاقتور سیاسی رہنما عمران خان

Quaid e Azam

Quaid e Azam

1948 قائد کی وفات کے بعد اس ملک کی کیا ضرورت تھی؟ صرف ایک مخلص انسان جو مل نہیں رہا تھا ـ ایسا انسان جس کے اندر روپے پیسے اور وسائل کولوٹنے کی بھوک نہ ہولالچ نہ ہو ـ افسوس صد افسوس کہ 18کروڑ پاکستانیوں میں یہ لوٹ مار کا مرض 98 فیصد لوگوں میں پایا جاتا ہے ـ جس کی وجہ سے یہ ملک متواتر شکستگی کی طرف گامزن تھاـ جب عمران خان سیاست کے میدانِ عمل میں آیا تو اچھے انسانوں کا اتنا قحط تھا کہ عمران خان کو پارٹی بنانے کیلیۓ بیش قیمت نایاب ہیرے(رہنما) اکٹھے کرنے میں 18 سال لگےـ

سیاست کے گھپ گھیر اندھیرے میں 1996 میں پی ٹی آئی نامی ایک کرن کی چمک پھیلی جس نے آج پاکستان میں سب سے روشن سب سے بڑے طاقتور سیاسی چمکدار سورج کی حیثیت اختیار کر لی ـ آج پاکستان جیسے سیاسی باریوں مے مشتمل نظام کا قلع قمع کرکے طاقتور ترین سیاسی نام”” عمران خان”” کا ہے جس میں دو رائے نہیں ہیں ـ ایک اشارے پے پاکستان کا نظام مفلوج ہو سکتاہے ـ سیاسی دنیا میں مستند مستحکم باوقار محترم نام جس کا دشمن بھی اس کی سیاسی حکمتِ عملی کا گرویدہ ہے ـ محض 18 سال پہلے مذاق اڑانے والے آج گھٹنے ٹیکے بیٹھے ہیںـ

سچائی کا بول بالا ہے اس سے بڑی تازہ مثال میرے سامنے اور کوئی نہیں ہےـ
عمران کی بصیرت کے ساتھ اللہ نے اصل قوت جو عطا کر دی وہ پاکستان کا نوجوان ہے جو عمران خان کی قوت ہے ـ عمران کے نوجوانوں کی توکیا ہی بات ہے ـ یہ وہ نوجوان ہیں جن کا عمران خان پے اعتماد کسی سیاسی قائد کی حیثیت سے نہیں بلکہ عوامی رہنما کی حیثیت سے ہے ـ ایک الگ سیاسی سوچ داغ بیل ڈالنے والا رہنما جو لانگ مارچ وزیرستان کا کرتا ہے توسب کی طرح زمین پے سوتا ہےـ یہی سادگی یہی سچائی نوجوانوں کو اس کی طرف مائل کرتی ہےـ

کھیت کھلیانوں میں میلوں پیدل سفر کرتا ہے دور دراز پہاڑوں پے موجود گاؤں میں جاتا ہے لوگوں کے درمیان ان کے ساتھ مل کر کھاتا ہے پیتا ہےـ عام بات کرتا ہےـ موت کے منہ میں جاتے ہوئے معصوم دانیال کواہم کام چھوڑ کرملنے جاتا ہے اور انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کرتا ہے ـ بے ساختہ اپنے بیٹوں سے موازنہ کرتے ہوئے پدرانہ شفقت سے اس بچے کو چوم لیتا ہےـ
الفاظ کا نپا تلا استعمال عمل پے زیادہ یقین عمران خان نےاپنی زبان کو کبھی سودے بازی کا عادی نہیں بنایاـ

باقاعدہ مکمل نظام کے تحت سیاست پہلی بار دیکھنے میں آئی جس میں مرحلہ وار مطالبات کو منطقی انجام تک لے جایا جا رہا ہےـ لانگ مارچ میں کامیابی کے چانسسز کتنے فیصد ہیں؟ اس سوال پے یہ فیصلہ کُن جواب ملتا ہے ـ “”رِسک لئے بغیر کامیابی نہیں ملتی “” مذہبی جماعتوں پے یہ اعتراض سننے میں آیا کہ جہاد کیلیۓ دوسروں کے بیٹوں کو محاذ پے بھجنے والے اپنے بیٹوں کو امریکہ یورپ میں پڑھنے بھیج دیتے ہیںـ

سیاسی تاریخ کیا کیا رقم کرے اس عظیم لیڈر”” عمران خان “” کے نام سے
کہ جس کے دو نوجوان بیٹے پاکستان جیسے خطرناک ملک میں خوفناک حالات میں عمران خان کے ساتھ آزادی مارچ میں حصہ لے رہے ہیں ـ جو رہتے ہی بیرون ملک ہیں ـ لیکن اس ملک کے لوگوں کی بقا کی جنگ کیلیۓ سرپے کفن باندھے اپنے غیرتمند باپ کا سر فخر سے اٹھانے پاکستان کی عوام کو اپنے ساتھ کا یقین دلانےآچکے ہیںـ

