مولائے کائنات کی وصیت

Ramadan

Ramadan

یہ کلمات رمضان المبارک کی اکیسویں شب کو تحریر کر رہا ہوں۔ایک ایسی رات کہ جس کے بعد سحر نہیں ہوئی۔دنیا کے شقی ترین شخص نے عدل کاروشن ترین چرا غ گل کر دیا۔اور تب سے اب تک انسانیت ظلمت کی تاریک غاروں میں سسکتی دکھائی دیتی ہے۔کفران نعمت کی یہ سزا تو ملنا ہی تھی۔وہ مردود بھی خارجی تھا اور ہمارے اردگرد محشر بپا کرنے والے بھی خوارج ہیں ۔عقل دشمن، تنگ نظر، دریدہ دہن، انتہا پرست،دہشت پسند، جاہل،گم کردہ راہ،ضالین ،مغضوبین۔ باب علم نے ان کو خوب بے نقاب کیا کہ یہ لوگ جب جب ابھرے پہچان لئے گئے ۔جب جب پیش قدمی کی پسپا ہوئے۔

پاک فوج سنت جناب امیر پر عمل پیرا ہے ۔ضرب عضب گویا ضربِ حیدری بن کر ظالمان کوکاٹتی چلی جاتی ہے۔بیشک ظالموں کا یہی انجام ہوا کرتا ہے۔یہ ظالم چاہے کشمیر میں ہو ں یافلسطین میں ،شام میں ہوں یا عراق میں ۔دعا ہے کہ آج کی بابرکت رات میں مولا علی کی سیرت کے صدقے ظالمان کو ہر میدان میں بدترین شکست سامنا کرنا پڑے اور دنیا میں عدل کا سورج پھر سے طلوع ہو اور ظلم کے اندھیرے منہ چھپاتے پھریں (آمین) آج جبکہ تربیت کی کمی نے انسان کو درندہ بنا دیا ہے۔

مصروفیت نے انسان سے تربیت کا فرض چھین لیا ہے ،مناسب معلوم ہوتا ہے مولا علی کی ایک بے مثال وصیت کا کچھ حصہ قارئین کو ہدیہ کیاجائے ۔اس امید اور دعا کے ساتھ کہ اللہ ہمیں اپنی اصلاح کرنے اور اپنی آ نے والی نسلوں کی تربیت انہی خطوط پرکرنے کی توفیق جلیل نصیب فرمائے (آمین)۔

Allah

Allah

میں تمہیں وصیت کرتا ہوںکہ اللہ سے ڈرتے رہنا۔ اسکے احکام کی پابندی کرنا اس کے ذکر سے قلب کو آباد رکھنا اسی کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہنا تمہارے اور اللہ کے درمیان جو رشتہ ہے اس سے زیادہ مضبوط رشتہ ہو بھی کیا سکتا ہے؟ بشرطیکہ مضبوطی سے اسے تھامے رہو وعظ و نصیحت سے دل کو زندہ رکھنا زہد سے اس کی خواہشوںکو مردہ کرنا یقین سے اُسے سہارا دینا حکمت سے اسے پرنور بنانا موت کی یاد سے اسے قابو میں رکھنا فنا کے اقرار پر اسے ٹھہرانا دنیا کے حادثے اسکے سامنے لانا گردشِ روزگار سے اسے ڈرانا گزرے ہوؤںکے واقعات اسکے سامنے رکھنا تمہارے پہلے والے لوگوں پر جو بیتی ہے اسے یاد دلانا انکے گھروںاور کھنڈروںمیں چلنا پھرنا اور دیکھنا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا …کہاں سے کوچ کیا….کہاں اترے…….اور کہاں ٹھہرے ہیں؟

دیکھو گے تو تمہیں صاف نظر آئے گاکہ وہ دوستوںسے منہ موڑ کر چل دیئے ہیں اور پردیس کے گھر جا اترے ہیں اور وہ وقت دور نہیںکہ تمہارا شمار بھی ان میں ہونے لگے ۔لہذا اپنی اصل منزل کا انتظار کرنا اور اپنی آخرت کا دنیا سے سودا نہ کرلینا جو چیز جانتے نہیں ہو،اس کے متعلق بات نہ کرنا اور جس چیز کا تم سے تعلق نہ ہواس کے بارے میں زبان نہ ہلانا جس راہ میں بھٹک جانیکا اندیشہ ہواس راہ پرقدم نہ اٹھانا۔کیونکہ بھٹکنے کی سرگر دانیاں دیکھ کر قدم روک لینا، خطرات مول لینے سے بہتر ہے نیکی کی تلقین کرنا تاکہ تم خود بھی اہل خیر میں محسوب ہو ہاتھ۔

زبان کے ذریعہ برائی کو روکتے رہنا جہاں تک ہو سکے بروں سے الگ رہناخدا کی راہ میں جہادکا حق ادا کرنا اور اس کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اثر نہ لینا حق جہاں ہوسختیوں میں پڑ کر بھی اس تک پہنچ جانا دین میں سوجھ بوجھ پیدا کرنا
سختیوں کو جھیلنے کے خوگر بننا حق کی راہ میں صبر اور شکیبائی بہترین سیر ت ہے ہر معاملہ میں خود کو اللہ کے حوالے کرناکیونکہ ایسا کرنے سے تم خود کوایک مضبوط پناہ گاہ اور قوی محافظ کے سپرد کردو گے صرف اپنے پروردگار سے سوال کرناکیونکہ دینا اور نہ دینا بس اسی کے اختیار میں ہے۔

زیادہ سے زیادہ اپنے اللہ سے بھلائی کے طالب ہونا میری وصیت کو سمجھنااور اس سے روگردانی نہ کرنا اچھی بات وہی ہے جو فائدہ دے اور اس علم میں کوئی بھلائی نہیں جو فیض رساں نہ ہو اور جس علم کا سیکھنا سزاوار نہ ہو، اس سے کوئی فیض بھلا کیونکر اٹھایا جا سکتا ہے؟ میں تمہارے دین اور تمہاری دنیا کو اللہ کے حوالے کرتا ہوںاور اس سے حال و مستقبل اور دنیا و آخرت میں تمہارے لئے بھلائی کا خواستگار ہوں۔ والسلام

Safder Hydri

Safder Hydri

تحریر : صفدر علی حیدری
sahydri_5@yahoo.com