اسد رجیم سے منسلک 16 افراد اور اداروں پر امریکا کی نئی پابندیاں

US Treasury Finance

US Treasury Finance

واشنگٹن (جیوڈیسک) امریکا نے شامی رجیم سے منسلک 16 اداروں اور شخصیات پر نئی اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی تیل کی سپلائی میں سہولت فراہم کرنے والی کمپنیاں اور ان کے کارندےبھی نئی پابندیوں کی زد میں آئے ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بلیک لسٹ کردہ شامی تاجروں اور کاروباری کمپنیوں کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ بلیک لسٹ ہونے والے کاروباری افراد میں سامرفوز اور ان کے خاندان کے افراد بھی شامل ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ کے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس امور کے معاون خصوصی سیگل مانڈلکر نے کہا ہے کہ قاتل اسد رجیم کے معاون بعض تاجر شامی حکومت کی وحشیانہ کارروائیوں کے نتیجے میں فرار ہونے والے شہریوں کی املاک پرقبضے اور ان پر سرمایہ کاری میں ملوث ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ اس نے شامی رجیم سے منسلک ایسی 16 شخصیات اور اداروں کو بلیک لسٹ‌ کیا ہے جو اس سے قبل یورپی یونین کی طرف سے بھی بلیک لسٹ کی جا چکی ہیں۔

ان میں چینی، اناج اورپٹرولیم مصنوعات کی تجارت کے لیے قائم کردہ کمپنی کے مالکان فوز برادران حسین فوز اور عافر فوز بھی شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہےکہ شامی رجیم سے منسلک بلیک لسٹ کردہ کمپنیوں میں سے ‘سینرجی ایس اے ایل’ اور ‘بی ایس کومبانی’ کے صدر دفاتر لبنان میں‌ہیں۔ یہ دونوں‌کمپنیاں ایرانی تیل پرعاید کردہ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کا خام تیل فروخت کرنے میں ملوث ہیں۔

اس کےعلاوہ ٹیلی ویژن چینل’لنا’ اور دمشق میں قائم’فورسیزنز’ ہوٹل کو بھی بلیک لسٹ کردیا گیا ہے۔ یہ دونوں شامی کاروباری شخصیت سامر فوز کی ملکیت بتائے جاتے ہیں۔