بڑے لوگ بڑی خواہشیں

Rohail Akbar

Rohail Akbar

پنجاب اسمبلی کے رکن ہوتے ہوئے ایوان میں کم نظر آنے والے اور جاگیر دار کو گورنر پنجاب بنائے جانے پر کسی طرف سے بھی صدائے احتجاج بلند نہیں ہوئی سوائے مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگاڑا کے جنہوں نے مخدوم احمد محمود کو گورنر پنجاب بننے سے روکنے کی کوشش کی تھی مگر وہ قائل نہیں ہوئے جس پر پیر پگاڑا نے فرمایا کہ انکو گورنر پنجاب بنائے جانے میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہے اور پیپلزپارٹی نے ایک ایسے آدمی کو گورنر پنجاب بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو ان کے کارکنوں کے نام تک نہیں جانتے جبکہ مخدوم احمد محمود کاکہنا ہے کہ ان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ گورنر بنیں اور وہ یہ خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں بڑے لوگوں کی بڑی خواہشیں ہوتی ہیں جو پوری بھی ہو جاتی ہیں جبکہ پاکستان کے غریب اور پسماندہ عوام کی آج تک کوئی خواہش پوری نہیں ہوئی کیا ہی اچھا ہوتا کہ آج پاکستان میں تمام سیاسی جماعتیں حکومت میں شامل ہیں کوئی کسی صوبے میں تو کوئی کسی کے ساتھ اور سب ملکر پاکستان کے عوام کی خواہشیں بھی پوری کردیتی بجائے اس کے کہ اپنے اپنے مفادات کو عوامی مفادات پر قربان کرتے مگر ہمارے سیاستدانوں نے ملکر کر اس ملک کو پسماندگی ،جہالت اور غربت کی گہرائیوں میں دھکیل دیا ہے اور خود کو اتنا طاقتور بنا لیا کہ آنے والے الیکشن میں پیسے کے زور پر الیکشن جیتنے کی امیدیں لگا رکھی ہیں اور اسی ناجائز پیسے کی زریعے تو ملک کو لوٹا اور لٹایا جا رہا ہے حکومت کی معاشی پالیسیوں نے ملک کی اقتصادی صورتحال کو تباہ کر دیا ہے۔

معیشت کی تباہ کن صورتحال کی وجہ سے غریب کے لیے دو وقت کی روٹی پوری کرنا بھی نا ممکن ہو گیا ہے۔عوام کے لیے روٹی،کپٹرا اور مکان کا نعرہ لگانے والے حکمرانوں نے صرف قومی خزانہ لوٹ کر اپنی جیبوں کوبھرا ہے۔ملکی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔حکمران ملک کو لوٹ کر اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں حکومت نے پانچ سالوں میں عوام کو کیا ڈیلیور کیا ہے؟روٹی،کپڑا اور مکان کی رام کہانی کدھر گئی،آج مہنگائی اور بے روز گاری کا دور دورہ ہے،سی این جی کے حصول اور یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی کیلئے لوگ لمبی لمبی قطاریں بنائے دھکے کھارہے ہیں،لوگوں کو بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے، حاجیوں کی جیبیں کاٹی گئیں،این آئی سی ایل اوربینک آف پنجاب کو لوٹا گیا۔

رینٹل پاور پلانٹس اورفرٹیلائزرزاورسیف سٹی جیسے منصوبوںمیں اربوں کی خورد برد ہوئی،سٹیل ملز،پی آئی اے اور ریلوے جیسے قومی ادارے تباہ کرکے رکھ دئیے گئے ملک کی معیشت اور قومی ادارے تباہ ہوچکے ہیں اربوں روپے چھاپ کر لوگوں میں تقسیم کئے جارہے ہیں سیاسی سوجھ بوجھ اور محب وطن رہنمائوں کوملک کی معیشت اور اداروں کو بچانے کے لئے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے خون کے عوض اقتدار میں آنے والوں نے پانچ سالوں میں کیا محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو گرفتار کرلیا۔معاشرے ملکوں و قوموں کی ترقی و خوشحالی کیلئے جزا و سزا کا عمل جاری رکھنا بہت ضروری ہے۔ اچھے کام کرنے پر حوصلہ افزائی اور کرپشن اور غلط کاری پر سزا ہونی چاہیے۔ بصورت دیگر معاشرے میں برے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہونے سے معاشرتی بگاڑ جنم لیتا ہے جو قوموں کی بربادی اور تباہی کا سبب بنتا ہے قومی خزانے کی ایک ایک پائی امانت ہے جو ایمانداری سے خرچ ہونی چاہیے۔وسائل کے بے دریغ زیاں کے متحمل نہیں ہوسکتے جو سرکاری آفیسران قومی و سائل کے زیاں یا خورد برد میں ملوث ہیں وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی میںکسی قسم کی دھونس دھمکی، سفارش میں نہ آیا جائے  لیکن اس بات کو ذہن میں رکھا جائے کہ احتساب کی آڑ میں انتقاقی کارروائی نہیں ہونی چائیے یا ٹھوس ثبوت کے بغیر کسی شریف آدمی کی پگڑی نہ اچھالی جائے۔

America

America

اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف وحدت میں پنہاں ہے فلسطین ،کشمیر، بوسنیا ہرزوگوینیا کے بعد اب برما میں مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب امریکہ بہادر اس شاندار کا رکردگی پر برمی حکمرانوں کو شاباش دے رہا ہے مگر انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسلمان حکمران ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔

تحریر : روہیل اکبر 03466444144