fbpx

پوپ فرانسس نے ویٹیکن کے نئے اصلاحاتی دستور کی منظوری دے دی

Pope Francis

Pope Francis

واشنگٹن (اصل میڈیا ڈیسک) کیتھولک پوپ کی معتارف کرائی جانے والی اصلاحات کا بنیادی ہدف ویٹیکن کی بیوروکریسی یا افسر شاہی کو قرار دیا گیا ہے۔ یہ دستوری اصلاحاتی پیکج ہفتہ انیس مارچ کو جاری کیا گیا اور پانچ جون کو نافذ ہو گا۔

کیتھولک میسیحی عقیدے کے مقدس مقام ویٹیکن کی انتظامیہ کو ‘کیوریا‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں بنیادی طور پر وہ انتظامی ادارے شامل ہوتے ہیں جو مختلف مذہبی و تنظیمی شعبوں پر مشتمل ہیں۔

اسے کیتھولک چرچ کا مرکزی ادارہ بھی قرار دیا جاتا ہے، جو پوپ کے نام پر اختیار کے ساتھ ساتھ دینی رہنمائی کی ہدایات بھی جاری کرتا ہے۔ ان ہدایات پر دنیا بھر کے 1.3 بلین کیتھولک مسیحی افراد کو عمل کرنا لازم ہوتا ہے

کیوریا کے شعبوں کے سربراہ عمومی طور پر مرد سینیئر پادری اور اکثر کارڈینل ہوتے ہیں۔ کیتھولک چرچ میں ساری دنیا کے مختلف ممالک کے انتہائی سینیئر اور دینی معاملات کے ماہر پادریوں میں سے کارڈینل کا انتخاب پوپ کرتا ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں کُل کارڈینلز کی تعداد 212 ہے اور انہی کارڈینلز میں سے کسی ایک کو پوپ کی رحلت کے بعد نئے پوپ کے طور پر منتخب کیا جانا ہے۔

اصلاحات پر مبنی دستوری پیکج کی دینی تدوین اور نئی اصولی ترتیب میں نو سال کا عرصہ صرف ہوا۔ یہ دستور چون صفحات پر مشتمل ہے۔

اس کا نام ‘اعلانِ بائیبل‘ یا پریڈیکیٹ ایوانجلیم (Praedicate Evangelium) ہے۔ یہ نیا اصلاحاتی دستور سن 1988 میں سینٹ جان پال دوم کے دور میں مرتب کردہ دستور کی جگہ لے گا۔

چونتیس برسوں بعد ویٹیکن کے اصلاحاتی دستور کی تشکیل پوپ فرانسس کے دور میں مکمل ہوئی، جنہوں نے یہ منصب سن 2013 میں سنبھالا تھا اور منصب سنبھالنے کی نویں سالگرہ پر اس نئے دستوری پیکج کا اعلان کیا گیا۔

نئے دستوری پیکج کے نافذ العمل ہونے کی باقاعدہ تاریخ پانچ جون مقرر کی گئی ہے۔ اس میں کئی اہم دینی مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

ویٹیکن کے نئے دستور میں ایک مرد اور عورت میں صنفی تخصیص روا نہیں رکھی گئی۔ اس لحاظ سے واضح کیا گیا کہ کیوریا کے کسی انتظامی شعبے کی سربراہی کسی بھی دین دار انسان کو سونپی جا سکتی ہے اور اس کا فیصلہ حاضر پوپ کرے گا۔

اصلاحاتی دستور کا کام گزشتہ برسوں میں کارڈینل مشیروں کی کابینہ کے اجلاس میں ٹکڑوں کی صورت میں مکمل کیا جاتا رہا ہے۔ اس میں مالی اصلاحات بھی شامل ہیں۔ ان دینی فیصلوں کو جمع اور تدوین کا کام متعلقہ شعبوں کی ذمہ داری تھی۔ ابھی تک نئے دستور کی اشاعت و طباعت اطالوی زبان میں ہوئی ہے اور بقیہ زبانوں میں اس کی اشاعت مرحلہ وار مکمل کی جائے گی۔

سابقہ دستور میں جنسی زیادتی کے واقعات کی چھان بین کا باقاعدہ کوئی ادارہ نہیں تھا اب اس مناسبت سے نئے دستور میں ایک نیا انتطامی ادراہ ‘نظریہ عقیدہ‘ کے نام سے قائم کیا گیا ہے۔ اس کا درجہ مشاورتی کمیشن کے مساوی ہے۔ اس نئے ادارے کی تشکیل سے تفتیشی عمل میں سفارش یا اثر و رسوخ کا استعمال کم سے کم ہو گا۔

امریکی کارڈینل شین او میلی نے اس نئے کمیشن کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پوپ فرانس کی ان کوششوں کا اظہار ہے کہ دین کے تحفظ کا مضبوط کلچر موجود ہونا چاہیے تا کہ ایک گرجا گھر بچوں اور عورتوں کے لیے محفوظ مسکن ہو۔

جن ممالک میں کیتھولک مسیحی عقیدے کے حامل اقلیت میں ہیں، ان کی دینی و معاشرتی اقدار کو فروغ و محفوظ کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ دینی اقدار کے لیے اس نئے دستور میں علیحدہ سے شقیں شامل کی گئی ہیں اور کوشش کی گئی ہے کہ کسی قسم کا ابہام یا کنفیوژن موجود نہ رہے۔