سندھ ہائی کورٹ : شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ پر محکمہ داخلہ سندھ سے جواب طلب

Sindh High Court

Sindh High Court

کراچی (جیوڈیسک) بلال احمد سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس غلام سرور کورائی اور جسٹس ندیم اخترپر مشتمل بینچ نے وکلا اور شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف اور سزائے موت کی سزاں پر عمل درآمد کرنے سے متعلق سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی دائر درخواست پر محکمہ داخلہ سندھ سے 6 اگست کے لئے جواب طلب کر لیا ہے۔ پولیس نے وکلا کی ٹارگٹ کلنگ کے موقع پر رپورٹ پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والے دو وکلا کے مقدمات دوبارہ کھول دیئے گئے ہیں جبکہ دیگر مقدمات کی تحقیقات جا ری ہے۔

مقدمے کی مزید سماعت 6 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔ درخواست گزار سندھ ہائی کورٹ بار کے صدرمصطفی لاکھانی ایڈووکیٹ نے وفاقی و صوبائی حکومت، آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز سندھ سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونیوالے ہر مقتول کے ورثا کو 25 لاکھ روپے فوری طور پر معاوضہ دیا جائے اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے ٹارگٹ کلنگ کے تمام واقعات کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کی جائے، خصوصا وکلا برادری میں سے ٹارگٹ کلنگ کی بھینٹ چڑھنے والے افراد کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹارگٹ کلنگ میں جاں بحق ہونیوالے شہریوں کے مقدمات یا تو درج ہی نہیں ہوتے اور درج شدہ مقدما ت کو دوران تفتیش سی کلاس کر دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ٹارگٹ کلرز کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے اور وہ شہر میں دندناتے ہوئے شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں سرگر م ہیں جبکہ خصوصی عدالتوں سے ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ دیگر دہشت گردی کے مقدمات میں ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں۔

مگر انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ان فیصلوں پر بھی عمل درآمد نہیں کروایا گیا۔ لہذا عدالت عالیہ سے استدعا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو معاوضہ کے علاوہ متعلقہ حکام کو پابند کیا جائے کہ وہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کرواتے ہوئے خطر ناک ملزمان کو سزائے موت دے۔