سچائی کا علم

 TARIQ BUTT

TARIQ BUTT

پاکستان میں آجکل بڑی آہ و کار مچی ہوئی  ہے اور ہر کوئی اپنی اتھارٹی کے سپریم ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔جو سپریم نہیں ہے وہ بھی سپریم بن رہا ہے اور جو حقیقت میں سپریم ہے اسے کوئی سپریم ماننے اور اس کی توقیر کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ جو ادارہ اس وقت سب سے زیادہ بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے وہ پارلیمنٹ کا ادارہ ہے جو بنیادی طور پر سب اداروں کی حد و دو قیود کا تعین کرتا ہے اور ا نھیں چند بنیادی ضا بطوں اور اصلولوں کا پابند کرتا ہے ۔ آج کے جمہوری دور میں اس ادارے کو پارلیمنٹ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔پارلیمنٹ کے لئے آئین میں کوئی پابندی نہیں کہ وہ کون سا قانون بنا نا چاہتی ہے اور کون سا قانون بدلنا چاہتی ہے۔اسے دو تہائی اکثریت کے ساتھ آئین میں کمی،اضافہ یا بدلائو کا مکمل اختیار دیا گیا لیکن خود کو سپریم سمجھنے والا مخصوص ادارہ آئین کی اس ہدائت کو بھی تسلیم کرنے سے گریزاں ہے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ مخصوص ادارہ اپنی حدود سے تجاوز کر کے آئین شکنی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ صدرِ پا کستان پر یہ ذمہ داری ہو تی ہے کہ وہ ایسی آئین شکنی کا نوٹس لے اور ہر اس شخصیت کو جو اس آئین شکنی کی مرتکب ہو رہی ہے اس کا مواخذہ کرے تا کہ آئین و قانون کی حکمرا نی پر حرف نہ آئے۔ اس وقت کی تصادمی فضا میں صدرِ مملکت کا اقدام شائد موجودہ تصا م کو مزید ہوا دے دے لیکن راہنمائوں کی عظمت کا فیصلہ ایسے ہی مشکل اور دگر گوں حالات میں ہو تا ہے۔

سچائی پر ایمان قوی ہو تو پھر شکست کا سارا خوف خود ہی ہوا ہو جاتا ہے۔سچائی خود ہی اپنی جیت کا اعلان ہو تی ہے۔ سچائی قوت کی علامت ہو تی ہے لہذا یہ کسی بھی قوت سے خوف زدہ نہیں ہو تی بلکہ اپنی سچائی کی قوت سے آگے بڑھتی رہتی ہے۔تاریخ ہمیں بتا تی ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وصال سے قبل ایک لشکر روم کی جانب روانہ کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا جس کا سپہ سالار غلام ابنِ غلام اسامہ بن زید کو مقرر کیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد ریاست پر سیاسی ابتری کا ایک رنگ اغلب ہو گیا تھا جس کے دوران سورشوں نے ایسا سر اٹھا یا کہ اسامہ بن زید کے لشکر کی روانگی پر سوالیہ نشان لگ گئے۔جید صحا بہ کرام کی رائے یہی تھی کہ اس لشکر کی رخصتی کو وقتی طورپر روک دیا جائے۔

حضرت عمر بن خطاب بھی اسی خیال کے حامی تھے کہ اس وقت اس لشکر کی روانگی سیاسی لحاظ سے موزوں نہیں ہے لہذا اس کو وقتی طور پر روک دینا چائیے ۔ابو بکر صدیق نے سب کی سنی لیکن فیصہ یہ ہوا کہ وہ لشکر اپنے پروگرام کے مطابق ر خصت ہو گا۔ صدیقِ اکبر نے فرمایا کہ وہ لشکر جس کی رخصتی کا حکم سرکارِ دو عالم ۖ نے فرمایا تھا اس لشکر کو روک دینے کا اختیار ابو بکر صدیق کے پاس نہیں ہے ۔ انھوں نے فرمایا کہ اگر ایسا وقت بھی آجائے کہ میں مدینہ میں اکیلا رہ جائوں اور مجھے خدشہ ہو کہ بھیڑیے مجھے چیر پھاڑ کر کے ر کھ دیں گئے لیکن یہ لشکر پھر بھی روانہ ہو گا کیونکہ اس کی روانگی کا حکم سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دے رکھا ہے۔عزیزانِ من وہ لشکر اسامہ بن زید کی سر کردگی میں روانہ ہ ہوا جس نے ہر سو اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور اسلامی ریاست کی قوت و حشمت کی دھاک سارے علاقے میں قائم کر دی ۔ امریکہ میں1860 کی خانہ جنگی تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے جس میں غلامی کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑی گئی تھی۔ امریکی صدر ابراہم لنکن غلامی کاخاتمہ چاہتے تھے لیکن امریکی عوام کی اغلب اکثرت اس قانون کے خلاف تھی لیکن ابرا ہم لنکن نے سچائی پر لبیک کہتے ہوئے غلامی کو خلافِ قانون قرار دینے کا اعلان کر کے ایک طویل خانہ جنگی کا سامنا کیا اور اسی خانہ جنگی کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں اس نے اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کیا لیکن اس نے غلامی کے خاتمے کے جس عظیم سچ کا ساتھ دیا تھا وہ آج بھی زندہ ہے اور ابراہم لنکن پوری دنیا میں ایک ایسے انسان کی صورت میں پہچانے جاتے ہیں جس نے غلامی کے خا تمے کا اعلان کر کے انسانیت پر احسانِ عظیم کیا تھا۔آخری جیت ابراہم لنکن کا مقدر بنی تھی کیونکہ وہ سچائی کا علم اٹھائے ہوئے تھا اور سچائی کا علم کبھی بھی سرنگوں نہیں ہوتا۔5 جولائی19977 میں جنرل ضیا الحق نے ذولفقار علی بھٹو کی آئینی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا لیکن ذولفقار علی بھٹو نے جنرل ضیا الحق کے ما رشل لا کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اسے اس گستاخی کی پاداش میں اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے تھے لیکن آئین و قانون کے تقدس کی خاطر ذولفقار علی بھٹو کی قربانی رنگ لائی اور ملک میں جمہوریت کا سورج طلوع ہوا۔

