سلامتی کونسل : ماسکو کے خلاف بھرپور مذمت کا اظہار

 Security Council

Security Council

ماسکو (اصل میڈیا ڈیسک) عالمی سلامتی کونسل نے منگل کی صبح روس اور یوکرین کا بحران زیر بحث لانے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔ یہ اجلاس یوکرین ، امریکا ، یورپی یونین اور میکسیکو کی جانب سے طلب کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی سیاسی امور کی معاون روزمیری ڈیکارلو نے “وسیع دائرہ کار کا تنازع” بھڑکنے سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سے اجتناب کے لیے کام کرنا لازم ہے۔ خاتون معاون نے یوکرین کے مشرق میں روسی افواج کے تعینات کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ اقوام متحدہ یوکرین کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اراضی کی خود مختاری، سلامتی اور وحدت کو سپورٹ کرتی ہے۔

ادھر اقوام متحدہ میں امریکی خاتون سفیر لنڈا تھامس گرینفیلڈ کے مطابق روسی صدر ولادی میر پوتین کا یہ دعوی کہ یوکرین کے مشرق کا رخ کرنے والی افواج کا مقصد “امن کا تحفظ” ہے ،،، یہ محض “بکواس” ہے۔

اقوام متحدہ میں فرانس کے مندوب نکولا ڈوریوور کا کہنا ہے کہ روس کا فیصلہ اس کے مغربی پڑوسی کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے ماسکو سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے۔ نکولا کے مطابق ان کا ملک یوکرین کی سپورٹ کی کوششیں جاری رکھے گا۔

اسی طرح برطانیہ کی خاتون مندوب نے بھی اس اندیشے کا اظہار کیا کہ یوکرین پر حملے سے انارکی اور تباہی کا آغاز ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ ماسکو کے خلاف بڑی اقتصادی پابندیوں کا پیکج تیار کر رہا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں بھارتی مندوب کا کہنا ہے کہ اولین ترجیح جارحیت میں کمی لانا اور یوکرین اور خطے میں امن کو یقینی بنانا ہے۔

برازیل کے مندوب نے بھی زور دیا کہ جارحیت میں لائی جائے اور بحران کے حل کے واسطے سفارتی کوششوں کو سپورٹ کیا جائے۔

چین کے مستقل مندوب کے مطابق تمام متعلقہ فریق تحمل مزاجی کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے باز رہیں جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔

البتہ روس کے مندوب ویسلے نیبنزیا نے یوکرین کے حوالے سے امریکا اور مغربی ممالک کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں مغربی ممالک منفی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگانسک اور ڈونیٹسک کے علاقوں میں یوکرین کی بم باری کے سبب 20 ہزار شہری نقل مکانی کر چکے ہیں۔ روسی مندوب کے مطابق مذکورہ دونوں علاقوں نے 2015ء میں اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا تھا۔

تاہم ماسکو نے آج سے پہلے ان کو تسلیم نہیں کیا تھا۔

یوکرین کے مندوب سرگئی کیسلٹسیا نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان دونوں علاقوں کی خود مختاری تسلیم کرنے کا فیصلہ منسوخ کر دے۔ یہ عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہو گا۔