ترکی شام کی حزب اختلاف کی حمایت میں سرگرم

Erdogan

Erdogan

ترک فوج آج کل شام کی سرحد پر پانچ روزہ فوجی مشقیں کر رہی ہے ۔ آخری بار اتنے بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں  13 برس قبل ہوئی تھیں جب ترکی نے شام کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ باغی ترک کردش لیڈر عبداللہ اوکالان کو ملک سے نہیں نکالے گا تو ترکی اس پر حملہ کر دے گا۔ ترک اخبار ملت کے سفارتی نامہ نگار Semih Idiz  کہتیہیں کہ ان مشقوں کا مقصد  شامیوں کو ایک پیغام دینا ہے۔یہ ایک طرح سے ترکی کی طرف سے اپنی طاقت کا مظاہرہ ہے ۔ لیکن میرے خیال میں اس کا کسی قسم کے فوجی تصادم کی شکل اختیار کرنا بہت دور کی بات ہے ۔ ابھی ہم اس مرحلے تک نہیں پہنچے ہیں۔ لیکن اس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ حکومت اب دمشق سے مایوس ہو گئی ہے اور اسے اب شام کے ساتھ اپنی 850 کلومیٹر طویل سرحد کی فکر ہے ۔ایدزکہتے ہیں کہ اس سرحد کی حفاظت کرنا اہم ہے کیوں کہ توقع یہی ہے کہ شام کے صدر بشا ر الاسد کے خلاف تحریک زور پکڑتی جائے گی اور اس کے ساتھ ہی اور زیادہ پناہ گزینوں کے سرحد پار کرنے کا خطرہ بھی بڑھتا جائے گا۔ ہزاروں لوگ پہلے ہی فرار ہو کر ترکی پہنچ چکے ہیں۔توقع ہے کہ ترک وزیرِ اعظم رجب طیب اردوان مستقبل قریب میں پناہ گزینوں کے کیمپوں کا دورہ کریں گے ۔ اس دورے کے بعد پابندیاں کے اعلان کا امکان ہے ۔ اس ہفتے جنوبی افریقہ کے دورے میں، مسٹر اردوان نے شام کے خلاف اقوامِ متحدہ کی قرار داد کے ویٹو کیے جانے کی مذمت کی۔انھوں نے کہا کہ ترکی اور یورپی یونین ، شام کے خلاف پابندیاں سخت کرنے کے اقدامات کریں گے۔ ان اقدامات کی تفصیل واضح نہیں ہے ۔ ترکی نے ہتھیاروں کی فراہمی پر پہلے ہی پابندی لگا رکھی ہے ۔گذشتہ مہینے ترک بحریہ نے ایران سے اسلحہ لے کر  شام جانے والے ایک جہاز کو روکا۔  لیکن استنبول کی مالیاتی کمپنی گلوبل سکیورٹیز کے چیف اکانومسٹ Emre Yigit  کہتے ہیں کہ نئے اقدامات کا اثر محدود ہو گا۔ہمیں یہ معلوم نہیں کہ شام کے لیڈروں کا کتنا پیسہ ترک بنکوں میں ہے ۔ پابندیوں سے انہیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ترکی کی پابندیاں  شام کی معیشت  کے لیے تباہ کن ہوں گی۔ شام  کے لیے دشواریاں ضرور پیدا ہوں گی، لیکن شام کی حکومت کی اپنے ملک پر جس طرح وہ چاہے، حکومت کرنے کی صلاحیت برقرار رہے گی۔سابق ترک سفارتکار سینان اولغان کہتے ہیں کہ  انقرہ اپنی پابندیوں کو واشنگٹن کے ساتھ ہم آہنگ  کر رہا ہے ۔ترک  لیڈروں اور امریکی لیڈروں کے درمیان اعلی سطح پر ٹیلیفون پر بات چیت ہوتی رہی ہے ۔ اور اب دونوں ملکوں کے درمیان مکمل اتفاق رائے  ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شام کے بارے میں ترکی کی پالیسی  کو امریکی انتظامیہ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ترکی نے شامی حزب اختلاف کو ترکی کے اندر ملنے اور منظم ہونے کی اجازت بھی دے دی ہے ۔ایک خود ساختہ سیرین فری آرمی کے لیڈر کو جو شام کی مسلح افواج کو چھوڑ جانے والے فوجیوں پر مشتمل ہے، ترکی میں منظم ہونے کی اجازت ہے ۔ترک  روزنامے Haberturk کے کالم نویس Soli Ozel کہتے ہیں کہ ترکی شام میں مداخلت کرنے سے بچنا چاہتا ہے ۔ لمبی چوڑی باتوں کے باوجود، میرے خیال میں ترکی بنیادی طور قدامت پسند ملک ہے۔ وہ ایک خاص حد سے آگے بڑھنا نہیں چاہتا ۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا آپ بدلتی ہوئی صورتِ حال میں ، اپنے ہر قدم کو کنٹرول کر سکیں گے ۔ اب ہم یہ سن رہے ہیں، کہ حزبِ اختلاف نے  خود کو مسلح کر نا شروع کر دیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بہت سے ذرائع  حزبِ اختلاف کو مسلح کرنا چاہیں گے۔ ایک دفعہ یہ سلسلہ شروع ہو گیا، تو پھر حالات تیزی سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔اب جب کہ انقرہ نے دمشق سے اپنے تمام تعلقات منقطع کر لیے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ترکی اب حزب اختلاف کی حمایت میں پر عزم ہے، چاہے اس کے نتائج کچھ ہی کیوں نہ ہوں۔