لیڈرانِ قوم، فحش و بد

govt of pakistan

govt of pakistan

ملک کی ترقی ہو یا معاشرہ کی اصلاح ہر محاذ پر قوم کا راہنما اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن اگر راہنما یا قائد وعدہ خلاف ہو، بد فعل اور بد معاش ہو،بد کردار ی اوراخلاقی زوال میں مبتلا ہو،تو اُس معاشرہ اور ملک کی ترقی و اصلاح رک جائے گی۔نہ صرف ترقی و اصلاح رک جائے گی بلکہ ملک و معاشرہ تنزلی،پستی و انحاط کا شکار ہوگا۔پس یہی صورتحال اس وقت ملک عزیز ہند میں اخلاقی زوال کی ہے جو اپنے عروج پر آچکا ہے ۔ اس اخلاقی زوال کے مختلف پہلوئوں پر سوچنے اور غور وفکر کرنے والے افراد آواز اٹھا رہے ہیں لیکن محسوس ہوتا ہے کہ یہ زوال و تنزلی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ابھی حال ہی میں کرناٹک کے وزیر اعلیٰ یدو رپّا کے خلاف آوازیں اٹھنا بند ہی ہوئیں تھیں کہ اب اسی ریاست کے وزرا سمبلی میں فحش فلم دیکھنے کے مرتکب ٹھہرے۔ان وزراء کے نام لکشمن سوادی، سی سی پاٹل اور کرشنا پالیمار ہیں۔معاملہ یہ ہے کہ جب فحش فلم دیکھنے والے وزراء کے استعفے حاصل کرنے کے بعد ان کو رکنیت سے نا اہل قرار دینے کی اپوزیشن نے بات کہی تو ان کے مطالبہ کو مسترد کر دیا گیا اور اپنی ساکھ بچانے کے لیے اپوزیشن پارٹیوں کو اس معاملہ پر 146اور ضابطہ363کے تحت بحث کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔بعد میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں بی جے پی،کانگریس اور جے ڈی ایس کے دو دو اراکین رہیں گے۔ یہ 6رکنی کمیٹی 12مارچ تک اسمبلی میںرپورٹ پیش کرے گی۔ اسمبلی سے باہر سدارامیا نے نامہ نگاروں سے کہا کہ اپوزیشن کو بحث کا موقع نہ دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ حکومت ایوان میں فحش فلم دیکھنے والے وزرا کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ اس طرح کی حکومت کو اقتدار میں رہنے کا اخلاقی حق حاصل نہیں ہے۔ اس لیے داغ دار وزیر کو اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا جائے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ وزراء کے قصور وار پائے جانے پر 3سال کی قید اور 5لاکھ کا جرمانہ ہو سکتا ہے کیونکہ اسمبلی کے اندر فحش فلم دیکھنا جرم ہے۔

