سعودی عرب: 30 ہزار پاکستانیوں کا قیام غیرقانونی قرار

Pakistani

Pakistani

ریاض(جیوڈیسک) ریاض سعودی حکومت کے اپنے شہریوں کو ملازمتوں کے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے نئے قوانین کے باعث سلطنت میں مقیم تیس ہزار سے زائد پاکستانی کارکن غیر قانونی رہائشی قرار دے دیئے گئے ہیں۔ نئے قوانین کے مطابق وہ غیر ملکی جو آزاد ویزے پر سعودی عرب میں مقیم تھے یا ویزے پر درج پیشے کے علاوہ کوئی دوسرا کام کر رہے تھے۔

ان کا قیام غیر قانونی تصور ہو گا۔ سعودی عرب میں پاکستانی سفیر محمد نعیم خان نے ایک برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ایسے افراد کی درست تعداد معلوم کرنے کے لیے رجسٹریشن شروع کر دی گئی ہے لیکن اب تک کی اطلاعات کے مطابق تقریبا تیس ہزار پاکستانی ان نئے قوانین سے متاثر ہوئے ہیں۔ نئے قوانین کے لاگو ہونے کے بعد سے دس ہزار پاکستانی اب تک سعودی عرب سے انخلا پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ادھر غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دنیا میں تیل پیداوار کے حوالے سے سرفہرست اس ملک میں قریب 90 لاکھ غیر ملکی کارکن کام کرتے ہیں۔ ریاض حکومت ملک میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری پر قابو پانے کے ایک منصوبیکے تحت غیر قانونی تارکین وطن کو ملک سے نکالنا چاہتی ہے۔

ملک کے اندر بھی صنعتی و تجارتی اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ ملازمتوں میں مقامی باشندوں کو ترجیح دیں۔ رواں ہفتے کے آغاز سے ریاض میں ویزہ دفتر کے باہر لمبی لمبی قطاریں لگ رہی ہیں اور لوگ سعودی عرب چھوڑنے کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے کئی کئی گھنٹے انتظار کر رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق نجی شعبے میں ہر دس میں سے محض ایک ملازم سعودی عرب کا مقامی باشندہ ہے جبکہ بقیہ نو غیر ملکی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سعودی باشندوں کے مقابلے میں غیر ملکیوں کو ملازمت سے نکالنا قدرے آسان اور سستا ہے۔ سعودی باشندوں کو اجرت بھی زیادہ دینا پڑتی ہے اور بالخصوص سخت محنت کا تقاضہ کرنے والے شعبوں کی جانب سعودی شہریوں کی دلچسپی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ سعودی حکومت نے رواں برس کے اوائل میں ایسے غیر ملکیوں کے خلاف غیر اعلانیہ کریک ڈائون شروع کر دیا تھا جو اپنے ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی مقیم تھے۔

اس تناظر میں سڑکوں پر تلاشی، کارخانوں اور دفاتر پر چھاپے مارے گئے اور کئی لوگوں کو ملک بدر بھی کر دیا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے کے مطابق 28 ملین کی آبادی والے اس ملک کی حکومت نے بڑے عرصے تک غیر ملکی کارکنوں کے حوالے سے اپنی سخت گیر پالیسی کی جانب دھیان نہیں دیا اور نتیجے میں غیر ملکی کارکنوں کی ایک بڑی اور غیر قانونی منڈی نے جنم لیا۔