’افغان معاشرے کو آزاد صحافیوں کی ضرورت ہے‘

Journalists

Journalists

کابل (اصل میڈیا ڈیسک) افغانستان سے امریکی قیادت والی غیر ملکی افواج کے حتمی انخلا کی تاریخ جیسے جیسے نزدیک آ رہی ہے ویسے ویسے اس ملک میں میڈیا کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد میں خوف و ہراس بڑھتا جا رہا ہے۔

کابل میں رہائش پذیر اور کام کرنے والے ایک صحافی عزت اللہ مہر داد نے ای پی ڈی نامی خبر رساں ادارے سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی افواج کے مکمل انخلا سے پہلے ہی کئی افغان صحافی شدید خوف اور گھبراہٹ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق 2020ء کے اواخر سے اب تک مسلح افراد اور شدت پسند تنظیمیں صحافیوں اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کو قتل کر رہی ہیں۔ عزت اللہ مہر داد کا کہنا تھا،” میں بہت خوفزدہ ہوں کہ افغانستان سے بین الاقوامی فوج کے انخلا کے بعد ان حملوں میں مزید اضافہ ہو گا۔‘‘

مہر داد کابل میں متعدد بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے لیے بطور صحافی کام کرتے ہیں۔ ان میں ‘فورن پالیسی، وائس، اور دا ڈپلومیٹ‘ بھی شامل ہیں۔ یہ کسی حد تک صحافیوں کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔

مہر داد کے بقول، ”امریکی اور نیٹو افواج بیس سال تک یہاں تعینات رہی ہیں۔ یکم مئی سے ان کے انخلا کا سلسلہ شروع ہوا اور 11 ستمبر کو انخلا مکمل ہو جائے گا۔ ہم ہنوز ان افواج کی یہاں موجودگی محسوس کر رہے ہیں۔‘‘

22 سالہ صحافی مہر داد کو ڈر ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان دوبارہ اقتدار میں آ جائیں گے۔ انتہا پسندوں نے ابھی سے یکے بعد دیگرے افغان اضلاع پر قبضہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ مہر داد کہتے ہیں،” اگر طالبان کی کارروائیاں اسی طرح جاری رہیں تو میں اُس طرح اپنا کام جاری نہیں رکھ سکوں گا، جس طرح اب تک کرتا آیا ہوں۔‘‘

جان جونکھوں میں ڈال کر بھی افغان خواتین صحافت کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

افغانستان میں میڈیا منظر نامے اور صحافت کے شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے مستقبل میں کیسی صورتحال سامنے آئے گی اس بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا تاہم ابھی سے بہت سی خواتین اور مرد صحافیوں نے ملک چھوڑنے کے بارے میں سوچ بچار شروع کر دی ہے تاہم مہر داد اپنا ملک نہیں چھوڑنا چاہتے۔ وہ کہتے ہیں،” افغان معاشرے کو آزاد و خود مختار صحافیوں کی ضرورت ہے۔‘‘

صحافیوں کے تحفظ اور حقوق کے لیے سرگرم تنظیم” رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘‘ کے مطابق افغانستان کا شمار صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ آزادی صحافت کی عالمی سطح پر درجہ بندی میں 180 ممالک میں افغانستان کا 122 واں نمبر ہے۔ مہر داد کے مطابق ہندو کش کی اس ریاست میں ان مرد اور خواتین صحافیوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے،جو لوکل یا مقامی میڈیا کے لیے کام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان کی نظروں میں سب سے زیادہ یہی صحافی رہتے ہیں اور انتہا پسند مسلح گروپ انہی کو سب سے زیادہ اپنی دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہیں۔ مہر داد کے بقول،” کیونکہ میں انٹرنیشنل میڈیا کے لیے کام کرتا ہوں اس لیے میں نسبتاً محفوظ ہوں۔‘‘

مارچ کے مہینے میں تین میڈیا خواتین ورکرز کو نا معلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

مہر داد کا کہنا ہے کہ افغانستان کے مقامی میڈیا کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کو بہت کم تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ یہ ایک اضافی مسئلہ ہے۔ لوکل میڈیا اپنے مرد اور خواتین رپورٹروں اور ایڈیٹرز کو مناسب تنخواہیں دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ مہر داد کے بقول،” اکثر دیہی علاقوں میں صحافی بغیر کسی مالی معاوضے کے رضا کارانہ طور پر اپنی صحافتی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔‘‘

مہر داد کابل حکومت پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں،” تنقیدی سوالات اٹھانے والے صحافیوں کو حکومت سرے سے نظر انداز یا رد کرتی ہے۔‘‘