یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں

Sad Man

Sad Man

تحریر: ایم سرور صدیقی
آج ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو احساس ہو گا کیا اس کرہ ارض میں انسان ہی انسان کا دشمن نہیں ہے؟ لگتاہے کسی کے دل میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں عالمی سطح سے لے کر ملکوں ملکوں اور افراد سب کے سب عجب نفسا نفسی کا شکارہیں ،حرص ،لالچ ، طمع کا کوئی انت ہے نہ حساب ۔۔۔ ایک روپے کے فائدے کیلئے کسی کا ہزار کا بھی نقصان ہوتاہوکوئی پرواہ نہیں کرتا ارب پتی سے فقیر تک سب کا ایک ہی ایجنڈا، سوچ ، فکر ،محور اور مقصد ِ حیات دولت کا حصول ہے اور اس کیلئے جائز، ناجائز حلال ،حرام ،اچھائی یا برائی کی کوئی تمیز نہیں شادی بیاہ کی کوئی بھی تقریب دیکھ لیں ہر چیز وافرہونے کے باوجود بڑے بڑے سنجیدہ،معزز اور صاحب ِ علم کھانے پر ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے وحشی ہوں۔۔۔ایک موٹے سے صاحب دعوت ِ ولیمہ میں کھاتے ہی چلے جارہے تھے ہاتھ ،منہ، کپڑے سب آلودہ ہونے کے باوجود وہ بریک لگانے کیلئے تیار نہ تھے۔۔۔ ایک ظخص نے اسے ٹوکا یار اب بس بھی کرو۔۔۔ بس کروں اس نے لیگ پیس منہ میں رکھا ایک ہاتھ سے جیب سے انویٹیشن کارڈ نکالا روکنے والے کی طرف لہراتے ہوئے کہنے لگا دیکھتے نہیں ہو اس پر لکھا ہے تین سے پانچ بجے تک ۔ا بھی تو آدھا گھنٹہ باقی ہے۔۔ انسانی رویے، امارت غربت ،طبقاتی کش مکش معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیںلیکن سوچتا کوئی نہیں۔

روز روز درپیش سنگین معاملات ، سلگ سلگ کر جینا۔۔ سسک سسک کر مرنا ۔۔۔ ہر وقت خوف۔۔۔ ہر لمحہ اضطراب عام پاکستانی اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائے کیا واقعی زندگی اسی کو کہتے ہیں؟ زندگی سے بھرپور اندازسے لطف اندوز ہونے کیلئے دوسروںکو اپنی خوشیوں میں شریک کیجئے یقین جانئے آپ کو بہت سے سوالوںکا جواب مل جائے گاچوربازاری،لالچ ، ہوس ،فریب،دھوکہ اور نہ جانے کتنی برائیوںکو اپنی زندگی کا لازمی جز بنا لیاہے جھوٹ توہماری نس نس میں شامل ہے اور ایک جھوٹ کو چھپانے کیلئے جھوٹ در جھوٹ بولنے پر کوئی شرمندگی کا احساس تک نہیں ہوتاہم ذہن کے دریچے کھول کر غور بھی نہیں کرتے کہ ہمارا دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے؟ کیا اب بھی یقین نہیں کہ اس کرہ ٔ ارض میں انسان ہی انسان کا دشمن ہے؟ اتنی ترقی کہ دنیا چاندپرایک نئی دنیا بسانے کی آرزو مندہے۔۔۔اتنی پستی کہ لوگ غربت کے مارے خودکشیاں کرتے پھریں اور حکمرانوں سمیت کوئی پرواہ نہ کرے۔۔۔کیا زمانہ آگیاہے انسان۔۔۔انسانوںکا استحصال کرتا پھرتاہے پھربھی اس بات کا متمنی ہے کہ اللہ اسے جہاں بھر کی نعمتوں سے سرفراز کرے۔۔ہم جو کرتے پھررہے ہیں اس سے خالق ِ جہاں راضی نہیں کہیں یہ نہ ہو قیامت کے روز نجس جانور بازی لے جائیں۔ حرص ،لالچ ، طمع ، جھوٹ بے شک انسان کی شرست میں ہے لیکن سوچئے یہ امتحان کا ایک انداز بھی ہوسکتاہے اس سے اجتناب کرنے سے انسانیت فخر کرتی ہے آج معاشرے میں جتنی بھی برائیاں ہیں ان سے نجات کا واحد راستہ صرف ایک ہے ۔۔۔ہم سب انسانوں سے،انسانیت سے محبت کرنا شروع کردیں۔