اخلاقی پستی کل بھی تھی۔

یہ اخلاقی پستی جس کا تذکرہ کیا جا رہا ہے اور جس کی وجہ سے معاشرہ کھوکھلا ہواجا رہا ہے ،ایسا نہیں ہے کہ یہ آج کی دین ہو اور کل کے لوگ اس سے محفوظ رہے ہوں بلکہ یہ اخلاقی زوال کل بھی تھااسی لیے خالقِ انسانیت نے قرآن حکیم میں مختلف قوموں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان میں کون کون سی کمیاں اور برائیاں تھیں جن کی وجہ سے وہ ہلاکت کی شکار ہوئیں۔کہا کہ: “اور لوط کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا ، پھر یاد کرو جب اْس نے اپنی قوم سے کہا :کیا تم ایسے بے حیا ہوگئے ہو کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟ (الااعراف:٨٠)۔مزید کہا کہ: “اور مَدیَن والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا: اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو، اْس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے ربّ کی صاف رہنمائی آگئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پورے کرو، لوگوں کو اْن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو “(الااعراف:٨٥)۔قرآن نے بہت تفصیل کے ساتھ ان برائیوں کی جانب توجہ دلائی ہے اور بتایا ہے کہ یہ وہ ذلت بھرے کام ہیں جن کو اختیار کرنے سے فی زمانہ ناکامی ہی ٹھہرے گی لیکن اس کے باوجود واقعہ یہ ہے کہ برائیاں ان لوگوں میں بھی بڑھ رہی ہیں جو قرآن کے قاری ہیں اور ان میں تو بڑھتی ہی جا رہی ہیں جو قرآن پر یقین نہیں رکھتے۔آج ہندوستان میں ہر وہ برائی موجود ہے جس کا تذکرہ قرآن نے کیا ہے لیکن توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ کیا ان برائیوں کے خاتمے کے لیے چند قد م اٹھے ہیں؟اگر ہاں تو وہ کون لوگ ہیں جو اس جانب پیش قدمی کر رہے ہیں اور کیا ان میں وہ برائیاں موجود نہیں جن کے خاتمے کی جانب وہ آواز اٹھاتے ہیں!آج کرپشن کا مسلۂ زور و شور سے اٹھایا جا رہا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ اس کرپشن ،کالے دھن اور رشوت نے ملک کی معیشت کو بہت پیچھے ڈھکیل دیا ہے۔اس کے باوجود آج ہم دنیا میں ابھرتے ہوئے ملک کے طور پر مانے جاتے ہیں لیکن کیا یہ صحیح نہیں کہ اگر ہمارے معاشرے میں رشوت اور جعل سازی ، کالے دھن اور کرپشن کو کنٹرول کر لیا جاتا تو ہم آج اور بھی آگے ہوتے۔لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ مادی ترقی ہی ہماری معاشرتی ترقی کا ثبوت فراہم کرتی ہے یا ہم کو مادی ترقی کے ساتھ ساتھ اخلاتی انحطاط سے اوپر اٹھ کر اخلاقی برتری کی بھی ضرورت ہے؟توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ یہ اخلاقی برتری کیسے حاصل ہوگی؟کہا کہ:” وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو اْس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرزِ عمل کو نہیں بدل دیتی”(الانفال:٥٣)۔یعنی جب تک کوئی قوم اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کی نعمت کا غیر مستحق نہیں بنا دیتی اللہ اس سے اپنی نعمت سلب نہیں کیا کرتا۔

تقاضائے وقت۔

جس ملک میں ہم رہتے ہیں وہ اخلاقی پستی میں مبتلا ہو،اس کے زوال کے دن قریب آ رہے ہوں، اس پر خدا اور اس کے فرشتے لعنت بھیج رہے ہوں،اس ملک اور اہل ملک کی ناکامی لکھی جا چکی ہواوروہ بربادی کے دہانے پر آ لگے ہوں۔اور ان حالات میں وہ لوگ جو دعویٰ کرتے ہوں کہ ہمارے پاس ربِ کائنات رحمان و رحیم کی تعلیمات موجودہیں۔ اس کا مظاہرہ نہ وہ اپنے عمل سے کرتے ہوں، نہ اپنے قول سے کرتے ہوں، نہ لوگوں کو اس جانب متوجہ کرتے ہوں اور نہ ہی وہ ایسا کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں۔ تو پھر کیونکر وہ ان ہلاکتوں میں شمار نہ ہوں گے جن کے شکار دوسرے ہورہے ہیں۔یہ وقت وہ بھی نہیں کہ دوسروں کی تباہی پر خوش ہوا جائے اور سمجھا جائے کہ اب جب کہ وہ ہلاک ہو جائیں گے توہم کو خود بہ خود اقتدار حاصل ہو جائے گا اور ہم اللہ کی مرضی کو اللہ کی زمین پر نافذ کر دیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ “دوسرے”دوسرے نہیںبلکہ آپ کے اپنے ہی ہیں۔دن رات وہ آپ کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں، لین دین اور کاروبار کرتے ہیں، خوشی اور غم میں شریک ہوتے ہیں، ملک اور معاشرہ کو سنوارنے اور بگاڑنے میں ساتھ ساتھ ہیںان حالات میں جب کہ وہ اور آپ ہر موقع پر ایک دوسرے کے شریک ٹھہرے تو پھر کیونکر وہ “دوسرے”ہوئے۔یہ موقعہ ضایع کرنے کا وقت نہیں بلکہ موقع سے فائدہ اٹھانے کا وقت ہے معنی یہ کہ اپنے قول سے بھی اور اپنے عمل سے بھی آپ ان پر اسلام پورے کا پورا واضح کر دیجیے۔اور اسلام کی وضاحت آپ تب ہی کرنے کا اخلاقی جواز رکھتے ہیں جب کہ آپ خود اس پر عمل پیرا ہوں۔اس سے آگے یہ کہ یہ اسلام زندگی کے کسی ایک شعبے میں قائم ہونے کے لیے نہیں آیابلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں جاری و ساری ہونا چاہیے۔

تحریر : محمد آصف اقبال