مذہبی سیاسی سماجی تخلیقی الغرض ہر سوچ اس وقت صرف ایک نام کو پاکستان کیلیۓ نجات دہندہ سمجھ رہی ہے عمران خان عوامی لیڈر آئیے نئے پاکستان کی کامیابی کیلیۓ دعا کرتے ہوئےاس عظیم سوچ کے مالک رہنما کا ساتھ دیں ـ میرے ذہن میں بہت سے تحفظات بھی ہیں سامنے حکومتِ وقت گہری سیاسی جڑیں رکھتی ہےـ عمران خان کی کامیابی نئے پاکستان کی بنیادہے اور عمران کی ناکامی نجانے کس ۔۔۔۔ پاکستان کا نیا عنوان ہو یہ سوال اپنی جگہہ پھن پھیلائے دماغ کو بے سکون کئے دے رہا ہےـ

سوچوں کے جزیرے میں ہر ذی فہم الجھا ہوا ہے ـ اس وقت ملک ایسے بڑے احتجاج کا متحمل نہیں ہو سکتاـ پاکستان با گفتہ بہ حالات کے شکنجے میں بڑی بری طرح سے جکڑا ہوا ہے ـ اگر مارچ کامیاب ہو جاتا ہے تو کیا مڈ ٹرم الیکشن آسانی سے ہو جائیں گے؟ کولیشن گورنمنٹ کن کے ساتھ عمران جیسا غیور انسان بنائے گا؟ اور چلا پائے گا؟ یہ سب پریشان کُن سوالات اپنی جگہہ اور جو بیڑہ بہادر کپتان نے اٹھا لیا اس کی کامیابی کیلیۓ عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہےـ
عمران خان اللہ آپکو کامیابی عطا فرمائے آمین
عمران خان وہ نام ہے
جس نے
پاکستان کی
مجروح سیاست
کو
مضروب سیاست
کو
مقروض سیاست
کو
مفلوج سیاست
کو
وینٹیلیٹر
سے اتار کر ایک بار پھر سے

Pakistan

Pakistan

اسلامی غیرت کاتازہ لہو دیا ہے ـ جس سے سیاست کے مردہ تن میں زندگی کی حرارت نمودار ہوتی دکھائی دے رہی ہے ـ یاد رکھیں اس بار اگر بھول چوک ہو گئی اور آپ پیچھے رہے تو آزاد خود مختار پاکستان کا لفظ شائد کتابوں میں تلاش کرنے سے بھی نہیں ملے گاـ یاد رکھیۓ اس مارچ کے راستے میں آپکو کنٹینرز نہیں ملیں گے ـ پولیس کا گھیراؤ نظر نہیں آئے گا ـ تخریب کاری کرنے والے نہیں دکھائی دیں گے ـ راستے کشادہ سڑکیں صاف اور منزل سامنے ہوگیـ

کیونکہ یہ کسی مفاہمتی پیکج کی ڈِیل نہیں جس میں شکوک و شبہات ہوں یہ عمران خان کا لانگ مارچ ہے جو ویسا ہی صاف ستھرا واضح ہے جیسے خود عمران خان لانگ مارچ نئے کامیاب پاکستان کا واحد سنگ میل آئیے مل کر چلیں اور دنیا کو دکھا دیں کہ کشمیر کا آج تک کوئی فیصلہ اس لئے نہ ہوسکا کہ سب نے سیاسی مفادات پے اسکا سودا کر دیا فلسطین آج تک لہو لہان کیونکہ سب کے لین دین چل رہےـ دنیا کی تاریخ گواہ رہے کہ راستہ سچائی کا ہو باعمل رہنما ہو تو محض 18 سال میں سیاسی منظر نامہ بدل جاتا ہے ـ اور ایک سیاسی جماعت اپنے مقصد کو پانے کیلیۓ تیار کھڑی دکھائی دیتی ہےـ ایسا صرف وہاں ممکن ہے جہاںـ

Imran Khan

Imran Khan

عمران خان جیسا لیڈر ہو
مکمل کہانی
ٌآغاز سے بہترین انجام تک آج بھی ممکن ہے
اگر سیاسی سازباز نہ کی جائے
یہ ثابت کرکے دکھا دیا عمران خان نے
آئیے
نئے سیاسی سفر
نئے پاکستان
نئے دور
کیلیۓ 14 اگست کو نکلیں اور مل کر بنائیں
نیا
کامیاب
پاکستان
آپکا میرا ہم سب کا
آزاد
پاکستان

تحریر: شاہ بانو میر