ذولفقار علی بھٹو کو ساری دنیا میں جمہوری قدروں کے احیا کی علامت گردانا جاتا ہے جب کہ اس کا قاتل جنرل ضیا ا لحق ایک سفاک اوربے رحم حکمران کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے اور اس کی اپنی اولاد اس کا نام لینے سے کتراتی ہے جب کہ ذولفقار علی بھٹو سے پوری دنیا کے حریت پسند محبت بھی کرتے ہیں اور اس کی جراتوں کو سلام بھی پیش کرتے ہیں۔۔

جب کوئی بھی بھی ادارہ اپنی حدود سے تجا وز کر جائے اور کسی ضابطے اور قانون کی پابندی سے ماورا ہو جائے اس وقت اس کی تنزلی یقینی ہوتی ہے۔عدلیہ اس وقت اسی روش پر گامزن ہے ۔موجودہ حکومت کے خلاف بڑی پھرتیاں دکھا رہی ہے اور بڑی تندہی کا مظا ہرہ کر رہی ہے لیکن جب اس کی اپنی باری آتی ہے تو اس وقت اس کا انداز بالکل بدل جاتا ہے۔ارسلان افتخار کے خلاف عدلیہ کا رویہ بالکل ناقابلِ فہم ہے ۔ ملک ریاض کے خلاف اس نے جس طرح کا رویہ اپنایا ہوا ہے اس طرح کا رویہ ارسلان افتخار کے خلاف دیکھنے میں نہیں آرہا۔ارسلان افتخار کو عدلیہ نے پھولوں کی طرح رکھا گیا ہے اور نیب انکوائری کمیٹی کے خلاف ارسلان افتخار کی ایک درخواست پر عدلیہ میں کھلبلی مچ گئی تھی۔ نتیجہ بالکل صاف ہے کہ سپریم کورٹ نے ارسلان افتخار کے خلاف ساری کاروائی کو تا حکمِ ثانی روک دیا ہے جب کہ دوسری طرف ریاض ملک کو جیل بھیجنے کیلئے عدلیہ بڑی مستعد نظرآ رہی ہے ۔سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا تھا کہ مجھے قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضہِ قدرت میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی چوری کرے گی تو اس کے ہاتھ بھی کاٹ دئے جائیں گئے ۔انصاف کی دنیا میں فصاحت و بلاغت سے قانون کی حکمرانی کے اتنے واضح ، گہرے،شفاف اور قوی ترین جذبات کا ملنا نا ممکن ہے۔

