ٹیکس لاگو ہوتے ہی گاڑیوں کی قیمتوں کو پر لگ گئے

 

Vehicle Tax

Vehicle Tax

لاہور (جیوڈیسک) سیلز ٹیکس، رجسٹریشن فیس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں اضافے سے گاڑیاں بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔ پنجاب میں ایک ہزار سی سی تک کی گاڑی کے لائف ٹائم ٹوکن پر انکم ٹیکس کی شرح 750 روپے سے بڑھ کر سات ہزار 500 روپے ہو گئی ہے۔ ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کے گئیرز تو تیزی سے تبدیل کئے گئے ہیں 850 سی سی تک کی گاڑی پر ود ہولڈنگ ٹیکس میں دو ہزار پانچ سو روپے، ایک ہزار سی سی تک نو ہزار پانچ سو، تیرہ سو سی سی تک 13 ہزار 125 اور سولہ سو سی سی تک 25 ہزار روپے اضافہ ہوا ہے۔

جبکہ 18 سو سی سی تک کی گاڑی کے لئے 52 ہزار 500 ، دو ہزار سی سی تک 83 ہزار 125 اور دو ہزار سی سی سے بڑی گاڑی کے ود ہولڈنگ ٹیکس میں 50 ہزار روپے اضافہ ہو چکا ہے۔ دیگر اشیا کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کے لئے بھی سیلز ٹیکس کی شرح سولہ سے بڑھا کر سترہ فیصد کر دی گئی جس پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔

800 سی سی کی مقامی گاڑی کی قیمت میں پانچ ہزار جبکہ ایک ہزار سی سی کی قیمت میں نو ہزار سے 15 ہزار روپے اضافہ ہو چکا ہے۔ مقامی طور پر سمبلڈ دو مختلف برانڈ کی پندرہ سو اور سولہ سو سی سی کی گاڑی بھی 14 ہزار سے 18 ہزار روپے تک مہنگی ہو چکی ہے۔