امریکا ابراہیم معاہدوں کا حامی، مگر اسرائیل کو فلسطینیوں سے مذاکرات کی ضرورت ہے: بلینکن

Anthony Blanken

Anthony Blanken

روم (اصل میڈیا ڈیسک) امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کے عرب ملکوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے ابراہیم معاہدوں کی حمایت کرتا ہے لیکن وہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان معاملات میں بہتری کا متبادل نہیں ہو سکتے۔

انٹونی بلینکن نے اتوار کو اطالوی دارالحکومت روم میں اسرائیلی وزیرخارجہ یائر لاپیڈ سے ملاقات کی ہے اور ان سے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

یائر لاپیڈ نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو ویانا میں ایران اورامریکا کے درمیان جوہری سمجھوتے کی بحالی سے متعلق مذاکرات پر’’سنگین تحفظات‘‘ہیں کیونکہ دونوں ممالک کو گذشتہ چند سال کے دوران میں ہونے والی ’غلطیوں‘کا ازالہ کرنا چاہیے۔

ویانا میں ایران اور امریکا اپریل سے 2015 ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے بالواسطہ بات چیت کر رہے ہیں۔اس میں بین الاقوامی پابندیاں کے خاتمے کے بدل میں تہران کی جوہری سرگرمیوں پرقدغنیں عاید کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کے بارے میں بعض سنگین تحفظات ہیں اورانھیں پریس کانفرنسوں کے ذریعے نہیں بلکہ ویانا میں براہ راست دوبدو مذاکرات میں دور کیا جانا چاہیے۔

روم میں امریکی وزیرخارجہ سے ملاقات سے قبل یائرلاپیڈ نے پریس کانفرنس میں مختصر بات چیت کی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اسرائیل واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کام کرے گا۔‘‘

ان کا کہنا تھاکہ ’’گذشتہ چند سال کے دوران میں غلطیاں سرزدہوئی ہیں۔اسرائیل کے دوجماعتی مؤقف کو نقصان پہنچا ہے۔اب ہم مل جل کر ان غلطیوں کا ازالہ کریں گے۔‘‘