بلوچستان میں طبی عملے کے پاس حفاظتی آلات کی کمی

Medical staff in Balochistan

Medical staff in Balochistan

بلوچستان (اصل میڈیا ڈیسک) پاکستانی جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں ڈاکٹروں نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی سامان کی خریداری کے لئےسرکاری اسپتالوں میں چندہ مہم شروع کر دی ہے۔

ڈاکٹروں کے بقول حکومت نے اکثر ہسپتالوں میں انہیں تاحال مکمل حفاظتی کٹس اور دیگر سامان فراہم نہیں کیا ہے اسی لیے انہیں مجبور اپنی مدد اپ کے تحت حفاظتی سامان خریدنا پڑ رہا ہے ۔

بلوچستان میں کورونا وائرس سے اٹھارہ ڈاکٹروں سمیت بڑے پیمانے پر طبی عملے کے دیگر اہلکار متاثرہوئے ہیں۔ کوئٹہ سول ہسپتال میں تعینات ڈاکٹرعائشہ خان کے بقول کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹرز کی حفاظت پر حکومت سنجیدگی سے کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے ۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا،”اس وقت کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگرسرکاری ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹروں کی اپنی زندگیاں خطرے میں ہیں ۔ یہاں کورونا وائرس لوکل کیرئیرز کے ذریعے تیزی سے پھیل رہاہے ۔ ڈاکٹروں کو جو حفاظتی سامان مہیا کیا گیا ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس وائرس سے ڈاکٹرز اس لیے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ہسپتالوں میں ایس اوپی پر عمل درآمد بھی نہیں کیا جا رہا ہے۔‘‘

ڈاکٹر عائشہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حکومتی سطح پر شدید بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا، ” ہم تمام سینئرڈاکٹرز نے صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے چندہ مہم کا آغاز کیا۔ اب تک اس حوالے سے اٹھائیس لاکھ روپے جمع کیے گئے ہیں، جن میں سے پندرہ لاکھ روپے سے زائد کا حفاظتی سامان اوپن مارکیٹ سے خرید کر ڈاکٹروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ یہ تسلسل جاری رہے کیونکہ ہم صوبائی محکمہ صحت پر انحصار کرکے اپنی زندگیاں خطرے میں نہیں ڈال سکتے ‘‘

بلوچستان میں ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم کے رہنما ڈاکٹرعاشرکہتے ہیں کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بلوچستان کی حکومت صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلا رہی ہے اور عملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے ۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ” جب پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہونا شروع ہوئے تو ہم نے اسی روز ہی حکومت کو اس معاملے کی حساسیت سے آگاہ کر دیا تھا۔ یہاں متعلقہ حکام نے غفلت کا مظاہرہ کر کے نہ صرف عوام بلکہ ڈاکٹروں کی زندگیوں کوبھی داؤ پر لگا دیا۔ اس بے حسی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ یہاں جب چند ایک ڈاکٹروں کو ماسک اور سینیٹائزرز مہیا کیے گئے، تو ان میں بھی اکثر زائد المعیاد نکلے ہیں۔‘‘

ڈاکٹرعاشرکا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کے پروٹوکول کے مطابق حکومت نے بلوچستان میں احتیاطی تدابیر کو یقینی بنانے کے لیے غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ”آگاہی کی کمی کی وجہ سے لوگ اس وائرس سے بچاؤ کے لیے کوئی کردارادا نہیں کر رہے ہیں۔ کورونا سے متاثرہ لوگ ہرجگہ گھومتے دکھائی دیتے ہیں ۔ لاک ڈاؤن پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے ۔ ہسپتالوں میں لوگوں کی لائنیں لگی رہتی ہیں۔ اس حالت میں کس طرح اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹرز ہسپتالوں میں حفاظتی سامان کی کمی کی وجہ سے اس وائرس کا براہ راست شکار بن رہے ہیں ۔‘‘

بلوچستان میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث حکومت نے دارالحکومت کوئٹہ میں تمام شہریوں کا کورونا وائرس ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق کورونا وائرس ٹیسٹنگ کا آغاز وارڈز کی سطح پر کیا جائے گا۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ، ”اس وقت جس تیزی کے ساتھ کورونا وائرس یہاں پھیل رہا ہے اس نے ہمارے لیے یقیناﹰ خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ کوئٹہ کے تمام شہریوں کی ٹیسٹنگ کا فیصلہ ممتاز طبی ماہرین سے مشاروت کے بعد کیا گیا ہے۔ ٹیسٹ سیمپلنگ کے لیے ملکی سطح پر تیار کی جانے والی وی ٹی ایم ٹیسٹنگ کٹس خریدی جائیں گے۔ اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ اور وزیراعلیٰ ڈیلیوری یونٹ کو ٹیسٹ سیمپلنگ کے طریقہ کار کی تیاری کا ٹاسک بھی دے دیا گیا ہے۔‘‘

بلوچستان میں کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کے لیے مطلوبہ کٹس بھی دستیاب نہیں ہیں۔ حکومت کے مطابق دو ارب روپے سے زائد مالیت کا حفاظتی سامان چین سے منگوایا گیا ہے مگر وہ سامان تاحال بلوچستان نہیں پہنچ سکا ہے۔

ادھر بلوچستان میں لاک ڈاؤن کے دوران صوبے بھر میں بندشوں اور دفعہ ایک سو چوالیس کی بھی مکمل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

طبی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حکومت نے بلوچستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ڈبلیو ایچ او کے پروٹوکول کے مطابق سخت ترین انتظامات نہ کئے تویہ صورتحال قابو سے باہر ہوجائے گی۔