مذہبی ایشوز پر امریکہ کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ

 United States

United States

کیا اسے ایک نئی بحث قرار دیا جا سکتا ہے جس میں ہمارے فیصلوں کا ریشم اُلجھ رہا ہے، ہماری آزادانہ رپورٹنگ پر قد غن لگ رہی ہے؟ کیا ایسا نہیں کہ مسلم دنیا کو امریکہ کی طرف سے کئی محاذوں پر مزاحمت کا سامنا ہے اور ہر طبقہ فکر اُس کی پالیسیوں کی زد ہے، لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہر طبقہ کا کوئی نہ کوئی فرد امریکی مقاصد کیلئے استعمال ہو رہا ہے اسے اُسکی خارجہ پالیسیوں کا شاخسانہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہمارے طبقہ کے افراد کو اپنی پالیسیوں کو ہم پر مسلط کرنے کی خاطر سر پٹ دوڑ رہا ہے۔

خاص طور پر اسلام کے حقیقی چہرے کو مسخ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا اور اسلامی قوتوں کو بطور دہشت گرد کرہ ارض پر ثابت کرنے کی کوششیں جو ہنوز جاری ہیں کیا اس حقیقت سے منہ موڑا جاسکتا ہے کہ ہماری صفحوں کے اندر امریکی مقاصد پر دل و جان سے نہال ہونے والوں نے ڈالروں کی بارش میں زمینی حقائق کو بھی مد نظر نہیں رکھا ICFJانٹر نیشنل سنٹر فار جرنلسٹ ایک ایسا ہی فورم ہے جس کے ذریعے امریکیت اپنی پالیسیوں کو ہمارے صحافی طبقہ کے اذہان پر مسلط کرنے کی خواہاں ہے۔

Global Media

Global Media

وطن عزیز سے ہی پرکشش مراعات کیساتھ بعض صحافی جو امریکی مقاصد کی دن رات آبیاری میں مصروف عمل ہیں امریکہ میں تربیت لینے کے بعد مذکورہ فورم کی چھتری تلے وطن عزیز کی صحافی کمیونٹی کو امریکی مقاصد کا ایندھن بنانے میں مصروف عمل ہیں گزشتہ روز صحافی دوست یعقوب مرزا کے ساتھ ICFJکے زیر اہتمام ”ONE Day MEDIA”ورکشاپ میں شمولیت کا اتفاق ہوا زیر بحث جو موضوع آیا وہ تھا مذہبی ایشوز پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا تصور کیا ہے سپر پاور ہونے کی دعویدار ایک ایسی ریاست کی طرف سے آزادانہ صحافتی رائے پر اثر انداز ہو نے کی کاوش جس کی دسترس میں عالمی میڈیا خود اہم ایشوز پر غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا مرتکب ہو رہا ہے۔

نائن الیون کا خود ساختہ واقعہ کرواکر ”تہذیبوں کے تصادم ” کی بنیاد رکھی گئی کیا بی بی سی کے وسعت اللہ خان کی مثال دینا کافی نہیں کہ اُس نے ملالہ یوسف زئی کے لیئے تحریریں لکھیں اور ملالہ کے فرضی نام گل مکئی کے نام سے ڈائریوں کی شکل میں تحریریں شائع ہوتی رہیں۔

پھر ہم اُس نہج پر پہنچے کہ ملالہ پر خود ساختہ حملہ ہوا اور عالمی میڈیا پر پاکستان کو ایک نہتی لڑکی پر حملہ کے نام پر دہشت گرد ریاست ڈیکلیئر کرنے کی ناکام کوششیں ہوئیں آج دنیا بھر میں امریکہ اُس میڈیا کے ذریعے جو یہودیت کی دسترس میں ہے ملالہ پر جعلی حملہ کی پاداش میں ایوارڈز سے نوازتا جا رہا ہے مگر ایک بات یہ ہوئی کہ ملالہ کو اس نہج پر اپنی تحریروں کے ذریعے منظر عام پر لانے والے وسعت اللہ خان کی چاندی ہوگئی۔

