تین لڑکیوں کا اپنے والد کو جنسی تشدد کے بعد قتل کرنے کا لرزہ خیز واقعہ

روس میں پولیس نے تین نوجوان لڑکیوں کو جو آپس میں سگی بہنیں بتائی جاتی ہیں اپنے والد پر جنسی تشدد کے بعد اسے چاقو کے وار کرکے ہلاک کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

The three teenage girls admitted to the murder, claiming they ‘snapped’ after suffering years of sexual abuse

The three teenage girls admitted to the murder, claiming they ‘snapped’ after suffering years of sexual abuse

اس لرزہ خیز واقعے کی تفصیلات جمع کی ہیں۔ روسی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے مطابق ’سنگ دل‘ باپ کی تین بیٹیوں نے اپنے والد کی سختیوں اور بے جاتشدد سے تنگ آکر بالآخر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

مقتول کی شناخت میخائل خاشاتوریان کے نام سے کی گئی ہے۔ تینوں بیٹیوں کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے ان کی زندگی اجیرن بنا رکھی تھی۔ وہ روزانہ ان کی مارپیٹ کرتا، گھر میں بند رکھتا اور طرح طرح کے تشدد کے حربے استعمال کرتا، نشے کا عادی تھا۔ تنگ آکر بالاخر انہوں نے سنگ دل والد سے گلو خلاصی کے لیے اسے چاقو اور کلہاڑے کے وار کرکے موت کی نیند سلا دیا۔

روس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنے والد کی قاتل تین لڑکیوں کوحراست میں لیا گیا ہے۔ان کی شناخت 19 سالہ کریسٹینا، 18 سالہ انجلینا اور 17 سالہ ماریا کے ناموں سے کی گئی ہے۔

میخائل خاشتوریان کے بارے میں مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ ایک طرف وہ سخت مذہبی شخص تھا اور بیٹیوں کو گھر کے اندر بھی مذہبی لباس استعمال کرنے پر سختی سے کار بند کرنے کی کوشش کرتا مگر دوسری طرف وہ منشیات مافیا کا بھی سرغنہ تھا۔ خود بھی منشیات استعمال کرتا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جب انہوں مقتول کی گاڑی کی تلاشی لی تو اس میں انہیں آتشیں اسلحہ اور دو کلو گرام ہیروئن بھی ملی۔

حراست میں لی گئی تینوں لڑکیوں نے اپنے والد کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ باپ نے ان کی زندگی عذاب بنا رکھی تھی جس کے باعث انہوں نے اسے ہمیشہ کے لیے ختم کرنے فیصلہ کیا۔

اہل محلہ اور خاشوریان کے جاننے والے بھی اسے ایک سخت گیر اور سنگ دل شخص کے طورپر جانتے ہیں۔

57 سالہ خاشوریان نے تینوں بیٹیوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے انہیں گھر میں بند کر رکھا تھا اور ان کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے کے لیے خفیہ کیمرے لگا رکھتے تھے۔ اس نے ایک بیٹی پر جنسی تشدد بھی کیا مگر وہ انہیں جسمانی اور ذہنی طورپر ہروقت تشدد کا نشانہ بناتا رہتا۔

پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ میخائل ایک باراپنے پورے خاندان کو جنگل میں لے گیا اور انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں دیں۔ اس موقع پر اس کی بیوی فرار ہوگئی۔ اس نے بچوں کو سختی کے ساتھ منع کردیا کہ وہ اپنی والدہ سے رابطہ نہ کریں۔

ایک مقامی ٹی وی چینل 112 کے مطابق خاشتوریان نے ایک بیٹی پر جنسی تشدد کیا جس پر اس نے خود کشی کے لیے بڑی مقدار میں گولیاں کھا لی تھیں تاہم ڈاکٹروں نے اسے موت سے بچالیا۔

ایک بار خاشتوریان کا بیٹا اپنے ایک دوست کو لے کرگھر آیا تو خاشتوریان نے شورمچانا شروع کردیا کہ اس اجنبی کے ساتھ اس کی بیٹیوں کے ناجائز تعلقات ہیں۔

روس میں سرکاری سطح پر اس واقعے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں تاہم ذرائع ابلاغ کے مطابق گرفتار کی گئی تینوں لڑکیوں کو اپنے والد کے قتل کے جرم میں مقدمے کا سامنا ہے اورانہیں 10 سے 15 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

The three teenage girls admitted to the murder, claiming they ‘snapped’ after suffering years of sexual abuse.

The three teenage girls admitted to the murder, claiming they ‘snapped’ after suffering years of sexual abuse.