سود کے خلاف جنگ

Pakistan

Pakistan

پاکستان کے لئے اس قدر جدو جہد کرنے اور مال و جان اور عزت کی قربانیوں کا صرف ایک ہی جواز تھا کہ مسلمان اسلامی نظریات کے مطابق سہل طریقے سے زندگی بسر کر سکیں، ایک الگ مسلمان ریاست ہو جس میں اسلامی اصولوں کو زندگی کا شعائر بنا کر مساوات کی بنیاد پر مسلمان بلا امتیاز رہ سکیں اور ہماری، اُس وقت ہندئوں سے اختلاقات کی بنیاد بھی یہی تھی کہ وہ اپنے مذہبی قدروں کے مطابق رہتے تھے اور مسلمان اسلامی نظریات کے مطابق رہنا چا ہتے تھے جس کے لئے الگ خطہ حاصل کیا گیا لیکن جس مقصد کے لئے یہ وطن حاصل کیا گیا۔

آج سب کچھ اس کے بر عکس ہو رہا ہے جو کہ ہمارے بزرگوں کے ساتھ دھوکے کے مترادف ہے ، ”سود” استحصالی نظام قائم کر کے ہم نے ثابت کر دیا کہ ہم نے اسلامی تعلیمات و نظریات کو پس پشت ڈال دیا ہے اور ریاست کو اس کے اصل مقاصد سے منحرف کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جبکہ سو د کے حوالے سے اس قدر سختی سے ممانعت فرمائی گئی، قرآن کریم کی روشنی میں سود کا نظام، لین دین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کے مترادف ہے، کیا وجہ ہے کہ ہم نے خود کو اس قدر طا قتور سمجھ لیا ہے کہ ہم اللہ سے جنگ کرنے کے لئے نکل پڑیں ہیں۔

سود کی بدولت معاشرہ تنزلی کی جانب جا سکتا ہے ترقی کی راہوں پر گامزن نہیں ہو پاتا جس کی بنیاد ہی مال و دولت کی لالچ و حرص ہو وہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہونے سے قاصر ہے بالخصوص ایک اسلامی ریاست کا خواب اسی وقت دیکھا جا سکتا ہے جب سودی نظام سے چھٹکارا حاصل ہو گا ور انہی نظریات کے تحت قائداعظم نے مملکت خداداد کے وجود میں آنے کے بعد سٹیٹ بنک کے افتتاح کے موقع پر فر ما دیا تھا کہ ”پاکستان میں بنک کاری کا نظام اسلامی اصولوں پر قائم ہو گا ”مگر صد افسوس کے اس ارشاد عظیم پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔

کیونکہ سود کے استحصالی نظام سے امیر۔امیر تر اور غریب۔ غریب تر ہوتا چلا جاتا ہے دولت کی گردش رک جا تی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس استحصالی نظام کے خلاف جہاد کیا اور اُس وقت کے اجڈ عربوں کواسلامی نظام اور مساوات کا نمونہ پیش کیا۔ اسلام نے ہمیں مساوات او ر برابری کی تلقین فرما ئی ہے جبکہ سودی نظام میں امیر اور غریب کا فرق واضح ہو تا ہے مالدار فا ئدہ حاصل کر تا ہے اور غریب ،مجبور عام آدمی خسارے میں جاتا ہے خسارہ ہو گا بھی کیونکہ ہم نے اسلامی تعلیمات میں پو شیدہ حکمت کو نہ سمجھا،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا:ہلاکت آمیز کاموں سے بچو! صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کام کون کو نسے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، جادو، کسی ناحق کو قتل کرنا ،”سود کھانا”یتیم کا مال ہڑپ کرنا میدان جنگ سے پیٹھ پھیرنا، پاک دامن عورت پر تہمت لگانا اور اللہ تعا لیٰ نے فرمایا ہے کہ سود سے مال گھٹتا ہے اور صدقہ سے مال میں اضافہ ہو تا ہے مگر ہم مال کو بڑھانے کے لئے اس کے بر عکس طریقوں پر چل پڑے ہیں، سود پر قرضہ لیتے اور دیتے ہیں سودی نظام کی تقویت کے لئے نت نئے اقدامات کرتے ہیں۔

Poverty

Poverty

سودی نظام کس طرح سے غریبوں کا استحصال کرتا ہے اس حوالے سے اسلامی موقف تو واضح طور پر موجود ہے لیکن یہاں”جیمس رابرٹس”کے الفاظ بھی سن لیجئے :”سود کا عام کردار معا شی نظام میں یہ ہو تا ہے کہ یہ خود کار طریقہ سے غریب سے امیر کی طرف سرمایہ کے انتقال کا سبب بنتا ہے اور پھر غریب سے امیر کی طرف انتقالِ سرمایہ تیسری دنیا کے ممالک کے قرضوں کے ذریعے اور بھی زیادہ چو نکا دینے کی حد تک واضح ہو گیا ہے لیکن یہ اصول پوری دنیا میں لاگو ہوتا ہے اگر ہم نظام سرمایہ پر غور کریں کہ کب اور کس طرح ہم اس قابل ہو نگے کہ نظام کو دوبارہ ازسرِنو سے ترتیب دیں کہ وہ نظام انصاف کے ساتھ بہترین طریقے سے چل سکے. انتقال نفع غریب سے امیر کی طرف، غریب جگہوں سے امیر جگہوں کی طرف غریب ممالک سے امیر ممالک کی طرف موجودہ ماحولیاتی تمویلی کی بدولت ہے، غریب سے امیر کی طرف انتقالِ سرمایہ کی ایک وجہ سود کی ادائیگی اور وصولی ہے۔

غرض کہ سودی نظام غریب عوام،غریب ممالک سے سرمایا نچوڑتا ہے اور پھر اسی سر مایہ پر پسماندہ لوگوں اور ممالک کو نچاتا ہے اب اگر ہم اس بات پر شک کریں کہ سودی نظام غریبوں کا استحصال نہیں کرتا تو یہ بہت بڑی حماقت ہو گی، اسی لئے وفاقی شرعی عدالت میں مالی معاملات پر دس سال پابندی عائد کی گئی تھی کہ سودی نظام کو پاک خطہ پر قائم رکھا جائے لیکن اب پابندی ختم ہونے کے بعد بہت سے اہلِ نظر اور صاحب فکر لوگوں نے پھر سے دس سال بعد اس استحصالی نظام کے خاتمے کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے جس میں نہایت ہی محترم روحانی استاد جناب اوریا مقبول جان صاحب بھی اپنی پوری توانائیاں لگا رہے ہیں۔

عدالتی محاذ پر ایک عظیم مجاہد کی طرح کھڑے ہیں اس کے لئے ربا فری موومنٹ کے سرگرم کارکن جناب حمزہ نظامی صاحب بھی اللہ اور اس کے رسول کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں قارئین محترم سود کے متبادل نظام پیش کر دیا گیا WWW.ALILMTRUST.COM.PK اس ویب سائٹ پر مکمل طور پر اپ لوڈ کر دیا گیا میری قارئین کرام سے درخواست ہے کہ اسے ضرور پڑھیںاور 21 اکتوبر کو سود کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن کا فیصلہ ہو گا اس کے لئے آپ کی دعائیں اور تعاون درکار ہے اس کے لئے Ribafreemovement@gmail.com پر رابطہ فرمائیں۔

Ali Raza Shaaf

Ali Raza Shaaf

تحریر : علی رضا شاف
03004502094