کیا ڈرون ہی پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرہ….؟

Drone Attacks

Drone Attacks

جولائی کے آخری ہفتہ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، یہ حملے پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہیں ادھر آئی بی ، نے جمعہ 19 جولائی 2013 کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران وزیرآعظم کو بتایا کہ لشکر جھنگوی ڈیتھ سکواڈ کے سربراہ معصوم بلا کو گرفتار کر لیا گیا ہے، وزیرآعظم نواز شریف نے ہدایت کی کہ دہشت گرد گرپوں کو اسلحہ فراہم کرنے والے عناصر کا پتہ چلا کر فوری کار وائی کی جائے۔ یہ تو روٹین کے بیانات ہیں۔ ادھر امیر جماعت اسلامی منور حسن نے منصورہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انتہائی اہم انکشاف کیا جبکہ کی اہم ایجنسیاں جن پر قو م کا کثیر سرمایہ خرچ ہوتا ہے سوئی ہوئی ہیں اُنہوں نے کہا پاکستان میں دہشت گردی طالبان اور القائدہ نہیں (اِس کے اور معنی بھی…) بلکہ امریکہ اور بھارت کر رہے ہیں، الزام طالبان پر لگا کر تاکہ ڈرون حملوں کا جواز پیش کیا جائے، بھارت اور امریکی خفیہ ایجنسیاں سرمایہ اور اسلحہ فراہم کر رہی ہیں ،جس کے ثبوت ہمارے سیکیورٹی اداروں کے پاس موجود ہیں۔

یہ تاریخی ریکارڈہے کہ جماعت نے، تحریک پاکستان کے وقت پاکستان کو ”نا پاکستان” کہا… جماعت اسلامی نے ہمیشہ طابان کی وکالت کی لیکن، دوسرے لمحے طالبان نے نفی کی ڈیرہ جیل پر حملے اور قیدیوں کو رہا کرانے کی کاروائی کو تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے جیل پر حملہ کی زمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا جیل پر حملے میں اُن کے 150 ساتھیوں نے حصہ لیا اور کامیابی سے250 قیدیوں کو رہا کرا کر لے گئے اِس کاروائی میں اُن کے پانچ ساتھی شہید ہوئے منور حسن صاحب بتائیں کہ طالبان ترجمان شاہد اللہ شاہداور عدنان ارشد سابق PAF اہلکار بھارت یاامریکی شہری یا ایجنٹ دوسری طرف ایمن الظواہری (کیا ایمن الظواہری بھی بھارتی) نے انٹر نٹ پر اپنے آڈیو پیغام میں کہا ہم اپنے اللہ سے وعدہ کرتے ہیںکہ عمر عبدالرحمٰن، عافیہ صدیقی، خالد شیخ اور دنیا بھر میں کسی بھی مظلوم مسلم بھائی قیدی کی رہائی کے لئے کسی بھی طرح کی کوشش سے گریز نہیں کریں گے۔

جبکہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی ایمن الظواہری نہیں کرا رہا بلکہ اسلام دشمن عناصر کی کاروائی ہے … عید کے دن کوئٹہ اور مچھ میں جو خون کی ہولی کھیلی گئی ،اگر بھائی بھائی کا قاتل ہے تو پھر ….! ڈیرہ جیل پر حملہ کا ایک زخمی ہسپتال میں زیر علاج، شک پر پولیس نے پوچھ گچھ کی تو یہ طالبان کا اہم کمانڈر احمد مجاہد عرف فقیر بابا عرف ابو بکر جنوبی پنجاب کا ،اُس نے بتایا کہ جیل پر حملہ کا منصوبہ 10 جولائی کو جنوبی وزیرستان کے علاقہ توئی خلہ میں تیار کیا گیا ،اب جناب منور حسن سے سوال ہے کہ یہ گرفتار شخص کون ہے، کیونکہ آپ کے پاس تو معلومات کے بہتر اور تیز ترین زرائع ہیں، اور یہ ١٥٠ حملہ آور جو آئے یہ بھارتی تھے یا امریکی، اگر یہ بھارتی یا امریکی تو پھر ہماری عسکری قیادت اور دیگر ایجنسیوں کا کیا موقف ہو گا۔

