طالبان میں پھوٹ کی خبریں، حقیقت یا پراپیگنڈا؟

Taliban

Taliban

کابل (اصل میڈیا ڈیسک) طالبان کی صفوں میں تقسیم کی خبریں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔ تاہم سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ گروپ ماضی میں بھی اختلافات دور کر کے اپنے مقصد کے حصول کے لیے متحد ہو کر کام کرتا آیا ہے۔

افغان طالبان میں تقسیم کی خبریں نئی نہیں ہیں تاہم چند روز قبل نئی کابینہ کے اعلان کے بعد سے اس گروہ کی صفوں میں مختلف آرا اور اختلافات سے متعلق باتیں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس وقت افغان طالبان میں نظریاتی طور پر دو گروپ پائے جاتے ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں، جو سخت گیر پالیسیوں اور سن 1990 کی دہائی کے دور کے طرز حکومت کے حامی ہیں۔ دوسری جانب وہ لوگ ہیں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ دور نہیں رہا اور زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر فیصلہ سازی ضروری ہے۔

اختلافات اور تصادم کی خبریں اب تک داخلی سطح پر ہی ہو رہی ہیں اور بظاہر طالبان تقسیم کو خبروں کو رد کر رہے ہیں۔ البتہ کابل کے صدارتی محل میں ہونے والی ایک حالیہ ملاقات میں معاملات اس قدر بگڑ گئے کہ ملا عبدالغنی برادر کی ہلاکت کی افواہ پھیل گئی۔ یہاں تک کہ برادر کو آڈیو ریکارڈنگ اور تحریری بیان کے ذریعے ایسی افواہوں کی تردید کرنا پڑی اور پھر بھی بات نہ بنی، تو وہ ٹیلی وژن پر نمودار ہوئے۔

ملا عبدالغنی برادر امریکا کے ساتھ مذاکراتی عمل میں طالبان کے مرکزی مذاکرات کار تھے۔ وہ ایک ایسی حکومت کے حامی ہیں، جس میں ملک کی تمام قوموں کو شامل کیا جائے لیکن حقیقت میں ایسا نہ ہوا۔ بظاہر سخت گیر نظریات کے حامی اب تک حاوی ہیں اور فیصلہ سازی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ تصادم کا ایک اور ثبوت صدارتی محل پر طالبان کا پرچم ہے، جسے افغاستان کا پرچم ہٹا کر وہاں لگایا گیا۔

اس معاملے سے واقف دو افغان شہریوں نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ کابینہ میں شامل ایک وزیر نے اپنا عہدہ چھوڑنے کی دھمکی بھی دی کیونکہ وہ اس بات پر نالاں تھا کہ ملک کی تمام اقلیتوں کو نظر انداز کر کے کابینہ میں صرف طالبان کو شامل کیا گیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایسی خبروں کو مسترد کیا ہے۔ منگل کو طالبان کے وزیر خارجہ عامر خان نے بھی ان افواہوں کو ‘پراپیگنڈا قرار دیتے ہوئے رد کر دیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق طالبان کی صفوں میں اختلافات و تقسیم فوری طور پر گروپ کے لیے مسئلہ نہیں۔ واشنگٹن کے ‘دا ولسن سینٹر سے وابستہ مائیکل کوگلمین کے بقول، ”ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ اختلافات کے باوجود طالبان ایک متحد قوت ہیں اور اختلافات کا بڑے فیلصوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کوگلمین کے بقول موجودہ داخلی بحران، اگر وہ ہے بھی، تو اسے سنبھالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے البتہ مزید کہا کہ طالبان پر حکومت صحیح طرح چلانے، بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے، پالیسی سازی اور کئی اہم چیلنجز کی وجہ سے دبا ہے اور اگر وہ ان معاملات میں ناکام رہے، تو اندرونی اختلافات شدت اختیار کر سکتے ہیں۔