آرمینیا کو ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں: روس

Russia

Russia

روس (اصل میڈیا ڈیسک) آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ بندی کی ناکامی کے بعد دونوں‌ ملکوں‌ نے اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عاید کی ہے۔

دوسری طرف روس نے کہا ہے کہ وہ آرمینیا کی ضروری مدد کے لیے تیار ہے۔

آرمینیا اور آذربائیجان متنازع علاقے ناگورنو کاراباخ میں جنگ بندی پر متفق ہونے کے باوجود لڑائی روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

ایسے میں روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماسکوآرمینیا کی ضروری مدد کے لیے تیار ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ماسکو یریوان کو لڑائی میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اگر جنگ براہ راست آرمینیا کی سرزمین میں منتقل ہوتی ہے تو ہم آرمینیا کی مدد کے پابند ہوں‌ گے۔

روس کی طرف سے یہ بیان ایک ایسےوقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف آرمینیا کے وزیر اعظم نکول باشینین نے روسی صدر ولادی میر پوتین سے آرمینیا کی سلامتی کی ضمانت کے لیے آذر بائیجان کے خلاف مدد کی درخواست کی تھی۔

دوسری طرف آذربائیجان کے وزیراعظم الھام علیوف نے روس کی طرف سے آرمینیا کو مدد کی فراہمی کی یقین دہانی کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آرمینیا اپنی شکست تسلیم کرے اور ہماری مقبوضہ اراضی خالی کردے۔ ان کا کہنا تھا کہ باکو کسی بھی تیسرے ملک کو شامل کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جاری لڑائی میں کسی تیسرے ملک کو کودنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ادھر سعودی عرب میں‌آذربائیجان کے سفیر نے متنازع علاقے ناگورنو کاراباخ کو آذربائیجان کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ ہمیں اپنی سرزمین کے دفاع کا پورا پورا حق ہے۔ سفیر کا کہنا تھا کہ آذر بائیجان کی مسلح‌ افواج اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ انہوں‌ نے ناگورنو کارا باخ میں آرمینیا کو شکست دینے کا بھی دعویٰ‌ کیا۔

خیال رہے کہ آرمینیا اور آذر بائیجان کے درمیان 27 ستمبر سے جاری لڑائی میں‌اب تک کم سے کم 1250 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