Pakistan

Pakistan

پاکستان میں مذہبی ایشوز پر رپورٹنگ کیسے کی جائے یہ ایک نئی بحث ہے جس پر ہمیں اپنے جاندار موقف کو عیاں کرنا ہے کہ کیا مغرب اپنے موقف کی آبیاری کر رہا ہے ؟سوات میں ایک فیک ویڈیو جس میں امریکی میرین عورت کو برہنہ دکھایا گیا کے جسم پر ایک امریکی جعلی ڈاڑھی لگا کر اُس برہنہ تن عورت پر کوڑے برساتا ہے کیا یہ امن کے مذہب اسلام کی آئیڈیالوجی کو مسخ کرنے کے مترادف نہیں تھا کیا اسے مغرب کی ذمہ دارانہ مذہبی رپورٹنگ قراردیا جاسکتا ہے۔

کیا یہ اوروں کے گریبان میں جھانکنے کی بجائے اپنے لتھڑے ہوئے دامن کو نظر انداز کرنے کے مترادف فعل نہیں ؟کیا سپر پاور نے مغرب میں ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا معیار قائم کر لیا ہے ؟کہ اُسے وطن عزیز میںمذہبی ایشوز پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر ایسے واقعات کے بعد یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ تنقید کا پلو تھامے رکھے؟ ناروے اور دیگر مغربی ممالک میں کیا اسے مذہبی دل آزاری قرار نہیں دیا جاسکتا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایسے خاکے شائع ہوئے جن کی اشاعت پر ہر کلمہ گو کے مذہبی جذبات لہو لہو ہوئے۔

پاکستان میں اگر کوئی امریکی تربیت گاہوں سے نکلا فرد آج امریکی سوچ ہمارے اذہان میں کسی ورکشاپ کے اہتمام سے داخل کرنے کے مقاصد پر عمل پیرا ہے تو اُسے درج بالا واقعات پر بھی نظر رکھنا چاہیئے کیونکہ مذہبی عقائد تو اسلام کی روح کے مدارج پر ہیں کیا ان مدارج کی نفی کرکے ہم اپنی روح کی موت کو دعوت نہیں دے رہے آپ کو لبرل کہلوانے کا حق حاصل ہے مگر ایسے نہیں کہ آپ لبرل ازم میں مذہب کی نفی کر دیں امریکہ میں اگر پاکستان کو وزیرستان کا ایک حصہ قرار دیا جا رہا ہے تو امریکی معلومات پر حیف ہے۔

انجم صحرائی کی بات دل کو لگتی ہے کہ امریکی انتظامیہ اور حکومتی پالیسی ساز مسلم دنیا کے باسیوں کا خوف اپنے عوام کے شعور پر مسلط کرکے اُنہیں بلیک میل کر رہے ہیں اور جس معاشرے میں خاندانوں کی اکائی کی نفی ہو ایک مادر پدر آزاد معاشرہ وہاں مذہبی اقدار کی بات کرنا کسی مضحکہ خیز عمل سے کم نہیں مان بھی لیا جائے کہ طالبان یا ملا پاکستانی معاشرے کے قابل نفرت کردار ہیں مگر 80ء کے عشرے میں ان کرداروں کوروس کے خلاف جہاد کی راہ پر گامزن کرنے کا جرم کس نے کیاکہ آج یہ دونوں کردار امریکی حواریوں نام نہاد صحافیوں کی نظر میں ناپسندیدہ ہیں کیا۔

اس پس منظر پر بحث کی ضرورت محسوس کی گئی با لکل اُسی طرح جس طرح مسلم لیگ ن مشرف کو ایک مجرم اور قابل نفرت کردار گردانتی ہے مگر اُسے عوام پر مسلط کرنے کا جرم کس نے کیا علی قلی خان جیسے سینئر جرنیلوں کی سنیارٹی کو بائی پاس کر کے اُسے چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر فائز کس نے کیا؟ فخر درانی امریکی مقاصد کو لیکر ضرور چلیں مگر زمینی حقائق کوبھی مدِنظر رکھیں کہ کیا مغرب اُن اصولوں اُن ضوابطکا پاس کر رہا ہے جس سے مذہبی ایشوز پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا تصور اُبھرے۔

M.R. Malik

M.R. Malik

تحریر : ایم آر ملک