کوئی یقین کر سکتاہے یہ بڑے فائدے کی بات ہے اس سے معاشرے میں ایک خوشگوار تبدیلی آنا یقینی بات ہے جب نفرتوں کا خاتمہ ،کدورتوںسے نجات اور نفسا نفسی سے چھٹکارا ملتاہے دل کو سکون آجاتاہے اولیاء کرام کی بھی یہی تعلیمات ہیں آپ کسی بھی اللہ کے ولی کی درگاہ پر چلے جائیں وہاں عجب ساسکون پوری روح میں رس بچ جاتا ہے دلوںکی کثافتیں دھل جاتی ہیں دل اپنے ملک کی حالت،لوگوںکی حالت ِ زار دیکھ کرملول ہو جاتاہے جس ملک میں بیشتر آبادی کو پینے کا صاف پانی پینے کو میسرنہ ہو۔۔ جہاں لوگ محض دووقت کی روٹی کیلئے روز مرتے روز جیتے ہوں ۔۔ جہاںکی عوام اپنے بنیادی حقوق کیلئے ترستی رہے۔۔جہاں تعلیم اور صحت منافع بخش کام بن جائے۔۔ جہاںغربت لوگوںکی بدنصیبی بن گئی ہو وہاں حالات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں اور اس بے چارے عام آدمی کی شنوائی کیونکر ہو جہاں انصاف بکتاہے اور اس کے حصول کے لئے خجل خوار ہونا نصیب بن جائے حیف ہے ان حکمرانوںپر جو غیرملکی دوروںپرجا کربھی صرف اپنی بہتری کیلئے سوچیں اور عوام کی بہتری کیلئے کچھ نہ کریں اور غریب کو اپنی بیمار ماں کے علاج ،بہن کی شادی یا اپنے بچوںکودو وقت کی روٹی کھلانے، یا پھر کوئی کام کاج کیلئے اپنے گردے بیچنے پڑیں یا اپنے لخت ِ جگر فروخت کا بورڈ آویزاںکرنے پر مجبور ہو جائے گھٹ گھٹ کر جینا مقدر بن جائے ۔قسطوں میں موت نصیب بن جائے تو ان کے دل میں وطن کی محبت خاک ہو گی اور ہمارے حکمران ہیں کہ وہ عام آدمی کے بارے میں سو چنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ بناوٹی باتیں،بلند بانگ دعوے کرنے اورزمین و آسمان کے قلابے ملانے سے عوام کی حالت اور ان کے حالا ت کبھی تبدیل نہیں ہو سکتے اس کے لئے عملاً کچھ نہ کچھ کرنا پڑتاہے۔

Poverty

Poverty

یہاں ظالم ا تنے طاقتور، بااثر اورصاحب ِ اختیار کیوںہیں کہ آئین اور قانون بھی ان کے سامنے بے بس ہوگیاہے۔ ہمارے سیاستدانوں کی ایک خوبی نمایاںہے وہ اپوزیشن میں آکرہی حکومت پر تنقید کرتے ہیںیہ الگ بات ہے کہ وہ جب اقتدار میں آئیں آپس میں شیروشکرہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں غربت کی بناء پر خودکشی کرنے والوںکی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ حکومت، سماجی تنظیموں اور صاحب ِ ثروت حضرات کیلئے تشویش کا باعث ہونا چاہیے اب تو فاقوں سے تنگ آکر والدین میں اپنے بچوں کو قتل کرنے کا رحجان پیداہورہاہے ۔ ایک عالمی ادارے نے دل ہلا دینے والی رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح میں دن بہ دن اضافہ ہوتاجارہاہے75% سے زائد شہری خط ِ غربت سے بھی نیچے زندگی بسر کررہے ہیں زندگی کی ہر قسم کی بنیادی سہولتوں سے محروم غربت کے مارے اپنے لخت ِ جگر فروخت کرنے پر مجبور ہیں سینکڑوں لوگ اپنے گردے بیچ چکے ہیں جبکہ اب گردوںکی خرید و فروخت نے ا یک کاروبار کی صورت اختیارکرلی ہے جس میں بعض ڈاکٹر بھی ملوث ہیں۔ یہ بھی کہاجارہاہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جسم فروشی میں خوفناک اضافہ ہوتا جارہاہے یہ سب غربت جیسی لعنت کی وجہ سے ایسا ہورہاہے۔

پاکستان میں غربت،دہشت گردی ،بے روزگاری،مہنگائی ،جسم فروشی اور چوری ،ڈکیتی،راہزنی دیگرمسائل کا بڑا سبب دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے جس نے مسائل در مسائل کو جنم دے کر عام آدمی کی زندگیاں تلخ بنادی ہیں پاکستان نصف صدی سے جن چیلنجز سے نبرد آزما ہے ان کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملکی وسائل چند خاندانوںتک محدودہوکر رہ گئے ہیں یہی لوگ اس وقت پاکستانیوںکی تقدیرکے مالک بنے ہوئے ہیں یہ خاندان جو چاہیں سیاہ و سفید کرنے پر قادرہیں بدقسمتی سے یہ لوگ سٹیٹ سے زیادہ طاقتور ہو چکے ہیںقانون ان کی مٹھی میںہے، آئین ان کی خواہش کا نام ہے جس کو موم کی ناک بناکر جدھر چاہیں گھمادیں۔دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے عوام کیلئے غربت کو بدنصیبی بنا دیاہے جس سے چھٹکارہ کسی طور بھی ممکن نہیں آرہا۔غربت سے تو اللہ کے آخری نبی نے بھی پناہ مانگی ہے اور مستحقین کی مدد کرنے کا حکم دیاہے اسلام کا ایک بنیادی جز زکوٰة کا مقصد ہی کم وسائل لوگوں اور غریبوں کی کفالت کرناہے اسی لئے مذہب اسلام کو دین۔

فطرت کہاجاتاہے ۔کہتے ہیں کہ غربت ایسی خوفناک چیزہے یہ سب سے پہلے انسان کی غیرت پر حملہ کرتی ہے پھر شرم ،حیا اوردل کی طمانیت رخصت ہو جاتی ہے ہو سکتاہے یہ سطور پڑھ کر حکمران طبقہ کے چمچے کڑچھے یہ تبصرہ کریں یہ کالم نگار ایویں ایسی باتیں لکھتارہتاہے جھوٹ ۔۔نرا جھوٹ یعنی کہ
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں یہ غیروںنے پھیلائی ہیں
تم انشاء جی کا نام نہ لو ۔۔۔انشاء جی سودائی ہیں۔

Sarwar Siddiqui

Sarwar Siddiqui

تحریر: ایم سرور صدیقی