Taliban Attacks

Taliban Attacks

جمعہ 26 جولائی کُرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار میں افطار کی خریداری کے وقت دو دھماکے ہوئے 50 جاں بحق اور 178 زخمی ہوئے، اُسی رات ہنگو کی تحصیل ٹل کی جنوب مغرب شمالی وزیرستان کی سرحدپر پہاڑی چوٹی پر واقع چک پوسٹ پر رات کے اندھیرے میں طالبان نے بھاری اسلحہ سے حملہ کیا فائرنگ کے تبادلے میں دو اہلکار جاں بحق، اور 2 حملہ آور مارے گئے، گوادر میں چک پوسٹ پر حملہ 10 ، کوسٹ گارڈ جاں بحق چار زخمی…. 23 جولائی کو سکھر میں آئی ایس آئی کے دفتر پر خودکش حملہ میں دو اہلکار شہید اور 25 افراد زخمی، 5 دہشت گرد بھی مارے گئے …. 7 اگست کے اخبار میں یہ خفیہ اطلاعات کے حوالے سے خبر( جب خبر اخبار میں شائع ہوئی تو پھر یہ خفیہ کیسے ؛؛؛)کے تحریک طالبان نے مختلف شہروں میں نماز عید کے دوران مساجد،عوامی مقامات، سرکاری افسروں، 16 جیلوں اور اہم تنصیبات کونشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کیا (کیا ایسے حملے پاکستان کی سالمیت کے لئے ) اور اس مقصد کے حصول کے لئے اپنے بمبار شہروں میں داخل کر دئے اِ ن میں خواتین بمبار بھی شامل ہیں۔

ہاں اس اہم اور خفیہ خبر کے مشتہر ہونے پرطالبان الرٹ ہو کر اپنے تارگٹ میں رد و بدل کر سکتے ہیں ،سوال ہے ایسی رپورٹ کے بعد طالبان اپنے ٹارگٹ تک کیسے پہنچتے ہیں … ؟ امیر جماعت اسلامی جناب منور حسن کا یہ کہنا کے سرمایہ اور اسلحہ بھارت اور امریکہ فراہم کر رہا درست ہے، مگر سرمائے اور اسلحہ کو استعمال کرنے کے لئے افرادی قوت تو پاکستان ہی سے تیار اور استعمال میں لائی جا رہی ہے 21 جولائی کو امریکی دفتر خارجہ کا یہ بیان کہ پاکستانی امداد میں کٹوتی امریکی مفادات کیلئے نقصان دہ ہو گی یہ بیان امیر جماعت اسلامی کے موقف کی تصدیق کرتا ہے، طالبان کو سرمایہ اور اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے کہ بد امنی پیدا کریں پاکستان کو امداد دی جا رہی کہ امن قائم کریں، اگر امن قائم ہو گیا تو دونوں کے لئے امریکی اور بھارتی سرمایہ رک جائے گا….اِس لئے امن کا قیام ممکن نہیں، اور نہ ہی تاریخ الٹا سفر کر سکتی ہے۔

جب ایک تنہا عورت پشاور سے کلکتہ کا سفر بلا خوف و خطر کر تی تھی اور آج پاکستان میں ما شائاللہ ہم اپنے گھر میں بھی محفوظ نہیں، مزید کچھ لکھنے سے قلم کانپتا ہے، اگرتو محض ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت پر حملے ہیں تو یہ،جی ایچ کیو، کامرہ، نیول بیس کراچی، اور براہ راست فوجی چوکیوں اور کانوائیوں پر حملے کیا پاکستان کی سلامتی کے لئے جن میں ہزاروں فوجی جوان اور آفیسران مارے جا چکے ہیں، یہ ایسا دیمک ہے جو ملک کی جڑوں کو کھا رہا ہے اکثر یہ لفظ ”جڑوں” لکھنے والے دانشور اپنے تحریروں میں استعمال کرتے ہیں، یاد رہے جڑیں درختوں کی ہوتی ہیں اور دیمک چیونٹی نما کیڑا جو جو جڑوں کو کھا جاتا ہے، اور درخت خشک ہو کر معمولی آندھی سے گر جاتاہے اور پھر …! خدا نہ کرے، مگر خدا تو اُس کی مدد نہیں کرتا جو خوداپنی مدد نہیں کرتا…آج کل قیمتی قسم کی دوائیں دیمک کے خلاف موجود ہیں جنہیں بر وقت استعمال کیا جائے، ابھی وقت ہے۔

Badar Sarhadi

Badar Sarhadi

تحریر : بدر سرحدی