امریکی فوجی حکام کی پاکستانی نژاد قیدی پر سی آئی کے مبینہ تشدد کی مذمت

Protest

Protest

امریکا (اصل میڈیا ڈیسک) امریکی سینیئر افسران نے سی آئی اے کے مبینہ تشدد کو ”امریکی اخلاقیات پر دھبہ” قرار دیتے ہوئے سرزنش کی ہے۔ حال ہی میں ایک پاکستانی نژاد قیدی نے سی آئی اے کی انتہائی پرتشدد اور ظالمانہ تکنیکوں کو کھلے عام بیان کیا تھا۔

فوجی جیوری میں خدمات انجام دینے والے سات سینیئر امریکی افسران نے یکم نومبر پیر کے روز گوانتانامو بے جیل کے پاکستانی نژاد قیدی ماجد خان پر سی آئی اے کے مبینہ تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اذیتیں دینے کے ان واقعات کو، ”امریکی اخلاقیات کے تانے بانے پر ایک دھبہ” قرار دیا۔

جیوری میں شامل فوجی حکام کی اکثریت نے انہیں معاف کرنے کے لیے ایک خط بھی تحریر کیا ہے، جس میں ماجد خان کے ساتھ ہونے والے سلوک کی مذمت کی گئی ہے اور انہیں معاف کر دینے کو کہا گیا ہے۔ معروف اخبار نیویارک ٹائمز نے یہ خط تفصیل سے شائع کیا ہے۔

ماجد خان نے القاعدہ کے لیے کورئیر کے طور پر کام کرنے کا اعتراف کیا تھا اور سن 2003 میں پاکستان میں پکڑے جانے کے بعد سے ہی حراست میں ہیں۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے انہیں بیرون ملک نامعلوم مقامات پر قید کر رکھا تھا جہاں انہیں اذیتیں دی گئیں۔

گوانتانامو بے جیل کے وہ ایسے پہلے قیدی ہیں جنہوں نے چند روز قبل ہی پہلی بار سی آئی اے کی ان انتہائی پرتشدد اور ظالمانہ تکنیکوں کو کھلے عام بیان کیا تھا جو نائن الیون حملوں کے بعد گرفتار کیے گئے لوگوں پر استعمال کی گئیں۔ انہوں نے اپنے اوپر ہونے والی زیادتیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ”مجھے لگا کہ میں اب مرنے ہی والا ہوں۔”

ماجد خان نے بتایا کہ انہیں برہنہ کر کے کئی دنوں تک چھت سے لٹکاے رکھا اور مسلسل جگائے رکھنے کے لیے برف والا سرد پانی بار بار ڈالا جاتا تھا۔ واٹر بورڈنگ یعنی ان کا سر پانی میں ڈبوئے رکھا جاتا تھا یہاں تک کے وہ ڈوب کر مرجانے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ پھر تفتیش کار سر باہر نکالتے ہی ان کے منہ اور ناک میں مزید پانی ڈال دیا کرتے تھے۔

گزشتہ ہفتے سن 2002 میں القاعدہ کی بعض سازشوں میں مدد کرنے کا اعتراف کرنے کے بعد ماجد خان کو کم سے کم 26 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

انہیں بری طرح پیٹا جاتا تھا۔ کئی مرتبہ زبردستی انیما یعنی پیٹ خالی کرنے کی دوا دی گئی، جنسی تشدد کیا گیا اور بھوکا رکھا گیا۔ یہ سب کچھ ان بیرون ملک جیلوں میں ہوا جن کا پتہ خفیہ رکھا گیا۔ ماجد خان کا کہنا تھا، ”میں ان کے ساتھ جتنا تعاون کرتا اور بتاتا وہ اتنا ہی زیادہ مجھ پر تشدد کرتے۔”

سی آئی اے کے بلیک سائٹس میں تین برس تک رکھنے کے بعد ستمبر 2006 میں انہیں گوانتا نامو بے لا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بلیک سائٹس میں انہیں ہمیشہ تاریکی میں رکھا گیا اور محافظوں اور پوچھ گچھ کرنے والوں کے ساتھ کسی سے بھی ان کا رابطہ نہیں تھا۔

گزشتہ ہفتے سن 2002 میں القاعدہ کی بعض سازشوں میں مدد کرنے کا اعتراف کرنے کے بعد انہیں کم سے کم 26 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

تاہم آٹھ رکنی جیوری میں شامل سات فوجی افسران نے ان کی معافی پر زور دیتے ہوئے جو خط لکھا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ماجد خان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کی، ”انٹیلیجنس کی مناسبت سے نہ تو کوئی عملی اہمیت تھی اور نہ ہی امریکی مفادات کے لیے اس سے کوئی ٹھوس فائدہ پہنچنے والا تھا۔”

اس مکتوب میں کہا گیا ہے، ”اس کے بجائے یہ امریکا کے اخلاقی تانے بانے پر ایک دھبہ ہے، امریکی اہلکاروں کے ہاتھوں مسٹر خان کے ساتھ جو سلوک ہوا، وہ امریکی حکومت کے لیے باعث شرم ہونا چاہیے۔”

امریکی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ سن 2012 میں جرم کا اعتراف کرنے کے بعد سے 41 سالہ ماجد خان حکام کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں اور اسی ڈیل پر مبنی ان کی رہائی کے لیے ایک درخواست پیش کی گئی ہے جس کے تحت آئندہ برس فروری کے اوائل تک ان کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے۔

پاکستانی شہری ماجد خان سعودی عرب میں پیدا ہوئے اور ان کا خاندان 1990کی دہائی میں امریکا منتقل ہوا تھا۔ انہوں نے بالٹی مور کے ایک کالج سے گریجویشن کے بعد واشنگٹن میں ایک دفتر میں ٹیکنالوجی سے متعلق ملازمت شروع کی۔ اسی دفتر سے انہوں نے نائن الیون کو پینٹاگون پر جہاز گرنے کے بعد دھواں اٹھتا ہوا دیکھا تھا۔وہ اسی برس اپنی والدہ، جنہیں وہ اپنی زندگی کی سب سے اہم شخصیت قرار دیتے ہیں، کی وفات کے بعد انتہا پسندی کی جانب راغب ہوئے۔

ماجد خان نے اپنے اقدامات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ان کے لیے معذرت کی۔ انہوں نے کہا وہ اب صرف اپنی اہلیہ اور دو بیٹیوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں جن کی پیدائش ان کی قید کے دوران ہوئی۔ ماجد خان نے کہا کہ انہوں نے ان کو گرفتار کرنے اور اذیت دینے والوں کو معاف کردیا ہے۔

ماجد خان کا کہنا تھا،”میں نے اپنے کیے گئے برے کاموں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ہے اور اسی لیے میں نے فرد جرم قبول کیا اور امریکی حکومت سے تعاون کیا۔”

ماجد گوانتانامو میں سی بی آئی کے تفتیشی پروگرام سے گزرنے والے ان ہائی پروفائل قیدیوں میں سے پہلے قیدی ہیں، جنہیں کیوبا میں امریکی فوجی اڈے پر قائم فوجی ٹریبیونل مجرم قرار دے گا اور سزا سنائے گا۔

گوانتانامو بے میں قید خالد شیخ محمد سمیت پانچ افراد کا کیس ابتدائی مراحل میں ہے اور ایک جج کا کہنا ہے کہ اگلے برس سے قبل اس کی سماعت شروع ہونا مشکل ہے۔ اس فوجی اڈے پر ابھی مجموعی طورپر 39 قیدی ہیں۔