سچ تو یہی کہ عدالت کی نظر میں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہونی چائیے کہ عدالت کے کٹہرے میں کون کھڑا ہے بلکہ یہ ہونا چائیے کہ ملزم پر جو الزامات لگائے گئے ہیں ان میں کتنا دم خم ہے اور پھر گوائیاں، شہادتیں اور واقعات الزامات کی صداقت پرکھنے میں کتنے کارگر ہیں؟ آئین و قانون میں تعلقات،دوستیاں ، رشتے داریا ں اور مراسم اہم نہیں ہو تے کیونکہ عدالت نے انصا ف و قانون کو پیشِ نظر رکھ کر فیصلے کرنے ہوتے ہیں لیکن عوام محسوس کر رہے ہیں کہ آجکل ایسا نہیں ہو رہا ۔عدالت ارسلان افتحار کو بچانے کی راہ پر محوِ سفر ہے جس سے عدالت پر جانب داری سے کام کرنے کا تاثر ابھر رہا ہے لے رہی ہے او۔ اس کے دہرے معیار بڑے واضح نظر آرہے ہیں جو عدلیہ کی ساکھ کو بری طرح سے مجروح کرنے کا باعث بن ر ہے ہیں ۔پی پی پی پی کے خلاف عدالتی مخاصمت اور تصادم کی فضا بڑی واضح نظر آرہی ہے جب کہ ملک کی دوسری ساری جماعتیں بالکل نہائی دھو ئی ثابت کی جا رہی ہیں اور ان پر احتساب کا لفظ بالکل لاگو نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ فائدہ مسلم لیگ (ن ) کے حصے میںآیا ہے ۔ میاں محمد نواز شریف کو طیار ہ سازش کیس میں سپریم کورٹ نے دس سال کے بعد ا نصاف مہیا کر کے انتخاب لڑنے کا اہل بنادیا حا لا نکہ آئینی نکتہ نظر سے ایسا ممکن نہیں تھا۔

 Arsalan Iftikhar

Arsalan Iftikhar

وکلاء تحریک کی حمائت کرنے کا کوئی تو صلہ ہونا چائیے تھا اور یہ صلہ کیا کم ہے کہ ایک نااہل شخص کو سپریم کورٹ نے اہلیت کا سرٹیفکیٹ تھما دیا ہے ۔ مسلم لیگ(ن) تو جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں زیرِ عتاب تھی اور اس کے دوبارہ احیا کے امکانات انتہائی معدوم تھے لیکن سپریم کورٹ کی سر پرستی نے مسلم لگ(ن) کو نئی زندگی بھی عطا کی اور انھیں سیاسی طور پر قوت بھی عطا کی۔ عدالتوں کی نظر میں مسلم لیگی قیادت با لکل معصوم اور بے گناہ ہے کیونکہ عدالتوں میں انھیں تحفظ حا صل ہے ۔وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو کو تو انتہائی تحقیر امیز انداز میں وزارتِ عظمی سے فارغ کر دیا گیا تھا لیکن جب سوال ارسلان افتخار کی ذات کا آتا ہے تو عدالت میں کاروائی روک دی جاتی ہے۔ اسی طرح کے رویے میاں برادران کے حوالے سے بھی دیکھے گئے ہیں۔میاں شہباز شریف پچھلے ساڑھے چار سال سے حکمِ امتناعی پر پنجاب کی وزارتِ اعلی پر فائز ہیں۔ وہ بنیادی طور پر نا اہل تھے لیکن حکمِ امتناعی کی بدولت وہ اب بھی وزیرِ اعلی پنجاب ہیںاور پاکستان کے ساٹھ فیصد پر ان کی حکومت کے پھریرے لہرا رہے ہیں حکومت دھائی دے دے کر تھک گئی ہے کہ شہباز شریف کے مقدمے پر دوبارہ کاروائی کا آغاز کر کے عدالت اپنا فیصلہ صادر کرے لیکن کوئی بھی شہباز شریف کے مقدمے کو سننے کے لئے تیار نہیں ہے ۔اگر یہ جانبداری نہیں ہے تو پھر جانبداری کس کو کہتے ہیں؟مخا لفین کی تو گردنیں دبوچ لی جائیں لیکن جب قانون کا شکنجہ اپنے پیاروں کے خلاف حر کت میں آنے لگے تو اس وقت مقدمے کی کاروائی کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کر کے اپنے پیاروں کو احتساب کی تلوار سے بچا لیا جائے۔

کیا ارسلان ا فتحار آسمان سے اتری ہو ئی کوئی خاص مخلوق ہے جس پر قانون کا نفاذ نہیں ہو سکتا ؟کیا چیف جسٹس کا بیٹا ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس پر کسی قانون کا اطلاق نہیں ہوسکتا؟کیا قانون اتنا بے بس ہے کہ اسے چیف جسٹس کے بیٹے پر لاگو نہیں کیا جا سکتا؟ارسلان افتحار پاکستان کاا یک عام شہری ہے اور آئین کی روح سے اسے اس کی کرپشن ور غلط اقدامات کی سزا دینا انصاف کا بول بالا کرنا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدلیہ غیر جانبداری کی روش کا مظاہرہ کر کے انصاف کا بول بالا کرتی ہے اور اپنی نیک نامی میں ا ضا فہ کرتی ہے یا ذاتی تعلقات کی بنا پر انصاف کا خون کر کے عوام کو مایوسی سے ہمکنار کرتی ہے۔

تحریر : طارق حسین بٹ